8 جنوری 2014 - 20:30
پیوٹن: رہبر معظم کا کردار جوہری مفاہمت میں مؤثر رہا/ روحانی: دہشتگردی کےخلاف جنگ میں تعاون کریں گے

صدر پیوٹن نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی کے تعمیری کردار نے ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری مفاہمت تک پہنچنے میں مدد کی/ جنیوا 2 کانفرنس میں ایران کی غیرمشروط شرکت کے حامی ہیں۔ صدر روحانی: روس کے ساتھ اسٹراٹجک اور طویل المدت تعلقات چاہتے ہیں/ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس کے ساتھ تعاون کریں گے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ رپورٹ کے مطابق روسی وفاق کے صدر ولادیمیر ولادیمیرووچ پیوٹن (Vladimir Vladimirovich Putin) نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کرکے کہا: ایران کو عالمی و علاقائی سیاست کے اہم کھلاڑی کے طور پر جنیوا کانفرنس 2 میں ضرور شرکت کرنی چاہئے اور ہم ایران کی شرکت کے لئے کسی بھی پیشگی شرط کو غیر مفید اور غیر تعمیری سمجھتے ہیں۔ صدر پیوٹن نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی کے تعمیری کردار نے ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری مفاہمت تک پہنچنے میں قابل قدر مدد کی۔ صدر پیوٹن نے کل جمعرات کی شام کو فون پر رابطہ کرکے صدر روحانی کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی موضوعات پر بات چیت کی۔اس مکالمے کے دوران خطے کی روان حساس صورت حال بالخصوص شام اور عراق کے مسائل اور دہشت گردی اور انتہا پسندی اور بین الاقوامی مسائل نیز ایران اور روس کے دو طرفہ تعاون کے سلسلے میں بات چیت ہوئی۔ صدر روحانی نے ایران اور روس کے درمیان تعاون اور حال ہی میں قزاقستان کے دارالحکومت بیشکک میں دو طرفہ ملاقات کے بعد ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ بیشکک میں ہونے والی ملاقات کے بعد دو طرفہ وفود کے تبادلوں میں اضافہ ہوا ہے اور ہمیں امید ہے کہ سیاسی، معاشی، صنعتی اور دفاعی شعبوں میں ہونے والی مفاہمتوں کو عملی شک دینے کے لئے جلد از جلد عملی اقدامات عمل میں لائے جائیں گے؛ ایران اور روس کے درمیان تعلقات کو اسٹراٹجک شراکت اور تزویری تعاون اور طویل المدت تعلقات میں بدلنے کی کوشش ـ جن میں دو ممالک کے مشترکہ مفادات کو مد نظر رکھا گیا ہو ـ خطے میں سلامتی، استحکام کے اسباب فراہم ہونگے اور اس خطے کا مستقبل صلح اور دوستی سے سرشار ہوگا۔ صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ایران اور روس کے مشترکہ کمیشنوں کے درمیان انتہائی کامیاب مذاکرات عمل میں آئے ہیں اور کئی مفاہمتوں کے نفاذ کے عمل کو آخری شکل دی گئی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران مشترکہ کمیشنوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں کے دائرے میں بنیادی منصوبے پیش کرنے اور دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لئے ضروری اقدامات عمل میں لانے کے لئے تیار ہے۔ صدر روحانی نے 1+5 کے ساتھ ایران کے مذاکرات اور جنیوا مفاہمت، مختلف فریقوں کی طرف سے اس مفاہمت کی پابندی کی ضرورت اور اس اس سلسلے میں روس کے تعمیری کردار، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بعض ممالک ـ جو مذاکرت کو ناکام بنانے کے لئے بہانہ جوئی کررہے ہیں اور رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں ـ اپنے وعدوں کو محترم سمجھیں گے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کے سلسلے میں اپنے غیر تعمیری اقدامات سے ـ جو ان کی ابتدائی خیر سگالی کے جذبے سے تضاد رکھتے ہیں ـ پرہیز کریں گے۔ روحانی نے کہا: اگر روس اپنا تعمیری کردار جاری رکھے تو ابتدائی مفاہمت کو حتمی شکل دی جاسکتی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شام کے بحران کے بارے میں کہا: جنیوا میں مذاکرات کا ڈرامہ رچانے کے بجائے شام کے بحران کو حقیقی معنوں میں حل کرنا چاہئے کیونکہ کوئی بھی بین الاقوامی اجلاس مؤثر عناصر کی غیر موجودگی میں شام کا بحران حل نہیں کرسکے گا چنانچہ جنیوا 2 کانفرنس اپنے آغاز سے پہلے ہی ناکام سمجھی جائے گی۔ صدر روحانی نے کہا: اگر دہشت گردی کو نہ کچلا جائے اور اگر "تشدد اور انتہا پسندی سے خالی" دنیا کے قیام کے لئے ہمہ جہت عالمی کوشش نہ کی جائے، اور اگر بعض ممالک کی طرف سے دہشت گرد گروپوں کی عسکری امداد جاری رہے، تو نہ صرف خطے میں امن قائم نہ کیا جاسکے گا بلکہ عالمی امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے ضمن میں اس کی فکری اور مالی جڑوں کو سُکھا دینا پڑے گا اور ایران دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ جدوجہد میں روس کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے۔ صدر پیوٹن نے بھی بیشکک مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم بھی بیشکک مذاکرات کے نتیجے میں عمل میں آنے والی مفاہمتوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور مشترکہ کمیشنوں میں بھی بہت اچھے سمجھوتے ہوئے ہیں اور منظور نظر اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے بیشکک کے کئی سمجھوتوں کو حتمی کیا جاچکا ہے۔ انھوں نےکہا: مجھے یقین ہے کہ اسلامی انقلاب کے رہبر معظم کے تعمیری کردار نے جوہری سمجھوتے تک پہنچنے میں مدد کی ہے چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مطلوبہ سمجھوتوں کے حصول کے لئے مثبت پس منظر کو مد نظر رکھا جائے۔ انھوں نے کہا: ہماری کوشش ہے کہ ایران جنیوا 2 کانفرنس مین شرکت کرے اور ہمیں امید ہے کہ اس حوالے سے اپنے مغربی شرکاء کو قائل کریں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلقہ لنکس:

ماسکو مشرق وسطی کا نقشہ بدل دے گا/ دہشت گرد آل سعود نے پالے ہیں

آل سعود پر روس کی اتمام حجت: سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو تکلیف دہ جواب دیں گے