3 مئی 2020 - 03:26
امریکہ-سعودی کشمکش! تیل کی جنگ؛ محمد بن سلمان سعودی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار

سعودی ولیعہد کی طرف سے روس کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر روس کے ساتھ تقابل کے نتیجے میں خلیج فارس کی ساحلی عرب ریاستوں کی یک پیداواری معیشت کو شدید خطرہ لاحق ہے؛ دیکھئے ایرانی معیشت کا تُرَپ کا پتہ کیا ہے؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کورونا نے دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ہے جس طرح کہ اس نے عالمی سیاست اور سیاسی و معاشی مکاتب اور ان کے رویوں اور پالیسیوں کو بھی متاثر کیا ہے اور یہ ایک معقول پیش گوئی ہے کہ "کورونا وائرس تمام تر عالمی پالیسیوں کی سمت بندی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا"۔ کورونا وائرس نے امریکہ اور یورپ کی صنعتی ملکوں کو شدت کے ساتھ متاثر کیا ہے اور بعض ممالک نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں کی ہیں جن میں سے ایک یہ تھا کہ روس اور سعودی عرب نے اچانک اور ایسے حال میں تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے ویسے بھی تیل کی مانگ میں شدت کمی آئی تھی۔ تیل کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے امریکی تیل کی قیمت منفی ہوگئی اور اعلان ہوا کہ اب امریکہ کی تیل کمپنیوں کو تیل کے خریداروں کو رقم بھی ادا کرنا پڑے گی اور کچھ لوگوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہ تک بھی کہا کہ "جاکر تیل خریدتے ہیں، رقم وصول کرتے ہیں اور پھر تیل کو ضائع کرتے ہیں"۔

تیل کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے امریکی معیشت کو نقصان ضرور پہنچا، سعودی خواہش کے مطابق روسی معیشت کو بھی نقصان پہنچا، لیکن امریکہ اور روس کی معیشتیں یک پیداواری نہیں ہیں جبکہ سعودی عرب اور خلیج فارس کی دوسری عرب ریاستوں کی معیشت یک پیداواری ہے اور اس کی واحد بنیاد تیل ہے چنانچہ انہیں شدید ترین مسائل کا سامنا ہے۔ سعودی عرب نے صرف روس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے تیل کی پیداوار میں اضافہ نہیں کیا بلکہ وہ بزعم خود ایران کو بھی اپنا رقیب سمجھتا ہے اور ایران کو بھی نقصان پہنچانا بھی اس کے مقاصد میں شامل تھا اور ایران کی معیشت بھی یک پیداواری نہیں ہے اور عرصہ دراز سے اسے تیل کے شعبے میں پابندیوں کا سامنا ہے اور وہ اپنی معیشت کو تیل کی قید سے رہا کرنے کے لئے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں کافی حد تک کامیاب ہوچکا ہے چنانچہ ایران کے سامنے بھی اس کو شکست اٹھانا پڑی ہے اور اس شکست کا پہلا اور اہم مظہر یمن کی جنگ میں سعودیوں کی پسپائیاں اور جنگ بندیوں کے اعلانات ہیں۔ یعنی یہ کہ تیل کی یہ جنگ کا پہلا نتیجہ یمن سے سعودیوں کی پسپائی کی صورت میں برآمد ہورہا ہے۔

دو ہفتے قبل جب تیل کے تاجران نے شکاگو میں تین ماہ کی مدت کے لئے پیشگی فروخت شدہ تمسکات (pre-sold bonds) سے جان خلاصی کے لئے فیوچرز مارکیٹ میں اپنی تیل کی کھیپوں کو منفی پچیس ڈالر (-25 $) کے عوض خریداروں کو فروخت کرنے پر آمادہ ہوئے، تیل کی منڈی میں پیش آمدہ بحران کی گہرائیاں واضح ہو گئیں۔

