اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج جمعرات کے دن گھات لگائے یزیدی دہشت گردوں نے جشن عید فطر کے لئے پاراچنار آنے والے مسافرین کی گاڑی پر اس وقت قائرنگ کھول دی کہ وہ علیزئی واپس جارہے تھی جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی شہید ہوگئے اور چار زخمی ہوئے جنہیں پاراچنار کے ایجنسی ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کیا گیا اور زخمیوں میں سے بھی تین افراد شہید ہوگئے جبکہ ایک زخمی کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔شہداء میں سے چھ کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔
ذرائع کے مطابق گاڑی پاراچنار سے علی زئی جارہی تھی کہ دہشت گردوں نے مخیزئی کے علاقے میں حملہ کیا۔مقامی شیعہ مدافعین نے بھی بھاگتے ہوئے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا لیکن دہشت گردوں کے جانی نقصان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں پاکستان آرمی نے علاقے میں "کوہ سفید آپریشن" کے نام سے ایک نام نہاد آپریشن بھی کیا اور اس کے کامیابی کے نعرے لگاتے ہوئے اس کے خاتمے کا اعلان بھی کیا گیا لیکن اس کے بعد دہشت گردوں کی کاروائیوں کو مزید وسعت ملی، زیادہ لوگ قتل کئے جانے لگے، اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ ہوا اور پاراچنار کی 4 سال سات ماہ سے جاری ناکہ بندی میں کسی طور بھی کوئی کمی نہیں آئی اور مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ "بظاہر دہشت گردوں کے خلاف ہونے والا آپریشن دہشت گردوں کے فائدے میں مکمل کیا گیا ہے اور دہشت گردوں کی جرأت و جسارت میں اس کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے اور یہ کہ یہ آپریشن درحقیقت ایک دھوکا تھا"۔ قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی ناکہ بندی کی بنا پر، افغانستان کے راستے پشاور جانے والے 5 افراد کو ان ہی دہشت گردوں نے اغوا کیا تھا جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی اور انھوں نے اغواشدہ افراد میں ہر ایک کی رہائی کے عوض 20 لاکھ روپے کے تاوان کا مطالبہ کیا تھا لیکن اغوا شدہ افراد کے اہل خانہ کے پاس تاوان کی بھاری رقم نہ تھی چنانچہ انھوں نے اسلامی احکام اور علاقائی روایات کو پامال کرتے ہوئے خاتون سمیت پانچوں افراد کو قتل کردیا۔لنک:
اطلاعات کے مطابق پاراچنار میں تمام تر حملوں کا ذمہ دار طالبان کا جلال الدین حقانی نیٹ ورک ہے جس کو Pro ISI Taliban کہا جاتا ہے اور آئی ایس نے ابھی تک اس بات کی تردید نہیں کی ہے۔
- پاراچنار: تاوان کی رقم نہ ملنے پر خاتون سمیت پانچ شیعہ مسلمان شہید
ابنا کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں بھی نماز عید کے بعد دہشت "کالعدم مگر سرگرم" دہشت گرد ٹولوں کے خودکش کار حملے میں 11 نمازی شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔دہشت گردوں نے ثابت کردیا ہے کہ دہشت گردوں کا دین اسلام سے تعلق نہیں ہے ورنہ ماہ مبارک رمضان کا روزہ رکھنے کے بعد نماز عید ادا کرنے والوں کی مسلمانی میں تو شک نہیں ہے۔ انھوں نے اس بار نماز عید کے شرکاء کو نشانہ بنایا۔ لنک:- کوئٹہ میں نماز عید کے بعد خودکش حملہ،11 شیعہ نمازی شہید، متعدد زخمی / ویڈیو لنک اور تصاویر سماء ٹی وی کے مطابق بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر نے کوئٹہ میں عید کی نماز کے بعد نمازیوں پر دہشت گردوں کے خودکش حملے سمیت گذشتہ تین سال سے جاری بدامنی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اب یہ شہر فوج کے حوالے کیا جانا چاہئے تا کہ فوج ہی یہاں امن و امان قائم کرے۔ لنک:- بلوچستان شیعہ کانفرنس: امن و امان کے قیام کے لئے کوئٹہ فوج کے حوالے کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110