اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اگرچہ شمالی عراق کے صوبہ نینوا کو داعشی عناصر سے پاک کر دیا گیا ہے، لیکن عراق میں اس دہشت گرد تنظیم کے جرائم کے آثار ابھی بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
صوبہ نینوا میں ایک ایسی اجتماعی قبر کا انکشاف ہوا ہے جس میں ۶۰۰ عراقی شہریوں کو ایک ساتھ دفن کیا ہوا تھا۔
اس اجتماعی قبر سے انسانی کھوپڑیاں، پھٹے ہوئے کپڑے اور کچھ ہڈیاں اور جوتے دریافت ہوئے ہیں۔
موصل کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہرین طب نے اجتماعی قبر کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں، لیکن عراق میں کورونا وائرس کے پھیل جانے کی وجہ سے اس کام میں نرمی آ گئی ہے۔
اگر لاشوں کی شناخت کے لئے تحقیقات کی ضرورت ہیں، لیکن بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ جون 2014 میں جب موصل داعش کے قبضے میں آگیا تھا تو داعشی عناصر نے جیلوں میں موجود شیعوں کا قتل عام کر کے انہیں ایک اجتماعی قبر میں دفن کر دیا تھا۔
اس اجتماعی قبر میں اب تک فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ، 600 افراد کی لاشوں کے باقیات برآمد ہوئے ہیں جو سبھی شیعوں سے متعلق ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، موصل کی جیلوں میں قید کم از کم 1500 قیدیوں کو یہاں منتقل کر دیا گیا تھا اور ان میں سے صرف شیعوں کا قتل عام کر دیا تھا۔
















۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