اگرچہ اس بحران نے اس وقت امریکی تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کا گریباں پکڑ رکھا ہے اور برینٹ آئل کا اشاریہ (Brent Oil Index) کی خرید و فروخت ابھی تک فی بیرل 20 ڈالر میں ہورہی ہے۔ تاہم تجزیہ نگاروں کی رائے یہ ہے کہ تیل نکالنے والوں کے ذخائر بہت جلد پُر ہونے والے ہیں جس کے بعد تیل کی اصلی منڈی پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹیں گے۔ اس وقت چین کے پاس ایک ارب بیرل تیل کے ذخائر پر ہوچکے ہیں جبکہ چین کے پاس ابھی تک مزید پچاس کروڑ بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش باقی ہے اور منڈی کی صورت حال اور فاضل پیداوار کے پیش نظر یہ گنجائش بھی اگلے دو مہینوں میں پر ہوجائے گی۔

امریکہ میں ذخائر پر ہونے کی وجہ سے سعودی عرب، کویت اور امارات پر ـ گوکہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ـ لیکن چین کے ذخائر پر ہونے سے یہ ریاستیں براہ راست متاثر ہونگی۔ سعودی عرب روزانہ اکیس لاکھ بیرل تیل چین کو فروخت کررہا ہے چنانچہ چین کی گنجائش مکمل ہونے کے پر سعودی عرب کچھ زیادہ ہی متاثر ہوگا۔ البتہ سعودی عرب بھی اور روس بھی امریکہ کو اس صورت حال کے حوالے سے قصوروار ٹہرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کا سبب یہ ہے کہ امریکہ نے شیل آئل اور شیل گیس کی تیل کی صنعت کو ترقی دی ہے اور امریکی کمینیوں میں ایک ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس وقت امریکہ اس صنعت کی ترقی کی وجہ سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کے زمرے میں شمار ہوتا ہے؛ اور یوں سعودی خاندان کے تحفظ اور امریکہ کی تیل کی ضروریات پوری کرنے سے متعلق امریکہ اور سعودی حکومت میں طے پانے والا 65 سالہ کوئنسی معاہدہ (The Quincy Agreement)  در حقیقت اختتام پذیر ہوچکا ہے کیونکہ امریکہ کو مزید سعودی تیل کی ضرورت نہیں ہے۔

گوکہ سعودی عرب نے بظاہر روس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا تھا لیکن اس نے درحقیقت منڈی کو تیل کے سمندر میں ڈبو کر شیل آئل انڈسٹری کی حکمرانی ختم کرنے کا تہیہ کررکھا تھا۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ سعودی اقدام امریکہ میں بعض پٹرولیم لابیوں کے ساتھ شدید تناؤ کا سبب بنا ہے۔ دوسری طرف سے سعودیوں کو معلوم ہوا ہے کہ اس بار اس بحران نے انہیں پہلے سے کہیں زیادہ زد پذیر (vulnerable) کردیا ہے۔

* خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے ڈالر ریزرو کتنے ہیں؟

تیل کے تمام تر بڑے بحرانوں میں جو چیز خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو ہر مشکل سے دور کرتی رہی ہے، وہ ان ریاستوں کے زر مبادلہ کے ذخائر ہیں۔ مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات ـ ایک نئی ریاست ہونے کے باوجود ـ دنیا کی سطح پر ان پہلے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے قومی دولت فنڈ قائم کیا تھا اور اس نے اپنی دولت کے عروج کے موقع پر 900 ارب ڈالر کا ذخیرہ جمع کررکھا تھا۔ سنہ 2009ع‍ میں معاشی بحران پیدا ہوا تو اسی ذخیرے نے دبئی کی معیشت کو ـ جو کہ تیل کی آمدنی پر استوار نہیں تھی ـ نجات دلوائی۔

