جناب فاطمہ بنت حزام المعروف بہ 'ام البنین' (سلام اللہ علیہا) (وفات 64 ہجری) امیرالمؤمنین امام علی (علیہ السلام) کی زوجہ اور حضرت عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان (علیہم السلام) کی والدہ ہیں۔ [۔۔۔]
مفاتیح الجنان میں منقولہ مرثیوں کے ایک حصے میں، جناب اُم البنین (سلام اللہ علیہا) واقعۂ کربلا میں اپنے چار جواں سال بیٹوں ـ عباس بن علی، جعفر بن علی، عثمان بن علی اور عبداللہ بن علی (علیہم السلام) ـ کی شہادت کا دکھ بھرا مرثیہ مندرج ہے؛ [۔۔۔]
جب دو محرم کو یزیدی فوجوں نے امام حسین (ع) کے خیام کو فرات کے کنارے سے ہٹانے کی بات کہی تو حضرت عباس (ع) کے ہوتے ہوئے اسے عملی جامہ پہنانا یزیدیوں کے بس کی بات نہ تھی لیکن حضرت عباس (ع) نے اسی لئے خاموشی اختیار کرلی کہ اگر پانی پر جنگ ہماری طرف سے شروع ہوگئی تو اجداد کی ساری محنت اکارت ہوجائے گی اور پانی پر دوبارہ خونریزی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا ،یہی وہ خصوصیتیں ہیں جن کی بناپر آپ سقائے سکینہ کے لقب سے مشہور ہیں۔/ایثار و وفا کے پیکر ، علی(ع) کی تمنا ، ام البنین (ع) کی آس حسن (ع) و حسین (ع) کے قوت بازو زینب سلام اللہ علیہا و ام کلثوم سلام اللہ علیہا کی ڈھارس، قمر بنی ہاشم حضرت ابوالفضل العباس (ع) ۔۔۔