بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، یمن کی صدارتی دفتر کے پریس بیورو کے سربراہ، "زید الغرسی" نے کل اتوار [20 ستمبر 2026ع] کو خبردار کیا کہ "ریاض بمقابلہ صنعاء" یمن کی مسلح افواج کا وہ ضآبطہ ہے جسے یمن کی مسلح افواج مستحکم کر رہی ہیں۔
الغرسی نے المیادین نیوز نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو چاہئے کہ اس نئے فارمولے کو سمجھ لے، جبکہ فضائی حملوں کے ذریعے جنگ کا دائرہ پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انھوں نے امن کے لئے سابقہ روڈ میپ پر واپسی کے اثرات دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یمن کے حملے سعودی عرب کے فوجی اڈوں اور ارامکو کی تنصیبات پر مرکوز ہیں؛ کیونکہ یہ سعودی عرب کی معیشت کی شہرگ حیات ہیں۔
اس یمنی عہدیدار نے مزید کہا کہ ارامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد سعودی عرب کی معیشت پر دباؤ ڈالنا ہے۔
ادھر یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے سینیچر کے روز سعودی عرب کی گہرائی میں فوجی کارروائیوں کی خبر دی تھی۔
سریع نے کہا تھا کہ دو کارروائیوں کے دوران، بڑی تعداد میں میزائلوں اور ڈرونوں کے ذریعے، سعودی عرب کے دارالحکومت میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے یہ بھی خبر دی کہ یمن کی مسلح افواج نے دوسری کارروائی میں "ینبع" میں واقع ارامکو کمپنی کو کامیابی کے ساتھ، نشانہ بنایا۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے خبر دی کہ یہ کارروائیاں کامیابی سے انجام پائیں اور اس کے نتیجے میں نشانہ بننے والی جگہوں پر وسیع آگ بھڑک اٹھی۔
الغرسی نے یہ بھی کہا کہ سعودی جہازوں پر یمن کی طرف سے عائد محاصرے کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے اور سعودی عرب کو یمن کا محاصرہ ختم کرنا چاہئے۔
اس یمنی عہدیدار نے یاددہانی کرائی کہ اگر پوری دنیا بھی آ کر سعودی عرب کی مدد کرنا چاہے، تو وہ سعودی عرب کے خلاف نافذالعمل یمنی محاصرہ نہیں توڑ سکے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