28 نومبر 2011 - 20:30

تہرانی طلبہ نے ایک انقلابی اقدام کرتے ہوئے 4 نومبر 1979 کو امریکی سفارتخانے کی تسخیر کا کارنامہ دہراتے ہوئے برطانوی سفارتخانے میں داخل ہوئے اور سفارتخانے کی عمارت سے برطانوی پرچم اتار کر اسلامی جمہوریہ ایران کا پرچم لہرایا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کی رپورٹ کے مطابق ابھی ابھی ملنے والی رپورٹ کے مطابق برطانوی سفارتخانے کے سامنے اکٹھے ہونے والے والے ایرانی طلبہ نے سفارتخانے کی عمارت میں داخل ہوئے ہیں اور موقع پر موجود سیکورٹی فورسز انہیں داخل ہونے سے نہیں روک سکی ہیں۔ یہ طلبہ 4 نومبر 1979 کو امریکی سفارتخانے کی تسخیر کا کارنامہ ذہنوں میں زندہ کررہے ہیں جنہوں نے عمارت سے برطانوی سفارتخانہ اتارنے کے بعد وہاں اسلامی جمہوریہ ایران کا پرچم لہرایا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ برطانوی سفارتخانے کی شرانگیزیوں اور سفارتی آداب کی خلاف ورزیوں کی بنا پر اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان نے حال ہی میں برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے اور برطانوی سفیر کو فوری طور پر ملک سے نکال باہر کرنے کی قرارداد منظور کی تھی اور آج ایران کے وقت کے مطابق 14:00 بچے، تہران یونیورسٹی کے طلبہ نے برطانوی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی اجتماعی برپا کیا جس کے بعد عوام کے مختلف طبقات کے عوام بھی اس اجتماع میں شامل ہوگئے اور "مردہ باد امریکہ"، "مردہ باد برطانیہ"، "مردہ باد اسرائیل"، "اللہ اکبر"، "طلبہ مرتے ہیں ساز باز قبول نہیں کرتے"، "اے رہبرِ حُرّ ہم تیار ہیں ہم تیار ہیں" جیسے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔طلبہ نے مغربی دنیا کو ذلیل کرنے والے ایرانی جرنیل اور سپاہ پاسداران کی "سپاہ قدس" (Quds Corps) کے کمانڈر "الحاج قاسم سلیمانی"، نیز شہید ہونے والے جوہری سائنسدانوں "ڈاکٹر شہریاری" اور "ڈاکٹر علی محمدی" کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں۔ بڈھی لومڑی کا گھونسلا طلبہ کے قدموں تلے لرز اٹھابرطانیہ اور اسرائیل کے پرچم نذر آتش کئے گئےطلبہ سفارتخانے کے دفتری حصے میں داخل ہوگئے برطانوی ملکہ کی تصویر کو بھی دیواروں سے اتار دیا۔طلبہ نے سفارت خانے کے شیشے توڑ دیئے اور سفارتخانے کی پہلی منزل میں موجود دستاویزات پر قبضہ کرکے انہیں باہر لا کر نذر آتش کیا جس پر اجتماع میں موجود طلبہ اور عوام نے جوشیلے انداز سے برطانیہ مردہ باد کے نعرے لگائے۔سفارتخانے کے سازو سامان کو سڑک پر لا کر جلادیا گیا جس سے اٹھنے والا دھواں آسمان کی جانب اٹھ رہا ہے۔طلبہ کے سامنے سیکورٹی فورسز کی شدید مزاحمت، طلبہ نے سفارتخانے کی عمارت میں "زیارت عاشورا" کا اہتمام کیا۔تازہ ملنے والی اطلاع کے مطابق پولیس نے سفارتخانے کا دروازہ بند کردیا لیکن طلبہ سفارتخانے کے احاطے میں بیٹھ کر زیارت عاشورا پڑھ رہے ہیں، اور انھوں نے احاطے کے اندر "یا حسین (ع)" کے مبارک نام سے متبرک پرچم لہرائے ہوئے ہیں۔فارس خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ پولیس کی مزاحمت میں شدت آئی ہے اور وہ طلبہ کو سفارتخانے کی عمارت سے باہر نکالنے کی کوشش کررہی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ آج جوہری سائنسدان ڈاکٹر شہریاری کی شہادت کی برسی ہے اسی مناسبت سے طلبہ نے برطانیہ سے ان کی شہادت کا انتقام لینے کا عزم کررکھا ہے۔برطانوی سفارتخانے کے زیر قبضہ "باغ قلہک" پر بھی طلبہ کا قبضہ ہوگیا ہے اور طلبہ نے وہاں مغربین کی نماز با جماعت ادا کی ہے۔ طلبہ نے قبضہ جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتخانے کی تسخیر برطانیہ کی تمام خیانتوں کے افشاء تک جاری رکھنا چاہئے۔