سورہ انبیا

  • اس دشمن کا انجام طاقت اور دولت نہیں؛ دہشت اور تباہی ہے

    تدبر فی القرآن؛

    اس دشمن کا انجام طاقت اور دولت نہیں؛ دہشت اور تباہی ہے

    سورہ انبیا کی آخری آیات میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ جو دشمن انکار، تفرقہ اندازی اور اپنی طاقت کی نمائش کے ذریعے باطل کی راہ پر گامزن ہیں وعدہ حق کی تکمیل کے وقت ان کو ایک ایسے چہرے کا سامنا ہوگا جس کی انہیں توقع بھی نہیں تھی۔ ان کا انجام اقتدار اور فتح نہیں بلکہ حیرت، دہشت اور مکمل تباہی وبربادی ہے۔

  • دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، شکست اس کا مقدر ہے

    تدبر فی القرآن؛

    دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، شکست اس کا مقدر ہے

    سورہ انبیاء کی آیت نمبر 48 میں اللہ نے فرمایا: تمام جابر طاقتوں کا انجام واضح ہے۔ فرعون اپنی ظاہری ہیبت کے ساتھ ٹوٹ چکے اور مشرکین اپنی تمام دشمنی کے ساتھ شکست کھا گئے۔ یہ ایک الٰہی سنت ہے کہ حق کے خلاف کھڑا ہونے والا کوئی بھی محاذ، چاہے وہ طاقتور ہی کیوں نہ ہو، منہدم ہو جاتا ہے۔

  • اگر دنیا میں کئی خدا ہوتے تو کیا ہوتا؟

    تدبر فی القرآن؛

    اگر دنیا میں کئی خدا ہوتے تو کیا ہوتا؟

    سورہ انبیا کی آیات میں، قرآن اس سوال کا جواب واضح طور پر بیان کرتا ہے: نظم و ترتیب اور ربط و ہم آہنگی  سے بھرپور یہ کائنات صرف ایک مدبر کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ اگر آسمان اور زمین متعدد خودمختار طاقتوں کے درمیان تقسیم ہوتے، تو نہ تو کوئی ہم آہنگی باقی رہتی اور نہ ہی بقا ممکن ہوتی۔ کائنات اپنی پیدائش کے پہلے ہی لمحے میں بکھر کر رہ جاتی۔