30 اکتوبر 2011 - 20:30

پاراچنار شہر سے اپنے کالے کرتوتوں اور طالبان کو پناہ دے کر لشکر کشی کرنے کی وجہ سے بے دخل ہونے والے افراد میں سے 35 گھرانوں کو سرکاری پروٹوکول اور پاراچنار میں آرمی کے چیک پوسٹ قائم کرکے بروز ہفتہ پولٹیکل ایجنٹ نے ریسٹ ہاؤس میں شاہی مہمان بنا کر پاراچنار شہر میں دوبارہ آباد کروانے کا عندیہ دیا ہے/ پاراچنار کا شہر کہوٹہ پلانٹ کا منظر پیش کررہا ہے۔

ابنا: دریں اثناء شیعہ عمائدین نے کہا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، مگر امن برابری اور انصاف کی بنیاد پر ہی قابل قبول ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاراچنار کے عوامی، سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور طوری بنگش عمائدین نے اپنے علیحدہ علیحدہ بیانات میں کرم ایجنسی پبشمول پاراچنار میں امن کی کوششوں کو خوش آئند قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی واضح کر دیا ہے کہ امن برابری اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاراچنار شہر سے اپنے کالے کرتوتوں، طالبان کو پناہ دے کر لشکر کشی کرنے والے بے دخل افراد میں سے 35 گھرانوں کو سرکاری پروٹوکول اور پاراچنار میں آرمی کے چیک پوسٹ قائم کرکے بروز ہفتہ پولٹیکل ایجنٹ نے ریسٹ ہاؤس میں شاہی مہمان بنا کر پاراچنار شہر میں دوبارہ آباد کروانے کا عندیہ دیا ہے جب کہ دوسری طرف صدہ لوئر کرم سے تیس سال پہلے جبری بے دخل افراد کی کمیٹی اراکین جب صدہ میں موجود اپنے مکانات دیکھنے پہنچے، تو انہیں استقبال میں صدہ کے مختلف بازاروں میں تحریک طالبان کرم کا دھمکی آمیز پمفلٹ ملا جس میں لکھا گیا تھا: ہم شیعہ کافروں کو صدہ شہر میں نہیں چھوڑیں گے۔۔ انھوں نے الزام لگایا کہ پولٹیکل انتظامیہ اور آرمی اپنے منظور نظر تحریک طالبان کے خلاف ایکشن لینے سے کترا رہی ہیں۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اپر کرم پاراچنار میں مثالی امن کے باوجود قدم قدم پر آرمی چیک پوسٹ قائم کرکے محب وطن عوام کو ھراساں کیا جا رہا ہے جب کہ لوئر و وسطی کرم بشمول صدہ آرمی تعینات کرنے میں تاخیری حربے اختیار کئے جا رہے ہیں حالانکہ صدہ اور لوئر کرم کے کئی اور علاقوں میں طالبان کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا سلسلہ ابھی تک رکا نہیں ہے حالانکہ ان کاروائیوں سے سنی اور شیعہ عوام بیزار ہو چکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاراچنار کے عوام امن چاہتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب گرینڈ جرگہ کے اراکین پاراچنار شہر میں آئے تو پاراچنار کے عوام نے ان کا پھولوں کے ہاروں سے پرتپاک استقبال کیا لیکن جب یہی امن جرگہ صدہ بازارا پہنچا تو وہاں طالبان اور ان کے مقامی ہمدردوں نے نہ صرف جرگہ ممبران کو گالیاں دیں بلکہ جرگہ کے گاڑیوں پر گندے ٹماٹر اور پتھر تک پھینکے لیکن اب تک صدہ کے بھرے بازار میں حکومتی اہلکاروں کی موجودگی میں گرینڈ جرگہ کے معززین کی ہتک کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی، تو پھر حکومت صدہ سے بے دخل افراد کی حفاظت کی کیا گارنٹی دے گے جو لمحئہ فکریہ سے کم نہیں۔

