اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق دہشت گرد ٹولوں کے درمیان تازہ ترین جھڑپوں میں 60 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ شام دشمن تنظیموں کے ہمدرد ادارے "سیرین ہیومین رائٹس واچ" نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک طرف سے داعش اور دوسری طرف سے جبہۃالاسلامیہ اور جیش المجاہدین نامی تنظیموں کے درمیان ہونے والی تازہ ترین لڑائیوں میں فریق تنظیموں کے 60 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ لندن میں تعینات مذکورہ ادارے نے کہا ہےکہ یہ افراد حلب، الرقہ، ادلب اور حماہ میں گاڑیوں پر حملوں اور کار بم دھماکوں کے ذریعے مارے گئے گوکہ ان تنظیموں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں مرنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ان اطلاعات کی تصدیق نہيں ہوسکی ہے۔ ان افراد میں وہ سات افراد بھی شامل ہیں جنہیں داعش نے ـ ادلب کے نواحی علاقے "حارم" میں ان کے ٹھکانے کا محاصرہ کرنے کے بعد ـ ہلاک کردیا تھا جبکہ داعش نے ایک مسلح گروہ کے نائب کمانڈر کو الکلاسہ میں ہلاک کردیا ہے۔ شام دشمن تنظیموں کے ایک قریبی ذریعے نے باتا ہے کہ داعش کو ادلب میں باب الہوی ـ اطمہ شاہراہ سے پسپا ہونے پر مجبور کیا گیا ہے اور حلب کے بعد یہ علاقہ بھی داعش سے خالی کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ داعش کو القاعدہ کی نافرمانی کے بعد امریکہ، سعودی عرب، قطر، ترکی اور اخوان المسلمین کے شدید ترین حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دریں اثناء داعش نے بعض ٹھکانے چھوڑ دیئے ہیں اور ان ٹھکانوں میں موجود داعش کے دہشت گرد القاعدہ کی حمایت یافتہ تنظیم جبہۃالنصرہ میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق داعش ادلب میں الدانا کے نزدیک "ترمانین" کے علاقے میں بھی اپنا اڈا چھوڑنے پر مجبور ہوگئی ہے جبکہ جبہۃالنصرہ نے الدانا میں داعش کے اڈوں کو اپنے کنٹرول میں لینے سے انکار کردیا ہے گویا حلب میں داعش پر خونی حملے کرنے کے باوجود جتانا چاہتی ہے کہ اپنی ہم عقیدہ تکفیری جماعت کے مکمل خاتمے کی خواہاں نہیں ہے! لیکن آقاؤں کا فیصلہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
11 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 495397
شام کے خلاف برسرپیکار دہشت گرد ٹولوں کے باہمی تصادم کے نتیجے میں مزید ساٹھ دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں۔