بسم الله الرحم الرحیم الحمد للَّه ربّ العالمين و الصّلاة و السّلام على سيّدنا و نبيّنا ابىالقاسم المصطفى محمّد و على آله الاطيبين الأطهرين المنتجبين سيّما بقيّةاللَّه فى الأرضين۔
سلام و رحمت خدا ہو امام بزرگوار اور انقلاب اسلامی کے شہداء کی ارواح مطہرہ پر۔ آج ایک بار پھر ملت ایران امام رحمة اللہ علیہ کی یاد زندہ کرتے ہوئے امام کے مکتب اور اور امام کے راستے کی جانب گامزن ہے۔ ہر سال 4 جون کو امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی حیات طیبہ اور آپ کے مبارک اور روشن مکتب کے نئے پہلو اجاگر کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ امسال 4 جون کا دن یکم رجب سے مطابقت رکھتا ہے۔ ماہ رجب اللہ کی برکت و رحمت کا مہینہ ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: «اللّہمّ بارك لنا فى رجب و شعبان»۔(1) [یا اللہ! ماہ رجب کو ہمارے لئے مبارک قراردے]۔ یہ مہینہ اور ماہ شعبان المعظم ضیافت الہی یعنی ماہ مبارک رمضان کی جانب مؤمنوں کی گذرگاہ ہے [اور ان دو مہینوں سے گذر کر مؤمنین ضیافت الہی کے مبارک مہینے میں داخل ہوتے ہیں]۔اس سال امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی برسی ایک اور اہم واقعے کے ساتھ بھی ہمراہ ہوچکی ہے اور وہ واقعہ اسلامی بیداری کا واقعہ اور کارنامہ ہے؛ یہ وہی واقعہ ہے جس کا امام رحمة اللہ علیہ انتطار کررہے تھے اور حضرت امام رحمة اللہ علیہ نے اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی۔ امام بزرگوار مسلم اقوام کی بیداری کی پیشین گوئی فرمایا کرتے تھے اور خداوند متعال نے فضل فرمایا اور آپ کی ان پیشین گوئیوں نے حقیقت کا روپ دھار لیا؛ جس طرح کہ آپ نے سوویت یونین کے خاتمے کی پیشین گوئی فرمائی اور خداوند متعال نے ان کی پیشین گوئی حقیقت میں بدل دیا۔ میری آج کی تقریر دو حصوں پر مشتمل ہے، اور امید ہے کہ میں مختصر سے وقت میں ان دو حصوں پر بحث کرسکوں۔ ایک حصہ امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے درس عظیم کے جائزے سے عبارت ہے؛ امام عزیز کے زندہ جاوید مکتب کا ایک جائزہ جو ملت ایران کے لئے ایک ذخیرہ ہے، ایسا سرمایہ ہے جس کا سہارا لے کر اور اسے ہاتھ میں لے کر ملت ایران نے ان دشوار گذار گھاٹیوں کو سر کرلیا جو عام طور پر ملت ایران جیسے اہداف و مقاصد رکھنے والی اقوام کو درپیش ہوتی ہیں۔ تقریر کا ایک حصہ علاقے کے مسائل کے بارے میں ہے۔ مکتب امام کے بارے میں ملت ایران اس نکتے سے بخوبی آگاہ ہے کہ امام بزرگوار سے عوام کی عقیدت و محبت محض قلبی اور جذباتی تعلق تک محدود نہیں ہے۔ اگرچہ جذبات کے حوالے سے بھی عوام کے قلوب امام کی محبت و عقیدت سے مالامال ہیں لیکن یہ پورا مسئلہ نہیں ہے بلکہ امام سے عوام کی عقیدت کا مطلب آپ کے روشن راستے اور روشن مکتب کو ملت ایران کے عمومی اور ہمہ گیر مکتب کے عنوان سے قبول کرنا ہے؛ ایسا مکتب جو نظری اور عملی طور پر ملک و ملت کو عزت و عظمت اور ترقی اور عدل و انصاف تک پہنچنے کے سلسلے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ گذشتہ 32 برسوں کے دوران یہی سلسلہ جاری رہا ہے اور جہاں بھی ہم نے امام رحمة اللہ علیہ کی ہدایات پر عمل کیا ہے ہمیں عظیم کامیابی حاصل ہوئی ہے اور جہاں بھی ہم امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے دکھائے ہوئے راستے پر گامزن ہوئے ہیں عظیم کامیابیوں نے ہمارے قدم چھومے ہیں۔ ہمارے عوام امام کے مکتب اور امام کے دکھائے ہوئے راستے کو امام کا زندہ جاوید ورثہ سمجھتے ہیں۔ ان تین عشروں کے دوران ہماری ملت نہایت عظیم اور بھاری بھرکم سازشوں کے سامنے ڈٹ گئی ہے۔ ملت ایران کے خلاف فوجی سازشیں تھیں، سلامتی اور سیکورٹی کے حوالے سے سازشیں تھیں، معاشی سازشیں تھیں، ـ یہ معاشی پابندیاں، ان تیس برسوں کے دوران جاری رہیں ـ مغرب کی وسیع تشہیراتی سلطنت (Extensive Western Media Empire) کی تشہیراتی سازشیں تھیں، یہ سازشیں مکمل طور پر جاری تھیں اور انہیں ہوا دی جاتی رہی، سیاسی سازشیں تھیں۔ ملت ایران نے امام کے مکتب کی برکت سے اور امام کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن ہوکر اس عظیم سازش کی کامیاب مزاحمت کی۔ امام کا مکتب ایک مکمل پیکج ایک مکمل ضابطہ ہے، ایک مجموعہ ہے، اس کے متعدد پہلو ہیں اور ہمیں ان تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھ لینا چاہئے۔ مکتب امام کے دو اہم پہلو ہیں: عقلانیت (عقلیت یا Rationality) کا پہلو اور معنویت (Spirituality) کا پہلو؛ یعنی ہمارے امام بزرگوار محض مادی وسائل اور مادی ظواہر کے سہارے عمل نہیں کیا کرتے تھے، اللہ کے ساتھ رابطے والے انسان تھے، معنوی اور روحانی سلوک والے تھے، توجہ، تذکر، خشوع اور ذکر والے تھے؛ اللہ کی امداد پر یقین کامل رکھتے تھے؛ خدائے متعال پر ان کی امید کی کوئی انتہا نہ تھی۔ عقلانیت کے پہلو میں بھی عقل و تدبیر، فکر اور محاسبہ بھی امام کے مکتب میں ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ میں ہر مسئلے اور ہر پہلو کا مختصر سا جائزہ لیتا ہوں۔امام کی مکتب کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے جو معنویت اور عقلانیت کی مانند اسلام سے ہی مأخوذ ہے۔ امام کی عقلانیت بھی اسلام سے مأخوذ ہے، آپ کی معنویت بھی اسلامی اور قرآنی ہے۔ یہ [تیسرا] پہلو بھی قرآن اور دین کی متن سے مأخوذ ہے؛ اور یہ پہلو عدل و انصاف کا پہلو ہے۔ ان سب پہلوؤں کو ملا کر دیکھنا چاہئے کیونکہ اگر ان میں سے ایک پہلو کا سہارا لیا جائے اور دوسرے پہلوؤں کو چھوڑدیا جائے تو معاشرے غلط راستے پر چل نکلے گا انحراف کا شکار ہوجائے گا۔ یہ مجموعہ، یہ مکمل پیکیج، امام خمینی رحمة اللہ علیہ کا فکری اور معنوی ورثہ ہے۔ امام بزرگوار رحمة اللہ علیہ خود بھی اپنے طرز عمل میں عقلانیت کو بھی مدنظر رکھا کرتے تھے اور معنویت کا بھی خیال رکھتے تھے اور ساتھ ساتھ اپنے تمام وجود کے ساتھ عدل کے پہلو کی طرف توجہ رکھتے تھے۔ میں یہاں امام کی عقلانیت، [عقلیت] اور دانشمندی کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں:سب سے پہلی مثال ملک کے سیاسی نظام کے لئے جمہوریت کا انتخاب تھا؛ یعنی عوامی رائے کا سہارا لینا۔ جمہوریت کا انتخاب امام رحمة اللہ علیہ کی حیات بخش اور نجات بخش میں عقلانیت کی سب سے اہم مثال ہے۔ شخصی اور فردی حکومتوں نے سالہا سال ہمارے ملک پر حکومت کی تھی۔ حتی کہ جب ہمارے ملک میں آئینی بادشاہت کا اعلان ہوا اور ظاہری طور پر قانون کی بالادستی کو ضابطے کے طور پر تسلیم کیا گیا، عملی میدان میں پہلوی آمریت و استبداد مسلط ہوا جو گذشتہ تمام ادوار و اعصار سے زیادہ تکلیف دہ، زیادہ شدید اور زیادہ مصائب و مسائل کا باعث تھا۔ اس قسم کے ماضی رکھنے والے ملک میں ہمارے امام بزرگوار کو یہ امکان اور یہ توفیق ملی کہ وہ ملک کے انتخابات میں عوام کی شرکت کو ایک باضابطہ حقیقت میں بدل دیں۔ ہمارے عوام کو ـ آئینی بادشاہت کے اعلان کی ابتداء میں مختصر مدت کے سوا ـ آزادانہ انتخابات کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ آپ نے بار بار سنا ہے کہ ان 32 برسوں کے دوران تقریباً بتیس یا تینتیس بار انتخابات منعقد ہوئے ہیں۔ جن میں عوام نے بیلٹ باکسز پر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا اور ان کے ووٹ نے پارلیمان، حکومت، مجلس خبرگان اور بلدیاتی کونسلز کی تشکیل کے اسباب فراہم کئے۔ یہ ہمارے امام بزرگوار رحمة اللہ علیہ کی عقلانیت کی سب سے اہم اور واضح مثال تھی۔ امام کی عقلانیت کا دوسرا نمونہ یہ تھا کہ ان کے کام سارے عقل اور زیرکی پر مبنی تھے۔ جس کا واضح ثبوت یہ تھا کہ کہ جارح دشمن کے سامنے لچک کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے اور کبھی بھی دشمن پر اعتماد نہیں کیا۔ جب امام نے اس انقلاب اور اس ملت ایران کے دشمن کو صحیح طور سے پہچانا تو اس کے سامنے پہاڑ کی طرح کھڑے ہوگئے۔ وہ لوگ جو اس وقت سوچتے تھے یا اب بھی سوچتے ہیں کہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ کبھی کبھی انسان دشمن کے سامنے نرمی دکھائے [اور اپنے مفاد سے تھوڑی سے پسپائی اختیار کرے]، امام نے اس تصور کے بالکل برعکس عمل کیا۔ امام کی عقلانیت اور اس مرد الہی کی پختہ اور پائیدار شدہ عقل نے آپ کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ دشمن کے سامنے بالکل بھی لچک کا اظہار اور ذرہ برابر پسپائی اور نرمی دشمن کی پیش قدمی کا باعث بنتی ہے، دشمن کو کبھی اپنے مخالف فریق کی پسپائی پر ترس نہیں آتا۔ ایک جدوجہد کرنے والی ملت کی پسپائی کا ہر قدم دشمن کی پیشقدمی اور تسلط کا باعث بنتی ہے۔ یہ امام بزرگوار کی عقلانیت کی ایک اہم مثال تھی۔