ایران نے جارح امریکی ریاست کی طمع کاری کا جواب ارسال کیا، تو ٹرمپ نے کئی پیغامات اور انٹرویوز میں اعلان کہ "ایران کا جواب ناقابل قبول ہے"! / ٹرمپ کے آخری جملے ـ جو جرمنی کے مجرم نازی آمر "اڈولف ہٹلر" کا چربہ تھے ـ امریکہ کے دہشت گرد صدر، جنگی مجرم ٹرمپ کے لئے نئی رسوائی کا باعث بن گئے۔/ آخر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا جواب بھی ملاحظہ ہو۔

12 مئی 2026 - 17:12

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے جواب پر پیڈوفائل امریکی صدر کے پیغامات اور انٹرویوز کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

- ایرانیوں کا بھیجا ہؤا جواب بالکل ناموزون تھا، اسے پڑھنا، وقت ضائع کرنے کے مترادف تھا۔

- اوباما صدر بنا تو ایران نے "خزانے" تک رسائی حاصل کی۔ اس نے اسرائیل اور باقی اتحادیوں کو کھڈے لائن لگا اور ایران کو زندگی کا ایک مضبوط موقع اور دیا (JCPOA) اور سینکڑوں ارب ڈالر پیسہ تہران منتقل ہؤا! [

ٹرمپ نے اس جملے میں ایران کے منجمد اثاثوں میں سے کچھ رقم کی واپسی کی طرف اشارہ کیا ہے، جو سینکڑوں ارب ڈالر نہیں بلکہ دو ارب ڈالر کے قریب تھی اور اوباما نے مسروقہ ایرانی اثاثوں میں سے کچھ رقم واپس کی تھی اور یہ کوئی عطیہ نہیں تھا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا:

- ایران 47 سال سے امریکہ اور باقی دنیا کے ساتھ کھیلتا رہا ہے۔ انہوں نے ہمیں مصروف اور منتظر رکھا ہے۔

- جنگ بندی ناقابل یقین حد تک کمزور ہو گئی ہے اور زندہ رکھنے والی مشین سے متصل ہے!

- میں "پروجیکٹ فریڈم" دوبارہ شروع کرنے کا جائزہ لے رہا ہوں، لیکن وسیع تر پیمانے پر جو آبنائے ہرمز میں جہازوں کے اسکورٹ پر مرکوز نہ ہو!

واضح رہے کہ پروجیکٹ فریڈم ٹرمپ اور ہیگستھ کا ذاتی منصوبہ ہے جو فوجی کمانڈروں سے مشورے کے بغیر تیار کیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ ناکام ہؤا تو ٹرمپ نے اسے بظاہر ملتوی کر دیا اور پھر ایک نیا مرحلہ آگے بڑھانے کی کوشش کی نام و عنوان کے بغیر، اس میں بھی بدترین ناکامی سے دوچار ہؤا، اب اس پروجیکٹ کے دائرے میں تیسری امریکی شکست کا انتظآر ہے۔

ٹرمپ نے آخر میں یہودیوں کے خلاف ہٹلر کے دو جملے دہرائے اور کہا:

"ایرانی اس وقت ہمارے دوبارہ بڑے ہونے والے ملک پر ہنس رہے ہیں"، "وہ مزید نہیں ہنسیں گے۔"

ٹرمپ کی ئئی رسوائی؛ ہٹلر کے جملے دہرا لئے!

ایران کے جواب پر ٹرمپ کے آخری جملے ـ جو جرمنی کے مجرم نازی آمر "اڈولف ہٹلر" کے مشہور جملوں کا چربہ تھے ـ امریکہ کے دہشت گرد صدر، جنگی مجرم ٹرمپ کے لئے نئی رسوائی کا باعث بن گئے ہیں۔

ہٹلر نے یہودیوں کے خلاف سرگرمیوں کا آغاز کیا تو اس نے یہ دو مشہور جملے کہہ دیئے: "یہودی کسی وقت ہم پر ہنستے تھے"۔ "وہ مزید ہم پر نہیں ہنسیں گے۔" ان جملوں سے ٹرمپ کی بنیادی سوچ کا اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے اور واضح ہوجاتا ہے کہ سفیدفاموں کی بالادستی پر یقین رکھنے والا یہ نسل پرست امریکی صدر در حقیقت نازیت کا پرستار اورہٹلر کا مداح ہے جس نے اس سے پہلے اپنے ایک مشیر سے بات چیت کرتے ہوئے غیر ملکی تارکین وطن کو آگ لگا کر ہلاک کرنے کی دلی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا رد عمل

اور ہاں! اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان، اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے عجیب و غریب رد عمل پر کہا: خطے میں جنگ کے خاتمے کے لئے ہمارا مطالبہ امریکی ناکہ بندی ـ اور رہزنی اور بحری قزاقی ـ کا خاتمہ اور عشروں سے امریکی بینکوں میں بند ایرانی عوام کے منجمد اثاثوں کی واپسی ہے، کیا یہ حد سے بڑھ کر مطالبہ ہے؟ ہماری تجویز یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں پرامن جہازرانی جاری رہے، کیا یہ ہم نے امریکہ سے حد سے بڑھ کر مطالبہ کیا ہے؟ کیا پورے خطے میں صلح و آشتی کی بحالی کا اہم مسئلہ، غیر ذمہ دارانہ مطالبہ ہے۔ ہم نے جائز مطالبات پیش کئے ہیں اگر ٹرمپ ان سے ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے، تو یہ اس کا اپنا مسئلہ ہے۔

بقائی نے ٹرمپ اور اس کی ٹیم کی طرف سے ایٹمی حملے کی ضمنی دھمکیوں کے بارے میں کہا: ہم کسی بھی قسم کے جارحیت کے مقابلے میں اپنا دفاع خود جانتے ہیں۔

انھوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے اہداف کے عدم حصول اور جنگ جاری رکھنے پر مبنی نیتن یاہو کی بکواسات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا: کچھ فریقوں نے ایران پر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، اور ان سے حساب بے باق کرنا ابھی باقی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

ایران کا جواب ناقابل قبول ہے، ٹرمپ نے ہٹلر کی یاد تازہ کر دی / ایرانی دفتر خارجہ کا جواب

 

ایران کا جواب ناقابل قبول ہے، ٹرمپ نے ہٹلر کی یاد تازہ کر دی / ایرانی دفتر خارجہ کا جواب

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha