اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے حمایتی دہشت گردوں نے کوفی عنان کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے وسیع پیمانے پر عوام کا قتل عام کیا ہے شام کے ٹی وی کے مطابق دہشت گردوں نے یہ اقدام کوفی عنان کے شام کے دورے سے قبل انجام دیا ہے لیکن مغربی میڈيا سہل الحولہ کے قتل عام کو حکومت کی ذمہ داری گرداننے کی کوشش کررہا ہے تا ہم آزآد ذرائع سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شام میں امریکہ ،سعودی عرب اور قطر کے حمایتی دہشت گرد عوام کے قتل عام میں ملوث ہیں۔ اس سے قبل ہونے والے حملوں میں بھی القاعدہ کی دہشت گرد تنظیم ملوث رہی ہے اور اس نے دمشق میں ہولناک بم دھماکوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ شام کے خلاف مغربی اور عربی ذرائع ابلاغ کے غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈے کی شامی ذرائع نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے ک ہ عرب ا ور مغربی میڈيا شام کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کررہا ہے اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کو حکومت کی جانب نسبت دے رہا ہے۔
عجب یہ ہے کہ کوفی عنان کو اقوام متحدہ نے امریکہ، یورپ، اسرائیل اور آل سعود و آل ثانی کے دباؤ کے تحت اپنا ایلچی بنا کر شام روانہ کیا تھا اور اس کے بعد اقوام متحدہ کے کئی سو کارکن بھی شام پہنچ گئے ہیں اور پھر کوفی عنان دو روز میں شام کے دورے پر آنے والے ہیں اور ایسی حالت میں کوئی نہایت نادان شخص، ادارہ یا حکمران ہی اپنے ملک میں عوام کا قتل عام کرکے اپنے خلاف دستاویز دشمنوں کے لئے فراہم کرسکتا ہے اور پھر ہم یہاں برطانیہ کا موقف بھی دیکھ رہے ہیں جس نے اس قتل عام پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام کا یہ قتل عام ایک پیشگی منصوبے کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔
.......
/169 ـ 110