بشکریہ از شیعت نیوز۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرم ایجنسی میں امن کا قیام اس علاقے کے عوام کی ضرورت ہے لیکن اس امن معاہدے میں نے علاقے کے شیعہ عوام کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی سنی عوام کا؛ ایک طرف آرمی اور حکومت ہے اور دوسری طرف سے طالبان ہیں جو 2007 سے لے کر اب تک متعدد معاہدوں کا اعلان کرچکے ہیں لیکن بہت تھوڑا عرصہ بعد عوام نے ان معاہدوں کا انجام دیکھا ہے۔ چنانچہ اس معاہدے کے مستقبل کے بارے میں بھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔حکومت نے حالیہ معاہدے میں پاراچنار سے بے دخل ہونے والے افراد کی بحالی کا بندوبست کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ معاہدہ دوسرے علاقوں کے لئے نہیں ہے اور باہر سے آنے والے افراد کو صرف پاراچنار شہر میں ہی امن کی شرا‏ئط پوری کرنے کی ہدایت ہے جبکہ لوئر کرم میں امن کا کوئی پروگرام نہیں ہے اور راستے کھولنے کا آپشن بھی معاہدے میں شامل نہیں ہے لیکن کل کی خبروں سے واضح ہوگیا ہے کہ پاراچنار کے لوگ اپنی گاڑیوں پر بیٹھ کر بند راستوں سے گذر چکے ہیں جو ایک لحاظ سے تو درست اقدام ہے اور اس سے حکومت پر یہ ذمہ داری لامحالہ عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنائے لیکن اس سے پہلے چونکہ حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہے اسی لئے اب بھی حکومت سے اس نام نہاد قومی شاہراہ کی حفاظت کی کوئی امید واثق نہیں رکھی جاسکتی کیونکہ یہ شاہراہ درحقیقت طالبان شاہراہ میں تبدیل ہوچکی ہے چنانچہ یہ اندیشے بھی موجود ہیں کہ حکومت کا موجودہ اقدام بھی کئی شیعہ مسافروں کے قتل اور اغوا پر منتج ہوکر ناکام ہوسکتا ہے۔عجب تو یہ ہے کہ جب سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کے سلسلے میں امریکہ کی طرف سے دباؤ بڑھ گیا ہے حکومت نے یہ نیا معاہدہ لاگو کرنے کے لئے زور لگانا شروع کیا ہے اور اس کو قومی فیصلہ قرار دینے کے نعرے لگنے شروع ہوئے ہیں جبکہ اس سے پہلے بھی اس نیٹ ورک کو اپر کرم اور شلوزان میں تعینات کرنے کے لئے خونی لڑائیاں لڑائی گئی ہیں؛ بہت اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ ‍معاہدہ جس کے فریقوں کا تعلق درحقیقت اس علاقے سے نہیں ہے، امن کے قیام کے لئے ہے یا پھر حقانی نیٹ ورک کو علاقے میں آباد کرنے کی کوشش ہے؟ اگر اس معاہدے کا تعلق اس علاقے سے ہے تو علاقے کے تمام مسائل حل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟

اگر دہشت گردوں نے ایک بار پھر سڑک پر یلغار کردی تو کیا پاراچنار میں آباد کئے ہوئے افراد دوبارہ امن و امان اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کریں گے اور کیا اس کے بعد پاراچنار میں خودکش حملوں کا سلسلہ شروع نہیں ہوگا جبکہ ان لوگوں کی موجودگی میں اس شہر میں دو خودکش دھماکے ریکارڈ پر موجود ہیں؟

پاراچنار سے ابنا کو موصول ہونے والا پیغام جو بہت غور طلب ہے:

