اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کی افواج نے دارالحکومت دمشق کے مغربی نواحی علاقے "داریا" میں کاروائی کرکے سیدہ سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کو دہشت گردوں سے آزاد کرایا ہے اور العالم کی ٹیم سب سے پہلی ٹیم تھی جو حرم میں داخل ہوکر وہاں کی تصویریں بھجوادیں۔ اطلاعات کے مطابق حرم کے گنبد اور اس کے اندرونی حصوں کو تکفیری دہشت گردوں نے بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ العالم کے مقامی ڈائریکٹر نے حرم سیدہ سکینہ(س) سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا: شہر "داریا" سیدہ سکینہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کے حوالے سے عالمی شہرت کا حامل ہے تاہم تکفیریوں نے اس شہر پر قبضہ کیا تو اس شہر کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں شدید ترین جھڑپیں ہوئی اور مسلح تکفیری دہشت گردوں نے حرم میں داخل ہوکر اس کو بھاری نقصان پہنچایا اور اس کو اپنے ہیڈکوارٹر میں بدل دیا۔

اس رپورٹ کے مطابق شامی فوجی دستوں نے داریا میں دہشت گردوں کاصفایا کرتے ہوئے انہیں حرم سے دور رکھنے کے لئے اس کے گرد ایک سیکورٹی حلقہ تشکیل دیا ہے۔ شامی فوج کے ایک افسر نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ہم اپنے ملک اور ان مقدس مقامات کا دفاع کررہے ہیں اور حرم مطہر اور اس کے اطراف کے علاقوں پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے اور تکفیری گروپوں کے کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ حسین مرتضی کا کہنا تھا کہ سرکاری فوجی دستوں نے گھروں میں بنائی گئی سرنگوں اور خندقوں سے گذر کر دہشت گردوں کو اچانک آلیا اور حرم مطہر میں موجود دہشت گردوں کو محاصرے میں لیا اور جب دہشت گرد فرار ہونے کے لئے حرم سے باہر نکلے تو انہيں فوجوں دستوں کا نشانہ بن گئے۔ حسین مرتضی نے کہا کہ حرم کا زیریں حصہ مسلح تکفیریوں کے ہاتھوں تباہ ہوچکا ہے اور اس کے اندر موجودہ اشیاء کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس مقدس مقام پر متعدد بم موجود ہیں جو سرکاری دستوں کی پیشقدمی کو سست کرنے کے لئے یہاں پھینکے گئے ہیں جس کی وجہ سے حرم کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سرکاری دستے اس علاقے کا کنٹرول ہاتھ میں لینے اور شہر کی اہم عمارتوں کو دہشت گردوں سے چھڑا لینے کے بعد اپنی کاروائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور داریا کے نواح تک پیشقدمی کی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