سنہ 2001 میں عالمی تجارتی مرکز پر حملے کے بعد، اس وقت کے امریکی صدر نے ـ حملوں میں ملوث افراد اور حملوں کے محرکات کے بارے میں کسی بھی تحقیق سے پہلے ـ پورے عالم اسلام کے خلاف موقف اپنایا اور اپنی زیر زمین پناہگاہ سے ایک پیغام جاری کرکے صلیبی جنگ کا آغاز کیا تھا۔ سنہ 2023 میں حماس نے طوفان الاقصی کا معرکہ شروع کیا تو امریکی صلیبی عیسائیت بھی یہودی انتہاپسندی کے ساتھ مل کر اس جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی۔ [۔۔۔]
ریٹائرڈ امریکی فوجی افسر کہتا ہے: "ہم جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے/ ہم فوجی لحاظ سے شکست کھا چکے ہیں / ایران ہم سے مذاکرات نہیں کر رہا ہے، اور ہم تنہا ہو گئے ہیں / ہمارے پاس مذاکرات کی میز پر دکھانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے / اقتصادی لحاظ سے ہماری طرف کی پابندیوں کی دھمکیاں دنیا والوں کے نزدیک ہنسی مذاق کا سبب بن گئی ہیں۔