مغربی بنگال میں مدارس میں ”وندے ماترم“ گانے کو لازمی قرار دینے کے معاملے پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ مختلف مذہبی اور سیاسی تنظیمیں اس فیصلے پر اپنے اپنے انداز میں ردعمل ظاہر کر رہی ہیں۔

21 مئی 2026 - 23:01
مآخذ: ابنا

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال میں مدارس میں ”وندے ماترم“ گانے کو لازمی قرار دینے کے معاملے پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ مختلف مذہبی اور سیاسی تنظیمیں اس فیصلے پر اپنے اپنے انداز میں ردعمل ظاہر کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان نے بھی کھل کر اپنی رائے پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے محبت کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، لیکن کسی مخصوص گیت کو زبردستی گانے پر مجبور کرنا جمہوری اقدار اور آئینی آزادی کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے ”وندے ماترم“ گانا چاہتا ہے تو اسے مکمل آزادی ہونی چاہیے، لیکن حکومت کسی شہری پر اس طرح کی پابندی یا دباؤ نہیں ڈال سکتی۔ ملک معتصم خان نے جمعرات کو آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنی رائے، مذہبی عقیدے اور ثقافتی شناخت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا احترام کرنا ہر انسان کا فرض ہے، مگر یہ فیصلہ فرد کا ذاتی حق ہونا چاہیے کہ وہ کون سا گیت گانا چاہتا ہے اور کون سا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں بھی مختلف فیصلوں میں واضح کر چکی ہیں کہ کسی کو قومی ترانے یا کسی اور گیت کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر مدارس کو ”وندے ماترم“ سے متعلق کوئی مشورہ دیا گیا ہے تو اسے صرف ایک ایڈوائزری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ لازمی حکم کے طور پر۔ ملک معتصم خان نے کہا، ”جسے گانا ہے وہ شوق سے گائے اور جو نہیں گانا چاہتا وہ نہ گائے“۔ ان کے مطابق جمہوری نظام کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ ہر شہری کو اپنی سوچ اور جذبات کے مطابق فیصلے کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کسی مخصوص گیت کو زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ سپریم کورٹ کی روح اور آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف سمجھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی اور ثقافتی معاملات میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی برقرار رہے۔ اس دوران مغربی بنگال میں عیدالاضحیٰ سے قبل قربانی سے متعلق سخت ضابطوں پر بھی بحث جاری ہے۔ اس حوالے سے ملک معتصم خان نے کہا کہ اسلام میں صرف گائے ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے جانور بھی قربانی کے لیے جائز قرار دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھینس، بکری، بھیڑ اور دیگر کئی جانور ایسے ہیں جن کی قربانی دی جا سکتی ہے۔ اگر حکومت گائے کی قربانی پر پابندی لگاتی ہے تو مسلمانوں کے پاس دوسرے متبادل موجود ہیں۔

انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گائے کی قربانی کے مسئلے پر ضد یا تنازعہ پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور حالات کو سمجھداری کے ساتھ سنبھالنا چاہیے۔ ان کے مطابق مذہبی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی اور امن کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ ملک معتصم خان نے حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑے بڑے سلاٹر ہاؤسز کام کر رہے ہیں جہاں سے بیف بیرون ممالک برآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے کئی کاروبار غیر مسلم افراد کے زیر انتظام ہیں۔ ایسے میں صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی گائے کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے بڑے تجارتی مراکز اور بوچڑ خانوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جہاں بڑے پیمانے پر کاروبار ہو رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مویشی پروری اور جانوروں کی تجارت دیہی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ اگر اچانک سخت پالیسیاں نافذ کی جاتی ہیں تو اس سے دیہی معیشت اور کسان طبقہ متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف مذہبی معاملہ نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے جسے سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اتر پردیش کے ضلع بجنور کے ایک نابالغ لڑکے کے کشمیر جا کر اسلام قبول کرنے کے معاملے پر بھی ملک معتصم خان نے ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور مذہب تبدیل کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے کسی مذہب کو قبول کرتا ہے تو یہ اس کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان کو اپنی پسند کے مطابق راستہ اختیار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور دوسروں کو اس سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ ملک معتصم خان نے آخر میں کہا کہ جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ ہر شہری کو سوچنے، بولنے اور اپنی زندگی اپنے عقیدے اور نظریے کے مطابق گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہو۔ ان کے مطابق حکومت کا فرض لوگوں پر اپنی پسند مسلط کرنا نہیں بلکہ تمام شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha