17 مارچ 2012 - 20:30

پیروان اہل بیت علیہم السلام اور اہل سنت کے درمیان زیر بحث 10 اہم مسائل پر ایک تحقیق / مکمل اردو ترجمہ

پيش لفظ

یہ راستہ وحدت کی طرف نہیں جاتا!

آج کی دنیا کے حالات کا اجمالی جائزہ لے کر ہی اس حقیقت کا ادراک ممکن ہوجاتا ہے کہ عظیم طوفانوں نے دنیا کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے، پردے ہٹ گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے اعلامئے میں درج دلفریب باتیں، جمہوریت اور بین الاقوامی تنظیمیں رنگ کھو بیٹھی ہیں اور دنیا کی طاقتور قوتیں دیگر ممالک پر تسلط جمانے کے خطرناک منصوبے بنا چکی ہیں اور اسرار آمیز صاف گوئی کے ساتھ اپنے مافی الضمیر کا اظہار کررہی ہیں۔اور کتنا اچھا ہوا کہ انھوں نے ساری باتیں کہہ دیں اور خوش فہم انسانوں کی خوش خیالیوں پر پانی پھیر دیا۔ اس سلسلے میں خدا کے فضل و کرم کے بعد صرف اقوام کی قوت ہی واحد پناہگاہ سمجھی جاتی ہے۔ہاں! طاقتور ہونا پڑے گا کیونکہ آج کے موجودہ عالمی نظام میں ضعیف کے حصے میں پامال ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں آتا۔ ان حالات میں اگرمسلمانان عالم متحد ہوجائیں اور اپنے عظیم تہذیبی اور مادی وسائل کو بروئے کار لائیں تو وہ استعماری اور استحصالی قوتوں کے تسلط سے چھٹکارا پا سکتے ہیں اور ان کے شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔برسوں سے ہر جگہ وحدت مسلمین کا نعرہ ورد زبان بنا ہوا ہے، اور ہفتہ وحدت کے اجلاسوں، کانگریسوں، سیمیناروں اور کانفرنسوں کی خبریں مسلسل نشر ہورہی ہیں۔ اگرچہ یہ اقدام بھی سیاسیاور سماجی حوالےسے مفید نتائج اور دشمنوں کے خوف اور گھبراہٹ کا باعث ہے لیکن ابھی تک ایسی وحدت قائم نہیں کرسکا ہے جو ان عظیم طوفانوں کے مد مقابل استقامت کے اسباب فراہم کرسکے۔وحدت کے قیام کی کوششوں کی اس ناکامی کے مندرجہ ذیل اسباب ہوسکتے ہیں:1۔ انجام شدہ اقدامات بنیادی اور اصولی اقدامات نہ تھے اور وحدت مسلمین کا مسئلہ اسلامی معاشروں کی گہرائیوں اور افکار و نظریات کی اتہاہ میں جگہ نہیں بنا سکا تھا چنانچہ مسلمانوں کو ایک ہی مقصد کے راستے پر گامزن نہیں کیا جاسکا تھا۔ 2۔ دشمن نے بدگمانی، اختلاف اور نفاق ڈالنے کی غرض سے وسیع و عریض منصوبے تیار کرچکا ہے اور موصولہ اطلاعات و اخبار سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اس مقصد کے لئے عظیم مادی سرمایہ لگا دیا ہے اور دونوں فریقوں کے انتہا پسند اور متعصب عناصر نے دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل لاکھڑا کیا ہے؛ مثلاً:الف: باوثوق ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب کے متعصب سلفیوں نے ایک کروڑ تفرقہ انگیز کتابیں شا‏‏ئع کرکے حجاج بیت اللہ میں بانٹ دی ہیں۔ اور حج کو ـ جو کہ وجہ اتحاد بین المسلمین ہے ـ وجۂ نفاق و افتراق میں تبدیل کرلیا ہے اور اسی طرح کے اقدامات ہر سال دہرائے جارہے ہیں۔ ب: متعصب وہابی خطباء اور مقررین حج اور عمرے کے ایام میں نفاق پھیلانے کی غرض سے کسی بھی قسم کی زہر افشانی سے دریغ نہیں کرتے اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعلقات کے برعکس وہابیوں نے اہل تشیع کے خلاف اپنے حملے تیز کردیئے ہیں۔ ج: سپاہ صحابہ اور دوسرے دہشت گرد ٹولوں کی دہشت گردانہ کاروائیاں اور مظلوم و نہتے انسانوں کا قتل عام اور قتل و دہشت گردی پر ان کا فخر و مباہات ـ جس کو مسلسل دہرایا جارہا ہے، کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔د: طالبان جیسے انتہاپسند گروہوں کو شہ دینا ـ جو موثق اسناد اور دستاویزات کی رو سے امریکی مستکبرین کے ہاتھوں معرض وجود میں آئے ہیں ـ ان ہی خطرناک اقدامات میں سے ایک تھا۔ دشمنان اسلام اس گروہ کو پال کر ایک طرف سے اسلام کو نہایت تشدد پسند بے رحم، علم و دانش و تہذیب سے عاری مکتب کے عنوان سے متعارف کروانا چاہتے تھے تو دوسری طرف سے مسلمانوں کے درمیان ناقابل ازالہ دراڑیں ڈآلنا چاہتے تھے؛ گو کہ مغربی حکومتوں اور پالیسی سازوں کے یہ نمک خوار آخرکار ان کے اپنے ان آقاؤں کے قابو سے بھی باہر ہوگئے اور انہیں بڑے بڑے نقصانات سے دوچار کیا اور مغربی طاقتوں کو اپنی ہی حکمت عملیوں کی تلخیاں خود بھی چکھنی پڑیں اور آخر کا مغربی طاقتیں ان کے خاتمے کے درپے ہوئے۔ 3۔ اسلامی ممالک کے بعض سیاستدانوں کی کوتہ نظری ـ جو اپنے وقتی مفادات کو دنیائے اسلام کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں ـ بھی اتحاد کے دور رس اہداف کے عدم حصول کا باعث بن رہی ہے۔مثال کے طور پر ہم بعض اسلامی ممالک کو جانتے ہیں جو اپنے ان ہی محدود اور ناچـیز مفادات کی خاطر اسرائیل کے ساتھ نہایت قریبی سیاسی اور معاشی تعاون کررہے ہیں اور یہ حقیقت بالکل عیاں ہوچکی ہے۔ حتی کہ یہ اسلام ممالک گاہے بگاہے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں تک کا اہتمام کرتے ہیں۔ بہرحال یہ عالم اسلام کے علماء کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کے مذہبی مسائل کو ممکنہ حد تک شفاف بنادیں تاکہ کسی بھی فریق کے انتہاپسند اور متعصب گروہ لوگوں میں نفاق اور بدگمانی نہ پھیلاسکیں۔ چنانچہ ہم نے صفوف کی تقویت کی خاطر دلچسپ اور بدیع انداز اپنا کر یہ مختصر رسالہ تالیف کیا۔ اس شیوے میں یہ مسئلہ مکمل طور پر روشن ہوگا کہ مکتب اہل بیت (ع) اور اہل سنت کے درمیان اہم اختلافی موضوعات کی جڑیں اہل سنت کی معتبر کتب میں پیوست ہیں اور اس سلسلے میں شیعہ جو کہتے ہیں ان کی دلائل اور اسناد بھی اہل سنت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ایک روشن خیال سنی عالم کا کہنا تھا کہ "اہل تشیع اپنے مذہب کے اصول و فروع کو ہماری کتابوں سے ثابت کرسکتے ہیں۔ اگر اس سنی عالم دین کی بات ثابت ہوجائے ـ جو خدا کے فضل سے اس کتاب میں ثابت ہوچکی ہے ـ تو پھر شیعہ پر کونسی ملامت باقی رہتی ہے؟ یا شیعہ عقائد میں کونسا شبہہ رہتا ہے؟یقیناً یہ امر منصف اور اہل منطق سنیوں میں خوش بینی اور حسن نظر نیز صفوف مسلمین میں زیادہ سے زیادہ استحکام کا باعث ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران ایک اہم اور مقتدر اسلامی ملک ہے جو پوری دنیا کے پیروان اہل بیت علیہم السلام سے مل کر اسی طرح اسلامی اسلام کے قوی محافظ و مدافع کی صورت میں باقی رہے گا۔ اب یہ آپ اور یہ ہماری اسناد اور ثبوت۔۔۔۔۔۔وہ دس موضوعات جو اس کتاب میں توضیح و تشریح کے مراحل سے گذر رہے ہیں؛ کچھ یوں ہیں:

قرآن ہر قسم کی تحریف سے مبرّا ہے

تقیہ کتاب و سنت کی روشنی میں

عدل صحابہ - 1

    عدل صحابہ - 2

بزرگان دین کی قبور کا احترام۔1

    بزرگان دین کی قبور کا احترام۔2

میعادی نکاح (متعہ)ـ1

    میعادی نکاح (متعہ)ـ2

زمین پر سجدہ / زمین سجدہ گاہ ہے

جمع بین الصلاتین / دو نمازیں اکٹھی کرکے پڑھنا

وضو میں پاؤں کا مسح ۔ 1

   وضو میں پاؤں کا مسح ۔ 2

بسم اللہ سورہ حمد کا جزء ہے

10۔ اولیاء اللہ علیہم السلام سے توسل - 1

     اولیاء اللہ علیہم السلام سے توسل - 2

ایک عرض خاص:

جو لوگ اس کتاب کو کتابی صورت میں چھاپنا چاہیں ان سے گزارش کی جاتی ہے کہ ابنا سے رابطہ کریں، اجازت لیں اور مشترکہ قرارداد اور مفاہمت نامے پر بات چیت کریں۔ مقالات کی صورت میں ابنا کا حوالہ دے کر اپنے اخبارات یا رسائل یا ویب سائٹس پر درج کرنے میں کوئی حرج نہيں ہے۔

(ادارہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110