21 جنوری 2014 - 20:30
داعش کےتکفیری کےاعترافات/ دہشت گرد مفتی ہلاک/ لبنانی لڑکی کو شہادت کی خبر تھی

جیل میں جہاد، یعنی مردوں اور عورتوں کو کوڑے مارنا وہابی جہاد کی ایک شکل اور/ دہشت گرد مفتی ہلاک/ شیخ البوطی: ہتھیار اٹھانے والےواپس آرہےہیں/ دمشق ـ شمال فضائی روٹ ایک سال بعد بحال/ غوطہ شرقیہ میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا عنقریب/ نوجوان لبنانی لڑکی جس کو اپنی شہادت کی خبر تھی + تصاویر

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق داعش سے الگ ہونے والے ایک دہشت گرد کا کہنا ہے کہ اس کو "جیل میں جہاد" یعنی "قیدیوں کو زد و کوب کرنے" کا مشن سونپا گیا تھاتکفیری تنظیم داعش کے ایک دہشت گرد نے اپنے اعترافات کے ضمن عجیب "جہادی مشن" کا ذکر کیا اور کہا: میرا کسی اور مقصد سے داعش میں شامل ہوکر شام میں آیا تھا لیکن جو مشن مجھے سونپا گیا تھا وہ میرے اصل مقصد سے متصادم تھا۔ اس شخص نے ـ جو بظاہر داعش سے الگ ہوچکا ہے اور ایک عرب ریاست کا باشندہ ہے ـ الآن ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: میں نے داعش (دولۃالاسلامیہ في العراق والشام) میں شامل ہوا اور شام آگیا لیکن مجھے میدان جنگ بھجوانے کے بجائے ہدایت ملی کہ داعش کی جیل کا جیلر بنوں اور میں نے امیر کا حکم مان لیا؛ اس نے مجھے ہدایت کی تھی کہ قیدیوں کو کوڑے لگاؤ چاہے وہ مرد ہوں چاہے خواتین ہوں؛ اور یہ وہی مسئلہ ہے جس کو میں کبھی نہيں بھلا سکوں گا۔ اس کا کہنا تھا: میں داعش کے ہاتھوں قید کئے جانے والے افراد سے تفتیش نہيں کرتا تھا اور ان سے کچھ بھی نہیں پوچھتا تھا بس میں انہيں مارتا پیٹتا تھا؛ بعض افراد کو 80 کوڑے مارتا تھا اور بعض کو 40! عورت اور مرد میں کوئی فرق نہ تھا؛ اور میرے اس اقدام کا نام تھا "جہاد جیل کے اندر"!۔ دوسری طرف سے اطلاعات کے مطابق داعش نے شمال مشرقی شہر الرقہ میں انتہا پسندانہ تکفیری اور وہابی معیاروں کو نافذ کردیا ہے؛ لڑکیوں اور خواتین پر لازم ہے کہ نقاب اور دستانے پہنیں؛ لوگ اذان سے قبل دکانیں بند کریں اور نماز جماعت لازمی طور پر پڑھیں اور اگر کوئی خلاف ورزی کرے تو اس کو لوگوں کے سامنے لا کر کوڑے مارے جاتے ہیں۔ رقہ میں داعش نے شبنامے شائع کرکے لوگوں کو زندگی کے وہابی معیاروں سے آشنا کردیا ہے اور اس کے بعد جو خواتین یا لڑکیاں "حجاب کوڈ" کو ملحوظ نہ رکھے اس کو اپنے باپ یا بڑے بھائی یا چچا ماموں کے ہمراہ وہابی ـ تکفیری مرکز میں لایا جاتا ہے اور دونوں کو شدید ترین سزائیں دی جاتی ہیں۔ (Code of Wahabi School)۔

شام: دہشت گرد مفتی ہلاک/ شیخ البوطی: ہتھیار اٹھانے والےواپس آرہےہیںحلب میں نام نہاد "آزاد آرمی" کا مفتی ابو معاذ المصری سرکاری افواج کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوگیا ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ـ جنیوا 2 کانفرنس شروع ہوچکی ہے، سرکاری فوجوں نے مختلف علاقوں میں مختلف دہشت گرد ٹولوں کے ساتھ جنگ بندی کا آغاز کیا ہے تاکہ جہاں تک ممکن ہو قتل و غارت اور خونریزي کا تدارک کیا جاسکے۔ دریں اثناء بہت سے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف سرکاری افواج کی کاروائیاں جاری ہیں؛ حلب میں النیرب ہوائی اڈے کے قریب بھی جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ العزیزہ کے علاقے میں سرکاری فوجی دستے دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ ادھر "علمائے بلاد الشام ایسوسی ایشن" کے سربراہ "محمد توفیق البوطی نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: اپنے بھائیوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں میں سے بہت سے افراد راہ راست پر آئے ہیں اور یہ شام کے روشن مستقبل کے لئے اچھی ضمانت ہے۔

