اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی دارالحکومت کراچی میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری رہا اور ایک واقعے میں گلشن اقبال کے علاقے ابولحسن اصفہانی روڈ پر یہودی ریاست کے آلہ کار دہشت گردوں نے نے فائرنگ کرکے انچولی کے رہائشی اقبال حسن اور ان کی اہلیہ کنیز فاطمہ کو شہید کردیا۔تفصیلات کے مطابق ریلکس اپارٹمنٹ انچولی کے رہائشی اقبال حسن اپنی اہلیہ کنیز فاطمہ کے ساتھ اپنی گاڑی میں کلینک سے گھر کی طرف جارہے تھے گھر جارہے تھے کہ جھنگوی چوک نزد ابولحسن اصفہانی روڈ پر جہاں صہیونی ریاست کے کٹھ پتلی کالعدم [مگر سرگرم] دہشت گرد ٹولوں کے درندوں نے اندھادھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دونوں نوجوان میاں بیوی موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

واضح رہے کہ شہید اقبال حسن اور ان کی اہلیہ کران ہسپتال مین ملازم تھے اقبال حسین ریسپشنسٹ تھے جبکہ اور ان کی اہلیہ لیب اسسٹنٹ تھیں۔ان دو شہیدوں کا ایک دو سالہ بچہ بھی ہے جس سے والدین کا سایہ دشمنان انسانیت نے چھین لیا ہے۔دوسری طرف سے پولیس اور رینجرز کے گشت کے اور حکومت کی طرف سے حفاظتی انتظامات کے دعؤوں کے باوجود یہودی ریاست کے آلہ کاروں نے شہید ملت روڈ پر نذر عباس اور شاہ فیصل ٹاؤن میں ریاض حسین کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے۔ نذر عباس پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے ان کی 12 سالہ بچی زخمی ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے شہید ملت روڈ پر 45 سالہ سید نذر عباس زیدی ولد سید ظفر عباس اپنی 12 سالہ بیٹی کے ہمراہ شہید ملت روڈ سے علی اسکوائر کی طرف جارہے تھے جہاں دہشتگردوں کی اندھا دھند فائرنگ سے سید نذر عباس زیدی موقع پر ہی شہید ہوگئے اور اُن کی صاحبزادی شدید زخمی ہوگئی جن کو کو چار گولیاں لگی ہیں۔ ادھر جمعہ کے روز یہودی ریاست کے چیلوں نے بلدیہ ٹاؤن میں فائرنگ کرکے غلام قدیر اور اْن کے بیٹے فضل عباس کو شہید کردیا۔
تفصیلات کے مطابق یہودی ریاست کی بے لوث خدمت میں مصروف دہشت گرد ٹولوں کے بالفطرہ جرائم پیشہ دہشت خونخواروں نے 65 سالہ غلام قدیر ولد غلام حیدر اور اْن کے بیٹے 40 سالہ فضل عباس کو کراچی کے نواحی علاقے بلدیہ ٹاون سعید آباد تھانے کی حدود میں بکرا پیڑی یوسف گوٹھ میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں نے شاہ فیصل کالونی میں بھی دکان پر فائرنگ سے ریاض حسین اور مہدی شاہ پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ریاض حسین شہید اور مہدی شاہ زخمی ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110


ملالہ کی مظلومیت پر واویلا کرنے والے آج بیگناہ شیعہ بیٹیوں کے قتل پر خاموش کیوں