باغِ قُلہَک کے اندر موجود چھ انگریزوں کو باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔طلبہ نے شہید ڈاکٹر شہریاری کی برسی کے موقع پر ازخود مظاہرے کا اہتمام کیا تھا جنہیں گذشتہ سال اسی روز شہید کیا گیا تھا اور بعد میں معلوم ہوا تھا کہ ان کے قتل میں برطانیہ سمیت اسلامی مملکت کے دشمنوں کی خفیہ ایجنسیاں ملوث تھیں۔ ڈاکٹر شہریاری کی شہادت سے ایک ماہ قبل برطانیہ کی دہشت گرد جاسوسی ایجنسی MI-6 کے سربراہ نے عالمی قوانین اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں ایران کے پر امن جوہری پروگرام روکنے کے لئے ہونے والے سفارتی اقدامات کو غیرکافی قرار دیتے ہوئے کہات تھا کہ ایران اور اس کے سائنسدانوں کے خلاف "عملی اقدامات" کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ انقلابی طلبہ تین سال قبل بھی جنوری کے مہینے میں باغ قلہک میں واقع برطانوی سفارتخانے کی دوسری عمارت میں داخل ہوئے تھے اور برطانوی پرچم کو اتار دیا تھا۔ طلبہ نے کہا ہے کہ برطانوی سفارتخانے سے وہ دستاویزات منظر عام پر لانا پڑے گا جو دسویں صدارتی انتخابات کے دوران دشمنوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے فتنے میں ملوث عناصر کے کرتوتوں سے پردہ اٹھا سکتی ہیں۔ ایک ہزار طلبہ برطانوی سفارتخانے میں موجود ہیں جبکہ سفارتخانے کے اردگر ہزاروں افراد امریکہ اور برطانیہ کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں۔پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے ہیں اور لوگوں کو نکالنے کی کوششیں کررہی ہے جبکہ آخری اطلاع کے مطابق باغ قلہک سے برطانوی کارندوں کو نکال باہر کیا گیا ہے۔ طلبہ نے نماز شکرانہ ادا کی ہے اور سفارتخانے میں رہنے پر زور دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس سفارتخانے میں موجودہ تمام دستاویزات کو دیکھ کر ہی نکلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک اور خبر کے مطابق باغ قلہک میں موجود چھ انگریزوں کو باہر نہیں نکلنے دیا گیا ہے۔ دریں اثناء ڈپلومیٹک پولیس نے کئی انگریزوں کو اپنی حفاظت میں لے کر خیابان فردوسی میں واقع سفارتخانے کی اصلی عمارت سے نکال دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مصر کے دفتر حفاظت مفادات کے سامنے دھرنا دینے والے 40 طلبہ، پولیس کی آنکھوں سے اوجھل ہو کر اچانک باغ قلہک میں داخل ہوگئے ہیں جہاں برطانوی سفارتخانے کی دوسری عمارت واقع ہے۔ خیابان شریعتی میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہوگئی ہے اور پولیس اہلکار سفارتخانے میں مزید طلبہ کے داخلے کا سد باب کررہے ہيں، سفارتخانے کی عمارت میں موجود ایک طالبعلم نے موبائل پر اطلاع دی ہے کہ طلبہ احاطے میں زیارت عاشورا پڑھ رہے ہیں۔ طالبعلم نے مزید کہا: ہمیں باغ قلہک میں کوئی بھی نظر نہيں آیا اور ہم نے یہاں موجود برطانوی پرچم کو اتار کر اس کی جگہ فلسطین کا پرچم لہرایا ہے اور کئی سیکورٹی اہل کار یہاں طلبہ کے ساتھ لڑ پڑے ہیں۔ نئی خبرطلبہ نے زیارت عاشورا پڑھنے اور فلسطین کا پرچم لہرانے کے بعد اسٹوڈنٹس بسیج کے سربراہ کی ثالثی کے نتیجے میں باغ قلہک کو پرامن طور پر ترک کردیا ہے اور وہ سڑکوں پر موجود طلبہ کے ساتھ مل کر مصری وزیر خارجہ کی طرف سے رہبر انقلاب اسلامی کی شان میں گستاخی کی بنا پر مصر کے حفاظت مفادات دفتر کی جانب روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر مصری حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے 24 گھنٹوں میں ایران سے معذرت نہ کی تو اس دفتر کے سامنے  دھرنا جاری رہے گا۔ طلبہ پولیس کے تشدد آمیز برتاؤ پر بھی تنقید کررہے تھے اور تہران پولیس چیف نے کہا کہ گوکہ انہیں طلبہ سے ہمدردی ہے لیکن سفارتخانوں کی حفاظت کے حوالے انہیں اپنے فرائض پر بہرصورت عمل کرنا پڑتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