اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

ماخذ : ابنا
جمعرات

9 مئی 2024

11:41:01 PM
1457408

طوفان الاقصی؛

مصر کے شہر اسکندریہ میں موساد کی موٹی اسامی کی ہلاکت + ویڈیو - تصاویر

ویسے تو مغربی اور صہیونی ـ نیز مغرب اور صہیونیت سے وابستہ عرب میڈیا ـ نے شور و واویلا شروع کیا ہے کہ اسکندریہ میں شہید محمد صلاح جہادی گروپ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والا شیخ زیو کیپر ایک اسرائیلی ـ کینیڈین تاجر ہے لیکن شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موساد کے ایک اعلی افسر کے طور پر غزہ کے خلاف جنگ میں صہیونی ریاست کے لئے ایک ستون کا کردار ادا کر رہا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، مصر میں طلائع التحریر کے مجاہدین نے ایک شخص کو ہلاک کر دیا ہے جس کے بارے میں موصولہ مختصر سی معلومات کچھ یوں ہیں:

نام زیو کیپر(Ziv Kipper)، بظاہر ایک سادہ سا تاجر، شہریت اسرائیلی بھی کینیڈین بھی، لیکن مقاومت اسلامی کے قریبی ذرائع اس کو جرنیل کی سطح کا افسر قرار دیتے ہیں۔ زیو کیپر پھلوں اور سبزیوں کی ایک مصری کمپنی کا مالک بھی تھا۔ کچھ ذرائع نے اس کا تعارف اسرائیلی فوج کے جرنیل کے طور پر کرایا ہے۔

ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے یہودی ریاست کے کارندے صنعت، تجارت اور زراعت کے شعبوں میں کام کرنے کی آڑ میں موساد کے لئے نیٹ ورک بنانے کے لئے سرگرم ہو جاتے تھے۔

بطور مثال سنہ 1960ع‍ کی دہائی میں کچھ اسرائیلی ماہرین زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کے بہانے ایران میں تعینات ہوئے۔ ان ہی میں سے ایک شخص عزرا دانین (Ezra Danin) تھا وہ بالکل زیو کیپر کی مانند، ایران آیا اور صوبہ خوزستان میں کپاس کی کاشت کو اپنے ہاتھ میں لیا کیونکہ ماہر زراعت کے طور پر ایران آیا تھا۔

عزرا دانین در حقیقت ہاگانا نامی صہیونی دہشت گرد تنظیم کی جاسوسی شاخ "SHAI" کا رکن اور صہیونی ریاست کے قیام کے بعد عرب ممالک میں ـ ماہر زراعت کے طور پر ـ اس ریاست کے لئے جاسوسی کرتا تھا۔ ہاگانا تنظیم جعلی اسرائیلی ریاست کی تاسیس سے قبل فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیاں کرتی تھی۔

عزرا دانین، زاسلانی (Reuven Zaslani [later Shiloah]) نامی صہیونی کا استاد اور سربراہ رہا تھا جو بعد میں موساد کا پہلا سربراہ مقرر ہؤا۔ زاسلانی موساد کا بانی سربراہ تھا اور اس کو صہیونی دہشت گردی کا دادا بھی کہا جاتا ہے۔

مقاومت کے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مصر میں زیو کیپر کا کردار بھی ایسا ہی تھا اور یہ کہ اس شخص کو لبنان میں دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بننے والے شہید محمد سُرُور کے قتل کے بدلے میں ہلاک کیا گیا۔ کیونکہ زیو کیپر مصر میں موساد کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی نگرانی کرتا تھا اور موساد کی مالی اور تجارتی سرگرمیوں کا انتظام کرتا تھا۔

مقاومت کے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اب جبکہ سایوں کی جنگ میں شدت آئی ہے تو محور مقاومت (محاذ مزاحمت) بھی سنجیدگی سے اس جنگ میں داخل ہو گیا ہے اور مصر میں بھی مقاومتی گروپ عنقریب زیادہ شدت کے ساتھ صہیونی مفادات پر حملہ آور ہونے کا امکان ہے۔

ایک مصری مقاومتی گروپ "طلائع التحریر" نے زیو کیپر پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طلائع التحریر شہید محمد صلاح یونٹس کی ذیلی شاخ ہے۔ شہید محمد صلاح نے طوفان الاقصی کے آغاز کے بعد حملہ کرکے کئی صہیونیوں کو واصل جہنم کیا تھا۔

مردخائے لائٹ سٹون نامی شخص نے چاباد (Chabad) نامی ویب سائٹ پر زیو کیپر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا: "زیو کیپر ـ جسے مصر میں قتل کیا گیا ـ ایک بڑے یہودی دل کا مالک تھا۔ جس نے اسکندریہ سے لے کر یوکرین تک، اپنے آپ کو یہودی کمیونٹی کے لئے وقف کر دیا تھا"۔  چنانچہ یہودی ریاست اور مصری میڈیا کا یہ پروپیگنڈا بے بنیاد ہے کہ وہ تو بس ایک معمولی سا تاجر تھا اور بے گناہ مارا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیو کیپر مصر میں موساد کا ایک مہرہ تھا جو صہیونی تاجر کے عنوان سے، مصر سمیت کئی ممالک میں موساد کے گماشتوں کی پشت پناہی میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔

صہیونی ریاست سے متعلق انٹیل ٹائمز سیکورٹی ویب سائٹ نے زیو کیپر کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی ہے، جس کے مطابق وہ موساد کا انتہائی مؤثر مہرہ تھا جسے ایک مصری نوجوان نے منظر عام سے حذف کر دیا ہے، اور الزام کی انگلی ایران کی طرف اٹھائی گئی ہے

کچھ لوگوں نے خیال ہے کہ یہ اقدام اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے ایک پیغام ہو سکتا ہے کہ یہ ملک خطے میں "صہیونی ریاست کی انٹیلی جنس نیٹو" کے مقابلے میں وہ ایک جدید طرز کے اقدامات شروع ہو چکے ہیں!! تاہم اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ مصر کی خفیہ ایجنسیوں اور سرکاری فوج کے اندر ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو صہیونی ریاست کے ساتھ اس ملک کے حکمرانوں کی سازباز سے ناراض اور صہیونی مفادات پر حملہ کرنے کے لئے ہر دم تیار ہیں اور اس لمحے کے منتظر ہیں کہ جب مصری حکومت صہیونیوں کے ساتھ ذلت آمیز سمجھوتوں کو منسوخ کرکے انہیں حملے کی ہدایات جاری کرے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیو کیپر پر حملے کی ویڈیو بھی یہاں پیش کی جا رہی ہے جس میں حملہ آور مجاہد کہتا ہے: شلوم علیکم، یہ تحفہ لیجئے غزہ کے فرزندوں کی طرف سے اور پھر اسے گولیوں سے چھلنی کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110