امام رحمة اللہ علیہ کی عقلانیت کا ایک نمونہ یہ تھا کہ آپ نے ملت کے پیکر میں خوداعتمادی اور اپنے اوپر بھروسا کرنے کی روح پھونک دی تھی۔ عشروں پر محیط عرصےی میں ـ یعنی انیسویں صدی کے آغاز سے ایران میں مغربی طاقتوں کے آنے کے بعد ان کے اپنے عوامل نے ـ مختلف تحزیوں کے ذریعے تسلسل کے ساتھ اس ملت کو دبائے رکھا تھا؛ ملت ایران کی تحقیر و تذلیل کیا کرتے تھے؛ وہ ملت ایران کو باور کراتے تھے کہ وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہیں، ان میں علمی اور سائنسی ترقی کی جرأت نہیں ہے، یہ کام کرنے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ پہلوی حکومت کے اہلکار اور ان سے قبل کے حکام بارہا و بارہا ملت ایران کی تحقیر و تذلیل کرتے رہے تھے۔ وہ عوام کو باور کراتے تھے کہ اگر کہیں کوئی ترقی اور پیشرفت قابل تصور ہے، اگر کہیں کوئی بڑا کام کرنا ہے تو یہ سب مغربیوں کے ہاتھوں انجام پانا چاہئے کیونکہ ملت ایران ان امور کی انجام دہی کی اہلیت نہیں رکھتی۔ امام بزرگوار رحمة اللہ علیہ نے ایک اس طرح کی قوم میں خوداعتمادی کی روح پھونک دی اور یہی خوداعتمادی کی روح ملت ایران کی تبدیلی کا نقطہ ثابت ہوئی۔ سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ہماری ترقی اسی خوداعتمادی کی مرہون منت ہے۔ آج ہمارا ایرانی نوجوان، ہمارا ایرانی صنعتکار، ہمارا ایرانی سائنسدان، ہمارا ایرانی سیاستدان اور ہمارا ایرانی مبلغ طاقت اور صلاحیت محسوس کرتا ہے۔ یہ «ما ميتوانيم = ہم کرسکتے ہیں = We Can» کا نعرہ ہمارے امام بزرگوار نے اس ملت کی روح و جان کی گہرائیوں میں ثبت کر دی۔ یہ امام بزرگوار کی عقلانیت کے مظاہر میں سے ایک تھا۔امام رحمة اللہ علیہ کی عقلانیت کا ایک مظہر آئین کی تدوین سے عبارت تھا۔ امام رحمة اللہ علیہ نے عوامی رائے سے منتخب قومی ماہرین (خبرگان ملت) کو ذمہ داری سونپ دی کہ وہ قانون اساسی (آئین) کی تدوین کا کام سرانجام دیں۔ آئین کی تدوین کرنے والوں نے عوامی انتخاب کی بدولت یہ کام سرانجام دیا۔ ایسا نہیں تھا کہ امام رحمة اللہ علیہ نے ایک خاص گروہ کو آئین لکھنے کی ذمہ داری سونپ دی ہو بلکہ امام رحمة اللہ علیہ نے یہ کام بھی قوم کے سپرد کیا۔ اور جب آئین تیار ہوا تو امام رحمة اللہ علیہ نے اسے ایک بار قوم کے سامنے پیش کیا اور قوم نے آئین کے لئے ہونے والے ریفرینڈم میں حق رائے دہی استعمال کرکے آئین کی تأئید کردی۔ یہ امام رحمة اللہ علیہ کی عقلانیت کا ایک مظہر تھا۔ دیکھئے! نظام کی بنیادوں کو امام رحمة اللہ علیہ نے اس طرح سے مستحکم کردیا۔ قانونی لحاظ سے بھی، سیاسی لحاظ سے بھی، سماجی سرگرمیوں کے لحاظ سے بھی، سائنسی و علمی ترقی کی لحاظ سے بھی، امام نے ایک مقتدر اور مستحکم ضابطہ معرض وجود میں لایا اور اس قاعدے اور ضابطے کی بنیاد پر عظیم اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔امام رحمة اللہ علیہ کی عقلان