اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

ماخذ : ابنا
اتوار

9 جون 2024

9:12:56 PM
1464454

طوفان الاقصی؛

غاصب ریاست میں اندرونی بحران؛ غاصب ریاست کی جنگی کابینہ کا رکن بینی گانٹز مستعفی

صہیونی جنگی کابینہ کا رکن بینی گانٹز نے باضابطہ طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، خطے کے ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کا سابق وزیر جنگ بین گانٹز نے کہا ہے کہ اس نے جنگی کابینہ میں مشترکہ مقدرات کی بنا پر شرکت کی تھی، نہ کہ سیاست  شراکت داری کے طور پر۔

بینی گانٹز جو صہیونی پارلیمان میں اپوزیشن کا رکن اور نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف ہے، نے کہا: جنگی کابینہ سے علیحدگی کا فیصلہ ایک سخت اور تکلیف دہ فیصلہ ہے۔

بینی گانٹز نے قبل از وقت انتخابات کے انعقاد اور فوری طور پر ایک تحقیقی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

اس کا کہنا تھا کہ بنیامین نیتن یاہو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر تزویراتی فیصلوں میں رکاوٹ بنا ہے؛ ہم کابینہ سے الگ ہورہے ہیں کیونکہ نیتن یاہو حقیقی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

بینی گانٹز نے کہا: جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں بائیڈن کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں، اور نیتن یاہو سے کہتے ہیں کہ جرات کرو اور اس منصوبے کو قبول کر لو۔

گانٹز نے غزہ میں صہیونی قیدیوں کے گھرانوں سے مخاطب ہو کر کہا: ہم امتحان میں ناکام ہوئے اور تمہارے بچوں کو واپس نہیں لا سکے۔

گانٹز نے کہا: اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لئے سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے ہونے والی کوششوں میں اضافہ ہونا چاہئے۔

اس کا کہنا تھا: جنگ بہت مہنگی ہے اور ایک ہزار سے زائد اسرائیلی خاندانوں کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔

یاد رہے کہ گانٹز نے گذشتہ جمعہ اور سینچر کی درمیانی شب جنگی کابینہ کے اجلاس میں دھمکی دی تھی کہ اگر اگلے 24 گھنٹوں میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے سمجھوتے میں پیشرفت نہ ہوئی تو وہ اگلی رات کو مستعفی ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق جنگی کونسل نے آج [اتوار] کی شب بینی گانٹز اور گاڈی آئزن کوٹ کی غیر حاضری میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے۔

عبرانی ذرائع نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ بینی گانٹز اور اس کا رفیق کار گاڈی آئزن کوٹ بنیامین نیتن یاہو کی جنگی کابینہ سے علیحدگی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

غاصب ریاست کی پارلیمان "کنیسٹ" میں اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے بھی گانٹز سے کہا تھا کہ حکومت سے استعفیٰ دے اور نیتن یاہو کابینہ کو مضبوط نہ کرے۔

ادھر نیتن یاہو نے X نیٹ ورک میں لکھا ہے کہ اب اتحاد کا وقت ہے، اختلاف کا وقت نہیں ہے۔ اور ہمیں اپنے فرائض کے حوالے سے متحد رہنا چاہئے!!

گانٹز نے نیتن یاہو کو 18 مئی سے 8 جون تک کی مہلت دی تھی کہ وہ جنگ اور اس کے نتائج کے بارے میں ایک روشن حکمت عملی پیش کرے ورنہ وہ کابینہ سے الگ ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ گانٹز اور آئزنکوٹ 11 اکتوبر کو نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں شامل ہوئے تھے جس کو ہنگامی کابینہ بھی کہا جاتا تھا اور یوں جنگی کابینہ تشکیل پائی تھی جس میں امریکی وزیر خارجہ بھی اعلانیہ طور پر شامل تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بینی گانٹز کی کابینہ سے علیحدگی نیتن یاہو کے اتحاد کے خاتمے کا باعث نہیں بنے گا جس میں 64 ارکان پارلیمان شامل ہیں۔ لیکن توقع کی جاتی کہ گانٹز کے چلے جانے کے بعد نیتن یاہو کابینہ کو مزید عدم استحکام کا سامنا کرنا ہوگا اور جنگ غزہ میں ناکامی کے ساتھ ساتھ اندرونی طور پر بھی غاصب ریاست کو درپیش سیاسی بحران میں شدت آئے گی۔

بینی گانٹز اور امریکی صدر بائیڈن کے درمیان مثبت رابطے ہیں۔اور ایکسیوس کے اندازوں کے مطابق، بینی گانٹز کی علیحدگی کی وجہ سے نیتن یاہو کو مزید امریکی اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110