6 دسمبر 2012 - 20:30

مصر کے تزویری تحقیقات مرکز کے سربراہ نے کہا: ایران کے ہاتھوں دوسرے امریکی ڈرون کا شکار ایک استراتیجی حصولیابی ہے اور اس جاسوسی ڈرون کے شکار نے امریکی عظمت کو ایک بار پھر توڑ کر رکھ دیا / امریکہ نے ابتدائی طور پر تردید کرنے کے بعد آخرکار اعتراف کرلیا ہے کہ اس کا ایک جاسوسی ڈرون ایران کے قبضے میں ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  مصر کے اسٹراٹیجک ریسرچ سینٹر کے سربراہ امیل امین نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کی فضاؤں میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحری فورس کے ہاتھوں اسکین ايگل (Scaneagle) نامی امریکی ڈرون کا شکار ایک تزویری حصول یابی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی قوت اور جوہری ٹیکنالوجی نے امریکہ کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور اس کی مسلسل کوشش ہے کہ اس ملک کی نگرانی کرے۔انھوں نے کہا: جاسوسی طیارے کو قابو میں لاکر پھانسنے اور بحفاظت اتارنے سے معلوم ہوا کہ ایران کی فوجی طاقت ـ خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے میں ـ ناقابل انکار صلاحیتوں کا مالک ہے۔انھوں نے کہا: ایران اگر ایک طرف سے دفاعی قوت کو مضبوط بنا رہا ہے تو دوسری طرف سے وہ حملہ کرنے کی قوت کو بھی مسلسل بڑھا رہا ہے اور ایوب نامی ڈرون مقبوضہ فلسطین میں بھجوانے سے ایران کی اعلی سطحی قوت حملہ کا ثبوت تھا۔ انھوں نے ابتداء میں امریکہ کی طرف سے ڈرون کے ایران میں اتارے جانے کی تردید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ امریکہ اس طرح کی کاروائیوں کی تردید کررہا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کی حیثیت و آبرو ایران کی اس کامیابی کی وجہ سے متنازعہ بن گئی ہے۔ امین نے کہا: امریکہ کے انٹیلی جنس افسروں نے حالیہ ایام میں کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف زمینی، بحری اور فضائی جاسوسی کا جال وسیع کردیا ہے۔انھوں نے امریکہ پر ایران کی ارضی سالمیت پر جارحیت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا: امریکہ نے ایک ایسے ملک پر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے جو آزاد اور خودمختار ہے اور صرف اپنی فضائی، سمندری اور زمینی سرحدوں کی حفاظت کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اور امریکہ کی معاندانہ پالیسیوں کے خلاف اس کی استقامت کی وجہ سے ایک نیا علاقائی نظام جنم لے گا۔ ادھر مریکہ نے اسکین ایگل جاسوس طیارے کے شکار ہونے کی تائید کردیادھر موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی بحریہ کے ترجمان نے ایران کے ہاتھوں امریکی ڈرون طیارے کے شکار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ دن قبل امریکہ کا اسکین ایگل نامی ڈرون طیارہ لاپتہ ہوگيا تھا جو اب ایران کے قبضہ میں ہے۔

اخبار وال اسٹریٹ نے امریکی بحریہ کے ترجمان جیسن سولانا  کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایک امریکی ڈرون ایران کے ہاتھوں شکار ہوا ہےجو کچھ دن قبل طیارہ لاپتہ ہوگيا تھا اور اب یہ طیارہ ایران کے قبضے میں ہے۔ واضح رہے کہ امریکیوں نے ابتداء میں کہا تھا کہ: ہم نے پورے مشرق وسطی میں جاسوسی مشن پر بھجوائے گئے طیاروں کو گن لیا ہے اور ان کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے لیکن اب امریکیوں نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں تمام امریکی ڈرونز کو دوبارہ شمار کیا گیا جن کی تعداد پوری ہے لیکن ایک طیارہ حال ہی میں لاپتہ ہوگيا ہے۔سولانا نے دعوی کیا کہ مذکورہ ڈرون بین الاقوامی پانیوں کے اوپر اڑ رہا تھا اور اس نے ایرانی حدود کی خلاف ورزی نہيں کی تھی جبکہ سپاہ پاسداران کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ اس ڈرون کو ایرانی حدود کے اندر آنے دیا گیا اور اس کے بعد اس کو جدیدترین سسٹمز کے ذریعے ٹریپ کیا گیا، اس کا رابطہ اس کے مرکز سے منقطع کیا گیا اور اس کو بحفاظت اتارا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔/110

ـ ایران نے ایک اور امریکی جاسوسی ڈرون شکار کرلیا / بمع دلچسپ لنکس