22 مارچ 2020 - 09:31
پاکستان، کورونا اور شیعہ زائرین / قرنطینہ یا پھر قرون وسطی کا عقوبت خانہ

حکومت پاکستان نے کورونا وائرس کو عرصے سے چھپا رکھا ہے اور چونکہ پاکستان چین کا پڑوسی ملک ہے اور ان دو ملکوں کے درمیان سرحدوں پر لوگوں کی آمد و رفت مسلسل جاری رہتی ہے لہذا ایران سے بہت پہلے کورونا وائرس پاکستان میں منتقل ہوچکا تھا؛ گوکہ اس نے ووہان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو کورونا کے سپرد کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ "ہمارے لئے اپنے عوام کے بچے تک کوئی اہمیت نہیں رکھتے، ہم تو بس کورونا کو ملک میں نہیں آنے دیں گے" لیکن دنیا کے 180 سے زائد ممالک جو اس وقت کورونا میں مبتلا ہیں، بھی کورونا کو اپنی سرزمینوں میں نہیں آنا چاہتے تھے اور ان میں سے اکثر ممالک چین سے ہزاروں میل دور بھی تھے، لیکن آج ہم دنیا بھر کے اکثر ممالک میں کورونا کی جولانیوں کے عینی شاہد ہیں؛ بہرحال سعودیہ اور ترکی کی طرح پاکستان نے بھی بہتیری کوشش کی اپنے ملک میں کورونا میں مبتلا افراد کو دنیا کی آنکھوں سے دور رکھا جائے ورنہ تو 22 کروڑ کا ملک جو چین کا پڑوسی ہے، اس وائرس سے کہاں بچ کر رہ سکتا ہے؟

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا، حکومت کو معلوم تھا کہ کورونا ایک خوردبینی مخلوق ہونے کے باوجود ایک بھوت کی طرح کسی دن ضرور باہر آئے گا [بقولے بلی تھیلے سے ایک دن ضرور باہر آئے گی] اور دنیا کو معلوم ہو ہی جائے گا کہ یہ ملک بھی کورونا سے محفوظ نہیں ہے اور یہ راز آخرکار طشت از بام ہوہی جائے گا، چنانچہ خدا کی رضا و خوشنودی کے بجائے ایم بی ایس (محمد بن سلمان) اور ایم بی زیڈ (محمد بن زاید) اور ان کے آقا ٹرمپ کی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے، دنیا بھر کے معمول کے اخلاقی قواعد و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے نام لے کر یحیی جعفری کو پاکستان میں کورونا میں مبتلا پہلے شخص کے طور پر پیش کیا گیا اور تکفیری ٹولوں کو تشہیری خوراک فراہم کی گئی۔ کہا گیا کہ یحیی جعفری ایران سے آیا تھا اور وہ کورونا میں مبتلا ہے۔ لیکن سازشیوں کو حقیقی خفت کا اس وقت سامنا ہوا جب تمام ٹیسٹوں سے واضح ہوا کہ یحیی جعفری بالکل تندرست اور صحیح و سالم ہیں اور یہ تو وہابی تکفیریت اور امریکی کٹھ پتلیوں کے کٹھ پتلی حکمرانوں کی سوچ اور جسم و جان ہے جس میں تعصب اور منافقت کے کورونا وائرس نے رسوخ کرلیا ہے اور ان کی آنکھوں پر تعصب کے پردے ڈال دیئے ہیں۔
یہاں ایک وضاحت بہت اہم اور ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا کے دو باشندوں کو کل کورونا وائرس کے نتیجے میں مرنے والے پہلے دو پاکستانی شہریوں کے طور پر سامنے لایا گیا اور باعث خفت مسئلہ یہ رہا کہ ان میں سے ایک سعودی عرب سے آیا تھا اور دوسرا ترکی سے؛ یعنی ان دو ممالک سے جن کی پاکستان میں تقدیس اور تنزیہ ہوتی ہے اور یہاں کے حکمران وہاں کے حکمرانوں کے مرید اور عقیدتمند یا دست نگر ہیں۔ تو پھر ایران سے آنے والے زائرین کو کیوں تنگ کیا جاتا ہے؟ کیا کفر و شرک کے علمبرداروں اور ان کے کٹھ پتلیوں کی خوشنوی کے سوا اور کوئی بھی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے عمران نیازی سرکار نے یہ پالیسی اپنا رکھی ہے؟ ہر مسلمان کو یقین ہے کہ مکافات عمل سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گا اور "زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے"۔