اس امن معاہدے کے نتیجے میں پاراچنار شہر اور ارد گرد شیعہ علاقے کچھ اس طرح نظر آرہے ہیں ۔جیسا کہ یہ پاراچنار نہ ہو بلکہ پاکستان کا ایٹمی پلانٹ کہوٹہ ہو کیونکہ ہر طرف ایف سی اور آرمی ہی آرمی کے چیک پوسٹ ہنگامی سطح پر تعمیر ہورہے ہیں۔ کرم ایجسی کے اصل باشندے اہل تشیع حیران وپریشان ہیں کہ ان کے خلاف امن کے نام پر یہ سب کیا کچھ ہو رہا ہے؟ لوگ اپنے آپ سے اور بیدار ضمیروں سے پوچھتے ہیں کہ "ہمیں کیوں اس طرح مجرموں کی طرح قلعہ بند کیا جارہا ہے؟"

ہم نہ تو مجرم ہیں اور نہ ہی ملک دشمن ہیں؛ وہاں کیوں یہ سب کچھ نہیں ہورہا ہے جہاں ہر طرف ملک دشمنوں کی بھرمار ہے؟

جس ٹل پاراچنار روڈ کھولنے کے اعلانات چند روز سے پاکستانی میڈیا سے ہورہے ہیں۔ اُس پر سے گذرنے والے اہل تشیع کے گاڑیوں پر پیر کے دن بھی بگن وغیرہ میں پتھر برسائے گئے ہیں اور مسافروں کو کو گالیاں وغیر بھی دی گئی ہے لیکن انہیں پھر بھی سیکورٹی فورسز تحفظ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں جبکہ ادھر اپر کرم میں جہاں سے بھی مخالف فریق کے گذرنے کے راستے ہیں اس پر ایف سی اور آرمی کے چیک پوسٹوں کی بھر مار ہے اور ادھر جس راستے پر دہشت گردوں کے ڈھیرے ہیں وہاں پر ابھی تک کچھ بھی نہیں ہورہا ہے۔بالش خیل پر ناجائز قبضے پر تو بات تک نہیں ہوتی اور پیواڑ میں حکومت نئی سڑکوں کے لئے اہل تشیع پر مسلسل دباو ڈالا جارہا ہے۔ یہ سڑکیں افغانستان کی طرف جارہی ہیں!!!چیک پوسٹوں پر تویہ حال ہے کہ محب وطن اور پر امن شہریوں کو گھنٹوں چیکنگ کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے، انہیں ہر لحاظ سے ذلیل کیا جارہا ہے اور ان کو تکلیف دی جارہی ہے گویا انہیں فوج اور سرکاری اداروں کے ساتھ برادرانہ سلوک کی سزا دی جارہی ہے۔پانچ سالوں سے ہم محاصرے میں تھے جب حکومت سے ہم مطالبہ کرہے تھے تو حکومت کہا کرتی تھی کہ "ہم بے بس ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے ہیں" لیکن یہ اب یہ کہاں سے نکل آئی یہ حکومت پانچ سال پہلے سے کہاں تھی جو حکومت ایک پرامن علاقے میں اتنے سخت اقدامات کرسکتی ہے وہ بدامنی کا شکار علاقوں میں کیا کرتی ہے؟ یہ لوگ پانچ برسوں سے کہاں تھے جب ہمارا سب کچھ لوٹا جارہا تھا۔ ہم اس ساری صورت حال سے یہی نتیجہ لے سکتے ہیں کہ "پانچ سال جو کچھ ہمارے ساتھ کیا اسی حکومت نے کیا اور اب بھی یہی حکومت ہے جو امن کے نام پر ہمارے ساتھ ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہے۔

پاراچنار - ایک بار پھر؛ "اہل تشیع اور اہل سنت کے مابین قیام امن کا معاہدہ"، / خدشات

پاراچنار: ناقص امن ڈیل؛ معاہدہ صرف پاراچنار سٹی میں نافذالعمل ہوگا!!! ۔۔۔۔۔۔۔

/110