کویت کے پاس بھی ایسا ہی فنڈ موجود ہے لیکن اس میں زرمبادلہ امارات سے کم ہے اور سعودی عرب نے بھی اکیسویں صدی کے ابتدائی عشرے میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر اپنے زر مبادلہ کے ذخائر کو سنبھالا دینے کی کوشش کی ہے۔ محمد بن سلمان کے معاشی پروگرام سعودی وژن 2030ء کے مطابق طے یہ تھا کہ آرامکو تیل کمپنی کے پانچ ٪ فیصد حصص نجی شعبے کو فروخت کرکے 100 ارب ڈآلر پر مشتمل ایک مالی فنڈ قائم کیا جائے تاکہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کرکے عمومی معیشت میں تنوع پیدا کیا جاسکے۔

اس کے باوجود لگتا ہے کہ سعودی عرب کے نہایت عظیم بجٹ خسارے کے ساتھ ساتھ ـ جو سنہ 2014ع‍ سے آل سعود کےدامنگیر ہے ـ کورونا کی وبا اور سعودی تیل کو لگنے والے شدید اور نئے جھٹکے نے بھی بن سلمان کے منصوبے کی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔

* سعودی ریاست، ایک جدید طرز کا ہوٹل جس کے وسائل ختم ہوچکے ہیں

خلیج فارس کی ساحلی عرب ریاستوں میں سعودی عرب کو سب سے زیادہ اندرونی معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان مسائل اور مشکلات کے ایک بڑے حصے کا تعلق اس سرزمین عرب کا غیرلچکدار قبائلی ڈھانچہ ہے جو اس ملک پر حکم فرما ہے۔ ایک بیرونی مبصر کی رائے میں سعودی عرب کویت، قطر اور امارات کی طرح ایک پر تعيّش ہوٹل ہے؛ یوں کہ اس ملک کے عوام پیدائش کے ساتھ ہی اس ہوٹل میں داخل ہوجاتے ہیں اور صرف ان خدمات کا تقاضا کرتے ہيں جو ان کی حکومت کو تیل کی آمدنی کی مدد سے انہیں فراہم کرتی ہے!

یہاں کام کاج میں مصرف ایک تہائی افرادی قوت بیرونی مزدوروں پر مشتمل ہے اور سعودی شہری کام کاج کی طرف کم ہی راغب ہوتے ہیں۔ حتی کہ جب 2030 سعودی وژن کے تحت غیر ملکی افراد قوت کو ملک سے نکالا جانے لگا، تو سعودی آجروں کو ایسی خدمات کی کثرت کا سامنا کرنا پڑا جن کی انجام دہی سعودیوں کے لئے ممکن نہيں تھی اور سعودیوں کے پاس ان خدمات کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

تیل کی قیمتیں قابل تعریف نہیں ہیں اور طویل عرصے تک تیل کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آرہا اور سعودی عرب کو اپنا بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے عالمی اداروں سے قرض لینا پڑ رہا ہے لیکن اس کے باوجود آرامکو تیل کمپنی وہ اہم ترین ذریعہ ہے جس کو اس ملک کے بجٹ کی اعانت کا فریضہ قبول کرنا ہے۔ سنہ 2011ع‍ میں سعودی عرب نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی برکت سے 560 ڈالر کا سرمایہ کمایا تھا جس کی بنا پر سعودی عرب دنیا کی پہلی 24 معیشتوں کے زمرے میں شمار ہونے لگا۔