چلئے ہم مان لیتے ہیں کہ چونکہ ایران میں بھی دوسرے ممالک کی طرح کورونا وائرس موجود ہے اور جو پاکستانی شہری یہاں سے اپنے ملک واپس چلے جاتے ہیں انہیں قرنطینہ میں رکھنا چاہئے؛ لیکن کیا تفتان ہی اس حساس کام کے لئے مناسب مقام ہے؟ سرکار پاکستان نے تفتان کے غیر آباد رگستانی ماحول ماحول میں چند خیمے لگا کر لوگوں کو وہاں قید کرنا، قرنطینہ کیونکر کہلائے گا؟ جہاں نہ تو پانی ہے، نہ کھانے پینے کی اشیاء ہیں، نہ کافی شافی غسل خانے حتی کہ بیت الخلائیں ہیں، نہ علاج معالجے اور ٹیسٹوں وغیرہ کا انتظام، تو کیا اس کو قرنطینہ کہنے کے بجائے قرون وسطی کا عقوبت خانہ کہنا بہتر نہیں ہوگا جہاں اگر قرنطینہ میں رکھے جانے والے مسافروں اور زائرین اگر موجودہ نقائص اور سرکاری گماشتوں کی بدسلوکی پر تنقید کریں تو ان پر گولی چلائی جاتی ہے؟ کیا قارئین حضرات میں سے کسی نے آج تک سنا یا پڑھا ہے کہ قرنطینہ کا کام ادارہ صحت کے کارکنوں کے بجائے فوجی یا نیم فوجی دستوں کے سپرد کیا گیا ہو اور قرنطینہ میں رکھے جانے والے ممکنہ مریضوں پر گولی چلائی گئی ہو؟ کیا یوٹرن پر کاربند مدنی ریاست کے کرتے دھرتوں کو معلوم نہیں ہے کہ تفتان میں اہل بیت رسول(ص) کے زائرین کو درحقیقت ٹارچر کیا جارہا ہے؟
چند روز قبل جب عمران خان نیازی سے اس بارے میں سوالات پوچھے جارہے تھے تو ان کے جوابات سے صاف واضح تھا کہ وہ زائرین کے حبس بےجا میں رکھنے کے اس شرمناک قضیئے سے باخبر ہی نہیں بلکہ انھوں نے خود ہی اس سے متعلق احکامات جاری کئے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ زائرین سے ایسا کونسا جرم سرزد ہوا ہے کہ انہیں اتنی کڑی سزا دی جارہی ہے جبکہ ان کے درمیان بچے، بوڑھے اور خواتین کی اچھی خاصی تعداد بھی ہوتی ہے اور ان میں کئی لوگ پاکستان کے تمام شہریوں کی طرح مختلف قسم کے امراض میں بھی مبتلا ہوتے ہیں؛ اور وہ بھی ایسے حال میں کہ اب ثابت ہوچکا ہے کہ کورونا وائرس بنی سعود (وہابی) رجب طیب اردوان (اخوانی) کے زیر تسلط سرزمینوں سے آیا ہے اور آج تک متعصب حکمران ثابت نہیں کرسکے ہیں کہ کورونا وائرس میں مبتلا کوئی بھی مریض ایران سے آیا ہو یا ایران سے آنے والا کوئی ایک بھی زائر کورونا میں مبتلا ہو۔
دنیا بھر کا اعتراف ہے کہ کورونا وائرس سب سے پہلے پاکستان کے دوست پڑوسی ملک چین میں نمودار ہوا ہے لیکن سعودیہ کے ماتحتوں کا اب بھی مسلسل اصرار ہے کہ نہیں جی وائرس ایران سے آرہا ہے! اور چونکہ ابھی تک یہ دعوی ثابت نہیں ہوسکا ہے لہذا پاکستانی حکمرانوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح ثابت کیا جاسکے کہ کورونا میں مبتلا کوئی ایک مریض ایران سے بھی آیا ہے!!!
یہاں ایک اہم مسئلہ ـ جسے سعودی عرب، ترکی، امارات، بحرین، پاکستان میں بھی اور آنکھیں بند کرکے یہودی ریاست کے پیروکاری میں مگن تکفیری ٹولوں کے درمیان بھی بالکل نظر انداز کیا جارہا ہے ـ یہ ہے کہ کورونا وائرس امریکی تجربہ گاہوں میں تیار ہونے کا بھی قوی امکان موجود ہے اور چینی حکام اور بعض ایرانی سائنسدانوں نے یہ تک کہا ہے کہ ان کے پاس ایسی دستاویزات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی فوجیوں نے کورونا وائرس ووہان میں منتقل کیا ہے۔ متعدد سفارتکاروں اور روسی، امریکی اور یورپی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کورونا وائرس امریکی تجربہ گاہوں میں تیار کیا گیا ہے۔ ایران کی مسلح افواج نے کورونا وائرس کو حیاتیاتی جنگ کا ممکنہ امریکی اوزار قرار دے کر اس سے نمٹنے کے لئے حیاتیاتی دفاعی مشقوں کا اہتمام کیا ہے؛ اور ادھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اٹلی میں کورونا وائرس کے طوفان کا سبب اس ملک میں قائم امریکی فوجی-دہشت گردی کے وہ اڈے ہیں جہاں سے امریکی طیارے اور ڈرون مختلف ممالک میں کورونا وائرس پھیلانے کے لئے پرواز کرتے ہیں اور واپس آکر ان ہی اڈوں میں اترتے ہیں اور اس حوالے سے اگلے ایام میں مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان بالکل واضح ہے۔
پاکستانی حکمرانوں سے سوال یہ ہے کہ جب کوئی آفت ظہور پذیر ہوتی ہے تو کیا حکمرانوں کی ذمہ داری یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ یہ آفت کہاں سے آئی یا پھر ان کا دیانتدارانہ فرض عین ہوتا ہے کہ عوام کے بچاؤ کا انتظام کریں اور آفت کا سد باب اور صحیح اعداد و شمار کا اعلان کرکے سد باب کا بروقت اور مؤثر بندوبست کیا جاسکے؟
البتہ یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ جس طرح کہ عالمی بینک کی طرف سے 50 ارب ڈالر کی امداد کورونا زدہ ممالک کو دینے کا اعلان ہونے کے بعد نیازی صاحب کے مرشد "رجب طیب اردوان" نے اپنے ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد کا اعلان کرنا شروع کیا، نیازی صاحب بھی پاکستان میں کورونا میں مبتلا مریضوں کے صحیح اعداد و شمار واضح کرنا شروع کریں گے! لیکن آج تک جو کچھ ہورہا ہے اس میں گویا پوری قوت کو بیرونی آقاؤں کی مرضی کے مطابق اہل بیت رسول(ص) کے زائرین پر مرکوز کیا گیا ہے جس سے پاکستان کے شیعہ باشندوں کو بہت زیادہ اذیت پہنچ رہی ہے اور حکومت اور نظام حکومت اور وزیر اعظم ہاؤس کے پانچ سالہ کرایہ داروں کو کوئی بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے؛ سوا اس کے کہ ایم بی ایس اور ایم بی زیڈ کی مرضی ہوئی کسی وقت تو شاید وہ نیازی صاحب کو انہیں خالی خولی "آفرین" کہہ دیں گے؛ لیکن تاریخ بھی کمزور بلا ارادہ، ضعیف النفس اور کسی کی زبانی تعریف وصول کرنے کی خاطر ملک کے وسیع تر مفاد کو بھولنے والے حکمرانوں کو کبھی نہیں بھولا کرتی بلکہ تاریخ کا حافظہ انہیں یاد رکھتا ہے اور اگلی نسلیں کبھی بھی ایسے لوگوں کو اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا کرتیں۔
حکومت پاکستان کو تجویز ہے کہ اخلاص کے ساتھ کورونا کا مقابلہ کریں، شیعیان آل رسول(ص) کو ایذائیں پہنچا کر قومی رائے عامہ کو گمراہ کرنے سے باز آئیں، اصل موضوع پر اپنی توجہ مرکوز کریں، ورنہ خدا نخواستہ بہت بڑا المیہ اس گنجان آباد مسلم ملک میں رونما ہوسکتا ہے، وہی المیہ جس نے اٹلی کے وزیر صحت کو "زمین کی ناکامی" کے اعتراف اور "آسمان کی طرف توجہ" دینے کی ضرورت کے اظہار پر آمادہ کیا ہے اور آج کی رپورٹوں سے معلوم ہوا کہ اٹلی میں وسط جنوری سے کورونا وائرس نے اپنی جولانیوں کا آغاز کیا تھا لیکن حکومت نے غفلت برتی اور اب قبرستان میں جگہ نہیں ہے اور کورونا وائرس کا شکار ہوکر مرنے والے اطالویوں کی لاشوں کو شمشان گھاٹ میں نذر آتش کیا جانے لگا ہے۔
۔۔۔۔۔
ابو اسد