اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی فوجوں نے شمالی علاقوں میں اپنی پیشقدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور حسکہ صوبے کے شہروں المناجیر اور العالیہ میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرلیا ہے جبکہ حسکہ کے "الاربعین" نامی گاؤں کو بھی دہشت گردوں سے خالی کرایا ہے جو درحقیقت سلفی / اخوانی دہشت گرد تنظیم جبہۃالنصرہ کا آخری ٹھکانہ سمجھا جاتا تھا۔ الحسکہ شام کے شمالی صوبوں میں سے ایک ہے جس کہ صدر مقام شہر حسکہ ہے اور اس شہر نیز صوبے کے دوسرے شہروں میں کرد دفاعی یونٹوں اور القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ کرد دفاعی یونٹوں نے حالیہ ہفتوں میں کئی شہروں سے القاعدہ کو مار بھگایا ہے۔ دریں اثناء شام کے دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطاب اس شہر کے ایک علاقے "الحجاز" میں دہشت گردوں نے ایک چوک کے کنارے ایک بم دھماکہ کرایا جس میں اب تک 8 افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ادھر دہشت گردوں نے حلب کے شیعہ شہر "نبل" پر مارٹر کے گولے پھینکے ہیں تاہم اس بزدلانہ حملے کے جانی اور مالی نقصانات کے سلسلے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ السویداء نامی شہر میں بھی دہشت گردوں کے بم دھماکے میں آٹھ شامی باشندے شہید اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری طرف سے کرد دفاعی یونٹوں نے کئی علاقوں میں القاعدہ کو پیچھے دھکیل کر متعدد علاقوں کو آزاد کرالیا ہے اور ان علاقوں سے فرار ہونے والے تکفیری دہشت گردوں نے کہا ہے کہ ان کی پسپائی جنگی حکمت عملی کے تحت تھی! لندن میں شامی انسانی حقوق مرکز نامی ادارے نے یونائٹڈ ڈیموکریٹک کرد جماعت کے ترجمان "ریدور خلیل" کے حوالے سے لکھا ہے کہ کردوں نے الحسکہ صوبے کے سرحدی شہر "راس العین" کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ الحسکہ شام کا شمال مشرقی صوبہ ہے اور اس کی سرحدیں عراق سے ملی ہوئی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق اس صوبے کے 20 فیصد علاقوں کا کنٹرول شامی کردوں نے حاصل کیا ہے اور یہ حصول یابیاں تین روزہ جھڑپوں کے بعد ممکن ہوسکی ہیں۔ ریدور نے دہشت گردوں کی طرف سے فوجی حکمت عملی کے تحت پسپائی کے بارے میں کہا کہ دہشت گردوں نے پسپائی اختیار نہيں کی بلکہ انھوں نے شکست کھائی۔ وہ کرد علاقوں کے لئے خطرہ تھے اسی وجہ سے ہم انہيں نکال باہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جبہۃالنصرہ سمیت بیشتر دہشت گرد ٹولے شام کے شمالی شہر تل ابیض میں چھپے ہوئے ہیں اور کرد یونٹیں تل ابیض کی طرف مسلسل پیشقدمی کررہے ہیں کیونکہ جب تک دہشت گرد تنظیمیں علاقے میں موجود ہیں وہ ہمارے لئے خطرات کا سبب ہیں اور ہم راس العین اور تل ابیض کے درمیان واقع تمام علاقوں کو دہشت گردوں سے واپس لیں گے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کرد دفاعی کمیٹیوں نے داعش کے دہشت گردوں کو الحسکہ صوبے کے 20 شہروں سے نکال باہر کیا ہے اور ان علاقوں کا مکمل کنٹرول حاصل کیا ہے۔ کردی وطنی دفاعی کمیٹیوں کے انفارمیشن مرکز نے اعلان کیا ہے کہ کرد مدافعین سعودی عرب سے وابستہ دہشت گرد تنظیم "دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام (داعش)" کے ساتھ طویل جھڑپوں کے بعد انہیں الحسکہ صوبے کے 20 نواحی شہروں اور قصبوں سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کرد سیاسی مبصر "یعرب خیر بک" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کرد کمیٹیوں نے 19 قصبوں میں داعش کے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے بعد تل حلف کے علاقے میں داعش کے ہیڈ کوارٹر کا کنٹرول بھی حاصل کیا اور راس العین کے ساتھ 4 مزید علاقوں کو آزاد کرانے کے بعد اب 25 علاقوں پر ان کمیٹیوں کے کنٹرول میں ہیں؛ اور ان علاقوں میں مسلسل ناکامیوں کے بعد دہشت گردوں کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ دریں اثناء حلب کے مشرقی علاقے میں داعش اور خالد الحیانی نامی دہشت گرد کی تنظیم "شہداء بدر" کے درمیان شدید جھڑپوں کا آغاز ہوگیا ہے اور الحیانی گروپ نے اعلان کیا ہے اس نے شدید جھڑپوں کے بعد الکاستیلو کے چیک پوسٹ پر قبضہ کیا ہے اور کئی افراد ان جھڑپوں میں ہلاک ہوئے ہیں الجندول کے میدان میں جنگ جاری ہے۔ شام کے اسٹراٹجک مبصر حسن الحسن نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں دہشت گرد ٹولوں کے درمیان جنگ کی وجہ یہ ہے کہ ن میں سے ہرایک گروپ ایک خاص ملک سے احکامات لیتا ہے اور ان میں سے کئی گروپ سعودی انٹیلجنس سے براہ راست ہدایات لیتے ہیں، بعض ترک خفیہ ایجنسیوں سے احکامات لیتے ہیں؛ بعض قطر کے تابع و پیروکار ہیں جبکہ بعض اسرائیل کی خفیہ تنظیمیں ایجنسی موساد یا امریکی سی آئی سے براہ راست ہدایات حاصل کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے درمیان تضادات کا شکار ہوگئے ہیں۔ ادھر شامی افواج نے ـ السفیرہ کے شمال مغرب میں تل عرون نامی قصبے کا مکمل کنٹرول کرنے کے بعد ـ تل حاصر نامی قصبے کا محاصرہ کرلیا ہے جو اس شہر پر افواج کے حملے کی تمہید ہے۔ ادھر دمشق کے جنوبی نواح میں السبینہ کے علاقے میں شامی افواج کے پیدل دستوں کی پیشقدمی جاری ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭ شام: جنیوا کانفرنس میں شرکت کےلئے پیشگی شرط نامنظور
6 نومبر 2013 - 20:30
News ID: 478935
شام کے شمالی علاقوں میں فوج کی پیشقدمی جاری ہے اور المناجیر، العالیہ نامی شہروں سمیت حسکہ میں جبہۃالنصرہ کے آخری ٹھکانے "الاربعین" نامی گاؤں میں دہشت گردوں کا مکمل طور پر صفایا کیا گیا/ دمشق میں دہشت گردوں کے بم دھماکے میں دو خواتین سمیت آٹھ افراد شہید ہوگئے ہیں/ کرد یونٹوں نے بھی 20 قصبے دہشت گردوں سے چھڑا لئے ہیں۔