اسی عظیم آمدنی سے فائدہ اٹھا کر سابق سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے 160 ارب کی خطیر رقم خرچ کرکے عربی بہار سے اٹھنے والی تحریک کا راستہ روک لیا اور اس تحریک کو اپنی زیر تسلط سرزمین میں داخل نہیں ہونے دیا۔ تاہم اس کے بعد سعودیوں نے دوسری مدوں میں بھی فضول خرچی کا آغاز کیا اور یمن کی جنگ کے لئے تو اس نے امریکی صدر کی مال خوری کی لالچ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے پورا خزانہ ہی لٹا لیا، ـ امارات، کویت اور قطر کے ساتھ مل کر ـ شام اور عراق میں بدامنی پھیلانے کے لئے سعودیوں نے اپنی سازشوں پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ تمام مغربی اور اسرائیلی سازشوں کے مالی اخراجات بھی ادا کئے اور صورت حال یہ ہے کہ اس کے بعد مزید ایسا کوئی امکان نظر نہيں آرہا ہے کہ سعودی حکمران پھر بھی اس طرح کی فضول خرچیاں کرسکیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ تیس برسوں سے سعودی حکمران متعدد پانچ سالہ منصوبوں کے اعلان کے باوجود، اپنی معیشت کو تیل کی آمدنی سے نہیں چھڑا سکے ہیں۔ اس دوران روزگار کے بہت کم مواقع فراہم کئے جاسکے ہیں اور نئی نسل کے سامنے سعودیوں کی معاشی قوت دھوپ کے سامنے برف کی مانند پگھل رہی ہے۔
فی کس آمدنی (Per capita income) کے لحاظ سے سعودی عرب دنیا میں پچپن ویں درجے پر جمہوریہ سیشیلز (Republic of Seychelles) اور بارباڈوس (Barbados) کے ہم پلہ ہے۔ یہ حقیقت سب کے لئے حیران کن ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے اندرونی اخراجات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور سنہ 2035ع‍ تک داخلی اخراجات اس ملک کی تیل کی پیداوار سے بڑھ جائے گی؛ اور ایک راستہ باقی رہتا ہے کہ سعودی عرب وسیع سطح پر گیس کی وسیع درآمدات کو ممکن بنائے۔ سعودی عرب کے پڑوس میں واقع گیس کے دو بڑے ذخائر ہیں جو اس کی دو تزویری رقیب ممالک اسلامی جمہوریہ ایران اور قطر کے پاس ہیں۔ امارات نے تعلقات کی خرابی سے پہلے قطر سے گیس درآمد کرنے کے معاہدے پر دستخط کرلئے تھے لیکن سعودی عرب ابھی تک اس مسئلے کے حل میں ناکام رہا ہے۔

شاید تیل کے علاوہ واحد صنعت جو سعودی عرب میں پنپ سکی ہے پیٹروکیمکلز کی صنعت ہو۔ سعودی کیمیاوی مصنوعات کارپوریشن (Saudi Basic Industries Corporation [SABIC]) یا سابک کیمیا، کو امید ہے کہ سنہ 2025ع‍ میں دس کروڑ ٹن کیمیاوی مصنوعات پیدا کرنے کا ریکارڈ حاصل کرلے۔ تاہم جس چیز نے اس صنعت کی ترقی کو ممکن بنایا ہے وہ تیل اور گیس کی ارزانی تھی۔ تیل اور گیس کی کم قیمت نے چینی کمپنیوں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا ہے۔ پیٹروکیمیکلز میں قابل ذکر ترقی کے سوا، نجی شعبے کی ترقی کے لحاظ سے سعودی حکمرانوں کا ریکارڈ ناگفتہ بہ اور رسوا کن ہے اور بےروزگاری کی شرح 10 فیصد سے بڑھ چکی ہے۔

* امارات اور کویت کی صورت حال سعودی عرب سے بہتر کیوں ہے؟

متحدہ عرب امارات اور کویت کو بھی تیل کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن خلیج فارس کی ان دو عرب ریاستوں کی صورت حال سعودی عرب سے کہیں بہتر ہے۔ متحدہ عرب امارات گذشتہ 20 سالہ عرصے میں علاقے کے سب سے بڑے تجارتی مرکز (Commercial hub) میں تبدیل ہوچکا ہے۔

دبئی نے علاوہ ازیں، ٹرانزٹ، سیاحت، بینکاری صنعت اور بیمہ صنعت میں علاقے میں اعلی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ اگرچہ ابوظہبی کی امارت کو ـ جو تیل پیدا کرنے والی امارت ہے ـ دوسری امارتوں کی نسبت بری صورت حال کا سامنا ہے، لیکن یہ امارت بھی تیل کی آمدنی سے قائم کئے جانے والے عظیم مالی فنڈ کا سہارا لے سکتی ہے۔

کویت کی صورت حال بھی اپنی کم آبادی کے بدولت سعودی عرب سے بہتر ہے۔ گوکہ کویت کو بھی افرادی قوت کے لحاظ سے سعودی عرب جیسے مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود اضافی اخراجات یا عالمی دہشت گردی اور علاقے کے ممالک میں خون خرابے پر پیسہ خرچ کرنے میں احتیاط سے کام لینے کی وجہ سے تیل کی صنعت ابھی تک کویتی بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

چین بھی کویت میں وسیع سطح پر سرمایہ کاری کی ہے اور اس چھوٹی ریاست کی نجی معیشت کو کافی ترقی دی ہے۔ عراق کے قریب کویتی جزیرے "بوبیان" کی تعمیر نو بھی اس چینی سرمایہ کاری میں شامل ہے اور کویت کو امید ہے کہ یوں وہ بلادالحرمین کے مشرقی شیعہ علاقوں اور عراق کے جنوبی علاقوں کے درمیان راہداری میں تبدیل ہوجائے گا۔

* محمد بن سلمان سعودی معیشت کی تباہی کا حقیقی ملزم

اصل سوال یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں آنے والا یہ طوفان سعودیوں کو کن مصیبتوں میں مبتلا کرے گآ؟ ریاض کو درپیش معاشی صورت حال سعودی حکمرانوں کو ایک دفعہ پھر زر مبادلہ کے ذخائر کے استعمال پر مجبور کرسکتی ہے؛ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ شام، لبنان، عراق اور بعض جنوب ایشیائی ممالک میں فتنہ انگیزیوں کے ساتھ یمن پر ظالمانہ اور یکطرفہ جنگ مسلط کرنے کی وجہ سے زر مبادلہ کے ذخائر شدت سے کم ہوچکے ہیں۔

ادھر تمام تر الزامات کا رخ محمد بن سلمان کی طرف ہے؛ ناسمجھ، جذباتی اور نوجوان سعودی ولیعہد جس نے ایک بلڈوزر کی طرح اپنے تمام مخالفین کو ـ بھی اور ان افراد کو بھی جو اس کے مخالف نہیں تھے لیکن طاقتور اور سمجھدار تھے اور ولیعہد اپنی ناسمجھی کی وجہ سے ان کی طاقت اور سمجھ بوجھ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا اور ان سے خوفزدہ تھا، کو بھی ـ کچل ڈآلا ہے۔
محمد بن نائف کی ولیعہدی کے وقت محمد بن سلمان کی بطور ولیعہد تقرری، اور بعد از آن ـ محمد بن نائف کی برخاستگی کے بعد ـ محمد بن سلمان کی بطور ولیعہد تقرری سے اب تک یک شخص اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کروا رہا ہے اور محمد بن سلمان کی نائب ولیعہدی سے لے کر اب تک ـ کہ وہ سعودی بادشاہ کے سیاہ و سفید کا مالک بن چکا ہے ـ سعودی زر مبادلہ کے ذخائر 723 ارب ڈالر سے گھٹ کر 499 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ تیل کی قیمتیں گرنے کے بعد سعودی بجٹ کا خسارہ اس ملک کی ملکی پیداوار کے 27 ٪ تک بڑھ چکا ہے اور تخمینوں کے مطابق سعودی بجٹ کا خسارہ سنہ 2022ع‍ میں ملکی پیداوار کے 50 فیصد تک بڑھ جائے گا۔

