اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بغداد میں امریکی سفارتخانے اور گرین زون پر میزائل حملوں کے بعد حزب اللہ عراق کے سرکاری فوجی ترجمان ’جعفر الحسینی‘ نے کہا کہ امریکی سفارتخانے پر حملے عراق اور عراقی عوام کے خلاف امریکی دھشتگردانہ اقدامات کا فطری ردعمل ہیں۔ البتہ حالیہ حملوں میں سعودی عرب اور عرب امارات کا خفیہ کردار بھی ممکن نظر آتا ہے۔
حزب اللہ بٹالین کے ترجمان نے کہا: "اگر عراق میں اسلامی مزاحمت امریکی اڈے پر کوئی حملہ کرنا چاہتی تو وہ کھلے عام اور واضح طور پر اس کا اعلان بھی کرتی، یہ ایسا فعل ہے جو ہم ۲۰۰۳ سے ۲۰۱۱ تک دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے عراق میں امریکہ یا امریکی فوج کے خلاف اگر کوئی اقدام کیا تو ہم نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
جعفر الحسینی نے مزید کہا: "یہ حرکتیں تخریب کاری کی کاروائیوں کے مطابق ہوسکتی ہیں جو سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات کررہے ہیں، اور دونوں ممالک عراقی عوام کے مظاہروں کے دوران فسادیوں کی حمایت کر رہے ہیں، لہذا اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ امریکی سفارتخانے پر حملے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ملوث تھے۔ تاکہ عراقی حکومت پر دباؤ ڈالیں اور امریکہ کو عراقی مزاحمت یا قوم کو نشانہ بنانے کا جواز فراہم کریں۔ لہذا ہم اس آپریشن کے بارے میں جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ فطری رد عمل ہے اور اگر یہ حملہ مزاحمت کی جانب سے ہوتا تو ہم اس کی ذمہ داری قبول کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مزاحمت کوئی ایسا اقدام کرتی تو وہ محدود حملہ نہ ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