امریکہ کے سابق انٹیلی جنس افسر، اسکاٹ رٹر کہتے ہیں کہ انصار اللہ شجاعت اور مذہبی یکجہتی کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے جبکہ آل سعود پٹروڈالر سے وابستہ حکومت ہے، جس کو اس وقت یمنی مقاومت کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ سعودی عرب ایک کاغذی شیر ہے؛ انصار اللہ کے مقابلے میں اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے؛ اور انصار اللہ کی پیشقدمی سعودی بادشاہت کے زوال کا باعث بن سکتی ہے، اور اس خاندان کا زوال خلیج فارس کی دوسری غیر جمہوری ریاستوں کے زوال پر پر منتج ہو سکتا ہے۔
یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ نے ایران اور محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سعودی عرب سے کہا کہ 'صنعا کے ساتھ مصالحت کے اخراجات، جنگ کے اخراجات سے ہم ہیں۔
“قاسم بصیر” الیکٹرو آپٹیکل میزائل کے امریکی بحری جہاز پر لگنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اپنے میزائلوں کی رینج اور تخریبی طاقت (Destructive power) کی طاقت میں اضافے کے علاوہ الیکٹرانک جنگی ماحول میں درست نشانہ بندی کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے؛ ایسی قابلیت جو خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک امریکی بیڑے کی آزادیِ عمل کو محدود کرتی ہے۔