فی کس آمدنی کے شعبے میں بھی سعودی عرب کی صورت حال پہلے سے بہت زیادہ نازک ہے۔ مثال کے طور پر فی کس مجموعی گھریلو مصنوعات [فی کس جی ڈی پی] سنہ 2013ع‍ میں 25243 ڈالر تک پہنچتے تھے جبکہ 2018ع‍ میں یہ رقم 23338 ڈالر تک گر گئی تھی اور فی کس آمدنی کی موجودہ صورت حال 2018ع‍ سے بھی زیادہ خراب ہے؛ چنانچہ کہنا چاہئے کہ تیل کی ضیافت ختم ہوچکی ہے۔ سعودی عرب کو اس مشکل سے نمٹنے کے لئے فوری طور پر ٹیکسوں میں شرح میں اضافہ کرنا چاہئے شاید سعودی حکمران اندرونی اخراجات کو کم از کم کرنے کے لئے اقدام کریں۔ لیکن تجربے سے ثابت ہے کہ عملی طور پر ایسا کرنا ان کے لئے ناممکن ہے۔

سعودی عرب کا ڈھانچہ ایک قبائلی ڈھانچہ ہے یا یوں کہئے کہ یہ ملک قبائل کے باہمی اتحاد سے قائم ہوا ہے اور اس اتحاد میں شمولیت کے عوض قومی دولت، بیوروکریسی اور روزگار، تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی وغیرہ میں قبائل کے لئے "کوٹہ" متعین کیا گیا ہے اور اگر اس کوٹے کی خلاف ورزی کی جائے اور قبائل کو دی گئی رعایتوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جائے تو سعودی حکومت کو روایتی عوامی احتجاج سے کہیں بڑھ کر قبائلی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اگلے مہینوں یا اگلے ایک دو برسوں میں اس حوالے سے سعودی حکمران بہت سنجیدہ مسائل سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

* تیل کے بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں ایران کی کارکردگی سعودیوں سے بہتر ہوگی؛ لیکن کیسے؟

روس کے ساتھ تیل کی پیداوار کے حوالے سے تقابل سے سعودی ایران کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا تھا لیکن سعودیوں کے لئے بری خبر یہ ہے کہ نہ صرف سعودی ولیعہد اپنے ہی پیدا کردہ تیل کے سیلاب میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہے بلکہ خلیج فارس میں اس کا طاقتور شمالی رقیب ملک ایران اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے زیادہ تیاری کئے بیٹھا ہے۔ ایران پر ظالمانہ امریکی پابندیاں لگیں تو سعودی اور اماراتی قبائلی حکمرانوں نے پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھے بغیر خوب جشن منایا اور نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ ایرانی تیل کے خریداروں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے تیل کی پیداوار میں اضافہ بھی کیا چنانچہ گذشتہ دو برسوں سے ـ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور ایرانی تیل پر پابندیوں کی وجہ سے ـ یہ ملک تیل کی آمدنی سے محروم ہوچکا تھا۔ اگرچہ امریکہ اور اس کے عالمی اور علاقائی حواریوں کی طرف سے پابندیوں کے نام پر اس معاشی دہشت گردی کے نتیجے میں ایران کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور ایران میں بیرونی زر مبادلہ کا بھاؤ 4 گنا ہوگیا لیکن امریکہ اور اس کے حواریوں نے اپنی دہشت گردی کے ذریعے تیل کی پیداوار سے آزاد قومی معیشت کے سلسلے میں ایران کے 40 سالہ خواب کو شرمندہ تعبیر کردیا۔

اور یوں آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے مطابق اور سنہ 2020ع‍ میں ایران کی معیشت مثبت معاشی نمو کا تجربہ کرے گی حتی کہ سنہ 2019ع‍ میں بھی ـ تیل کی آمدنی سے آزاد ـ شعبے میں ایرانی تیل کی صنعت کی نَمُو  جزوی طور پر مثبت رہی ہے۔

تیل کی آمدنی کی کمی سے جنم لینے والی صورت حال کا ایک بڑا ثمرہ ایران کے لئے یہ تھا کہ اس ملک نے ایک وسیع ٹیکس کا نظام مرتب کیا؛ وہی سسٹم جس کی آرزو سعودی عرب میں بھی پائی جاتی ہے لیکن اس کو عملی شکل دینا ابھی تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ علاوہ ازیں ایران کے پاس معاشی تنوع کی وسیع صلاحیت موجود ہے، یہاں زراعت ہوتی ہے اور تقریبا ہر قسم کی دوسری صنعتیں موجود ہیں، ایران کے پاس وسیع و عریض اور زرخیز زرعی زمینیں موجود ہیں جبکہ سعودی عرب کے پاس ایران سے زیادہ وسیع رقبہ ہونے کے باوجود، قابل کاشت زمینوں کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ ایران کی زرعی زمینیں ملک کو غذائی خودکفالت کا امکان فراہم کرتی ہیں۔ سعودی عرب نے بھی ماضی میں زیر زمین آبی ذخائر کو بروئے کار لاکر گندم کی پیداوار میں خودکفالت کی کوششیں کی تھیں جو زیر زمین آبی ذخائر کے خاتمے کے ساتھ ہی مکمل طور ناکام ہوئیں اور اس وقت سعودی عرب مغربی ایشیا میں عراق کے بعد غذائی مواد کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک سمجھا جاتا ہے۔

* تزویراتی توازن ایران کی طرف پلٹتا ہے

اس پیش نگاہ کو دیکھ کر کوئی بھی مبصر اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ خلیج فارس کے حاشیے پر واقع قبائلی شیوخ کی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تزویراتی توازن (Strategic balance) رفتہ رفتہ بگڑ رہا ہے۔ شاید اس عدم توازن کی بعض نشانیوں کو اب ہی سے دیکھا جاسکتا ہے۔

سعودی عرب یمن کی دلدل سے نکلنے اور اس جنگ کے ہولناک اخراجات سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے لیکن جس طرح کہ اس نے کسی پیشگی حکمت عملی کے بعد اس جنگ کا آغاز کیا تھا، اسی طرح جنگ کے خاتمے کے لئے بھی اس کے پاس حکمت عملی کا فقدان ہے؛ وہ جنگ بندی چاہتا ہے اور جنگ بندی کا یک طرفہ اعلان بھی کرتا ہے لیکن پھر خود اس جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے کیونکہ جنگ کے بعد مذاکرات کے لئے اس کے ہاتھ خالی ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے بھی ـ مغرب کا زوال محسوس کرکے ـ ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کردیا ہے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بہانے امارات کے ولیعہد محمد بن زائد نے شام کے صدر ڈاکٹر بشار الاسد کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کرکے کورونا سے نمٹنے کے لئے اس ملک کو امداد کی پیشکش کی ہے اور سعودی عرب کا واحد تزویراتی حلیف بھی گویا کہ سعودی حکام سے دوری کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔

اس میں شک نہیں ہے کہ تیل کا بحران اسلامی جمہوریہ ایران اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے درمیان کے سارے مسائل حل نہیں کرسکتا لیکن عین ممکن ہے کہ ان عرب ریاستوں بالخصوص سعودی عرب کے حکمرانوں کو عقلیت کی طرف پلٹا دے۔

مابعد کورونا کی صورت حال کے بارے میں مختلف قسم کی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں تاہم مغربی ایشیا میں مابعد کورونا کا زمانہ تصورات سے زیادہ قریب ہے اور یہ زمانہ "مابعد امریکہ" کا زمانہ بھی ہوسکتا ہے؛ جس میں قومی اور ملکوں کے مقدرات کا فیصلہ کسی نام نہاد طاقت سے وابستگی کے سہارے ممکن نہ ہوگا۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: مهدی پورصفا
تمہید، ترجمہ و تشریح: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


110