رشک و تعصب اگر اقتدار اور حکومت کا ساتھ پائے تو یہ بہت سے حقائق کو پسِ پردہ ابہام قرادیتا ہے؛ حدیث سوزی کا سلسلہ شروع کرسکتا ہے اور حدیث سوزی کے بعد لوگوں کو بٹھا کر نئی احادیث کو حکمرانوں کے مفاد کے مطابق جعل کرسکتا ہے۔ ایسے افسوسناک حالات میں جب قلم اہلیان اقتدار کے قید میں ہوتا ہے اور حقیقت مظلوم اور تنہا ہوکر رہ جاتی ہے پھر بھی ایک چیز ہے جو حق کا تحفظ کرسکتی ہے اور وہ اشیاء کی حقیقت و صداقت ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ "ہر چیز کی حقیقت اس کی نگہبان ہے"۔
جو کچھ یہاں آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ایک دینی ـ تاریخی ـ روائی ـ تحقیق ہے ایک حدیث کے بارے میں جو پیغمبر خدا (ص) سے منسوب کی گئی اور یادگار نبی سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہ کی املاک کو غصب کرنے کا بہانہ ٹہری۔ حديث بعنوان: "ما تركناه صدقة"۔
ابتداء میں میں اپنے قارئین سے درخواست کرتا ہوں کہ میری تحقیق کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کریں لیکن یہ احتمال ضرور دیں کہ "ممکن ہے کہ یہ باتیں درست ہوں" اور اس کے بعد ان کے بارے میں تحقیق کریں۔ اور ہاں! تحقیق کے لئے مذکورہ منابع کے پرانے نسخوں کی طرف رجوع کریں تاکہ بہتر نتائج حاصل کرسکیں۔
ہم یہاں مختلف روایات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ایسی حدیث کا تجزیہ اور تحلیل کرنا چاہتے ہیں جو تمام زمانوں میں کرائے کو قلموں اور تعصب کی قید میں اسیر ذہنوں نے اسلامی معاشروں کے افکار عامہ میں پھیلا دی ہے۔
ہم اس جعلی حدیث کے جعلی پن کو مخالفین شیعہ کے منابع میں موجود گوناگون روایات کی روشنی اور انسان کو ودیعت کی گئی عقل سلیم کی مدد سے کشف کرکے اس کو رد کرتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ تحقیقی کام اللہ کے بندوں اور رسول اللہ (ص) کے ماننے والوں اور آپ (ص) کے امتی ہونے پر فخر کرنے والوں کے ہاں بھی بازار تحقیق کی رونق کا باعث بنے اور وہ طاقت و ثروت کے قدم چومنے والوں اور عوام کے جہل اور کم تعلیم سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کی اندھادھند پیروی چھوڑ کر دین و قرآن اور سنت نبوی (ص) کی ہدایات کو چراغ راہ قرار دیں۔
بے شک کوئی بھی عقلمند شخص اپنی پوری عمر ایسے افراد کی تنزیہ و تطہیر میں گذار دیں اور اپنا پورا سرمایہ ان لوگوں کے دفاع میں گذار کر حقائق کے ادراک سے غافل رہنا پسند نہیں کرتا۔
اور اب داستان فدک اور مذکورہ حدیث کا ماجرا
ابھی مدینہ کی فضائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی معطر سانسوں سے معمور تھیں اور آپ (ص) کی الہی صدا ابھی اس مقدس شہر میں گونج رہی تھی توحید کی ندا کفر و شرک سے نجات کی دعوت کی صدائے بازگشت ابھی سنائی دے رہی تھی؛ ابھی دل کائنات کے بہترین انسان کے چلے جانے سے مغموم اور زخمی تھے اور پھر اہل مدینہ آپ (ص) کی بیٹی، ام ابیہا حضرت فاطمۂ زہرا سلام اللہ علیہا کے گریہ و بکاء کی صدائیں سن رہے تھے اور آپ (س) کی صدائے شیون سن کر رویا کرتے تھے۔ زیادہ نہیں بلکہ صرف جرگۂ سقیفہ کے دس روز گذر رہے تھے صرف دس روز بہترین عالم کے وصال کے بعد، خلیفہ کے کارندے خیبر کی طرف چلے اور اور خیبر کی طرف جاتے ہوئے خیبر کی زرخیز زمینوں میں پہنچ گئے۔ یہ علاقہ جنگ کے بغیر مسلمانوں کو ملا تھا اور سورہ کی چھٹی آیت نازل ہوئی جس میں فرمان ربانی ہے:
"وَمَا أَفَاء اللہ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللہ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَن يَشَاء وَ اللہ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"۔
ترجمہ اور جو کچھ خدا نے ان سے اپنے رسول (ص) کی طرف لوٹایا ہے، ایسی چیز ہے جس کے حصول کے لئے نہ تو تم (مسلمانوں) نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ ہی اونٹ، مگر خدا اپنے رسل کو جس پر چاہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
"مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ"۔
ترجمہ: جو (اَموالِ فَے) اللہ نے (قُرَیظہ، نَضِیر، فِدَک، خَیبر، عُرَینہ سمیت دیگر بغیر جنگ کے مفتوحہ) بستیوں والوں سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لوٹائے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہیں اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) قرابت داروں (یعنی بنو ہاشم اور بنو المطّلب) کے لئے اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہیں، تاکہ (سارا مال صرف) تمہارے مال داروں کے درمیان ہی نہ گردش کرتا رہے (لکہ معاشرے کے تمام طبقات میں گردش کرے)۔ اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم و عطا پر کبھی زبانِ طعن نہ کھولو)، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے اس جائیداد کی مالکیت کا فیصلہ سنا دیا اور اس کے بعد فدک کی سرزمین کی تملیک کی باری آئی تو سورہ اسراء کی آیت 26 نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا:
"وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا"
ترجمہ: اور قرابت داروں کو ان کا حق ادا کریں کرو اور محتاجوں اور مسافروں کو بھی اور فضول خرچی مت کرو۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فدک کو بیٹی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نام ہبہ کردیا۔ چنانچہ یہ ترکہ نہ تھا بلکہ سیدہ کی ذاتی جائیداد تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہا نے آپ (س) کو ہبہ کردیا تھا۔ اب یہ دوسرا مسئلہ ہے کہ کیا کسی عام مسلمان کا ہبہ شدہ مال کوئی دوسرا فرد ـ ترکہ کا نام دیکر اور جھوٹی حدیث وضع کرکے ـ ضبط کرسکتا ہے کہ رسول اللہ (ص) کا ہبہ کردہ فدک حکومت وقت ضبط کرسکے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب عام مسلمان کا ترکہ ہوسکتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و وسلم کا ترکہ کیوں نہیں ہوسکتا جبکہ ایک مقام پر ابوبکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتی چیزیں علی علیہ السلام کے حوالے کردیں اور کہا کہ یہ رسول اللہ (ص) کی اشیاء ہیں اور آپ رسول اللہ (ص) کے وارث ہیں۔ اس بات کی طرف بھی آنی والی سطروں میں اشارہ ہوگا۔
بہرحال خلیفہ کے کارندے فدک میں داخل ہوئے اور سیدہ کے مزارعین اور کارکنان کو فدک کے دیہاتوں اور زمینوں اور باغوں سے نکال باہر کیا اور اس علاقے کو خلیفہ کی نمائندگی میں غصب کردیا۔ بالفاظ دیگر خلیفہ اول کا اولین انتظامی اقدام یہی تھا کہ انھوں نے خلیفہ رسول کے عنوان سے آنحضرت کی ہبہ شدہ جائیداد کو آپ (ص) کی بیٹی سے بغیر کسی شرعی اور عرفی و عقلی دلیل کے، چھین لیا۔
شرعی قاعدہ یہی ہے کہ جب کسی نے کوئی مال کسی کو ہبہ کرکے دیا ہو ضروری نہیں ہے کہ اس کے لئے وصیت میں بھی اس مال کا ذکر کرے اور اس کو دوبارہ ارث کے عنوان سے اس شخص کے لئے قرار دے کیونکہ یہ مال ہبہ کرنے والے کا ترکہ شمار نہیں ہوتا بلکہ اس شخص کا مال و ملک ہے جس کو بعنوان ہبہ دیا گیا ہے۔ اور جو جائیداد رسول اللہ (ص) نے اپنی بیٹی کو ہبہ کرکے دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات طیبہ کے دوران بھی سیدہ (س) کے ہاتھ میں تھی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وصال ہوتے ہی یہ وہبی جائیداد رسول اللہ (ص) کے ارث میں تبدیل نہیں ہوئی اور ہم نے یہ بحث یہ ثابت کرنے کے لئے شروع نہیں کی ہے کہ فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارث کے عنوان سے حضرت سیدہ (س) کا حق تھا بلکہ حکومتی مشینری اس داستان کے ضمن میں متعدد مقاصد اور اہداف کے حصول کو مطمع نظر قرار دے چکی تھی؛ وہ اس داستان کے توسط سے متعدد دوسرے حقائق کو مت