تفصیل کے لئے رجوع کریں:

شام: دہشت گرد مفتی ہلاک/ شیخ البوطی: ہتھیار اٹھانے والےواپس آرہےہیں

دمشق ـ شمال فضائی روٹ ایک سال بعد بحال جنیوا میں مذاکرات شروع ہونے کے پہلے دن ہی شام کی سرکاری افواج نے حالیہ عسکری کامیابیوں اور حلب ایئرپورٹ کے اطراف کو پرامن بنانے کے بعد کل (بدھ کے 22 جنوری 2014) کو ـ ایک سال کے بعد ـ شام کا ایک سول طیارہ اس ایئرپورٹ پر اترا اور حلب کے مقامی حکام نے ایئرپورٹ میں اس کا استقبال کیا۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حلب ائیرپورٹ نے گذشتہ ایک سال سے ـ نواحی علاقوں پر دہشت گردوں کے قبضے اور ائیرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچن کے بموجب ـ اپنی سروسز بند کردی تھی اور بدھ کے دن ایک سول طیارہ اس ائیر پورٹ پر اترا اور یوں حلب ایئرپورٹ کو دوبارہ بحال کردیا گیا۔

تفصیل کے لئے رجوع کریں:

دمشق ـ شمال فضائی روٹ ایک سال بعد بحال

شام: غوطہ شرقیہ میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا عنقریب شامی افواج نے غوطہ شرقیہ میں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد اس علاقے میں کافی حد تک پیشقدمی کی ہے اور اس علاقے میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی افواج نے دمشق کے نواح میں غوطہ الشرقیہ کے دو قصبوں "القاسمیہ اور الرمانیہ" میں جبہۃالنصرہ اور جبہۃالاسلامیہ نامی دو تکفیری دہشت گرد تنظيموں کا مکمل صفایا کردیا ہے۔ فوج کی پیشقدمی جاری ہے اور متعدد علاقوں پر فوج کا کنٹرول بحال ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود البلالیہ اور النشابیہ نیز کئی دوسرے علاقوں میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے اور فوجی دستے ان علاقوں کو مکمل طور پر تکفیری دہشت گردوں کی غلاظت سے پاک کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ ان علاقوں کی آزادی درحقیقت دہشت گردوں کی تابوت میں ایک اور کیل ثابت ہوگی اور ان علاقوں میں دہشت گردوں کا صفایا ہونے کے بعد ان ٹھکانوں میں بھی سرکاری رٹ بحال ہونا ممکن ہوجائے گا جن پر حال ہی میں دہشت گردوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔

تفصیل کے لئے رجوع کریں:

شام: غوطہ شرقیہ میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا عنقریب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لڑکی جس کو پہلے سے اپنی شہادت کی خبر تھی + تصاویرویسے تو بیروت کے جنوب میں منگل کے روز تکفیری دہشت گردوں کے کار بم دھماکے میں شہید ہونے والے تمام افراد کی داستان ہمارے لئے غم انگیز ہے لیکن ماریا الجوہری کی داستان مختلف ہے۔ اس نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ "تکفیری دہشت گردوں کے چوتھے حملے میں شہید ہوجاؤں گی"۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایشیا نیوز ویب سائٹ نے لکھا: ماریا الجوہری نے شارع العریض میں تکفیری دہشت گردوں کے تیسرے دہشت گردانہ حملے کے بعد فیس بک ٹائم لائن پر لکھا: یہ دہشت گردوں کا تیسرا دھماکہ ہے جس سے میں بال بال بچ گئی ہوں، میں کچھ نہیں جانتی شاید چوتھے حملے میں شہید ہوجاؤں، کافی غم محسوس کررہی ہوں۔

تفصیل اور تصاویر دیکھنے کے لئے رجوع کریں:

نوجوان لبنانی لڑکی جس کو پہلے سے اپنی شہادت کی خبر تھی + تصاویر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