روئٹرز نیوز ایجنسی نے بدھ کے روز رپورٹ دی ہے کہ شام پر حکمران باغی ٹولے کا سرغنہ یمن کے انصاراللہ کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کو فوجی مدد دینے پر غور کر رہا ہے۔ / القاعدہ کا دہشت گرد ٹولہ پہلے ہی یمن میں موجود اور اپنے سعودی، امریکی اور صہیونی آقاؤں کی خدمت اور صنعا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔
امریکی صدر نے جمعہ کی شب ایک تقریر میں شام کے صدر کو برسراقتدار لانے میں اپنے کردار کا اعتراف کیا اور کہا: "مجھے کہنا پڑے گا کہ شام کے صدر، جنہیں بنیادی طور پر میں نے خود وہاں تعینات کیا تھا، ایک شاندار کام کر رہے ہیں۔"
شامی باغیوں کے سربراہ نے سابقہ نظام کے زمانے میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نظام کے گرنے کے بعد وہ مسجد الاقصیٰ کی آزادی کے لئے اسرائیل کے خلاف لڑیں گے"؛ لیکن اب جب کہ وہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہیں، تو وہ اس ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے خواہاں ہو گئے ہیں!۔