1 جنوری 2020 - 04:42
ہندوستان کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں ایک شاندار نظم ’’ خون کی سرداری‘‘

قوم کے درد سے آشنا ہندوستان کے جواں سال اور خوش فکر شاعر جناب ندیم سرسوی کی ایک نظم جس میں انہوں نے اپنے وطن ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں مسلم قوم کے فولادی عزم و حوصلے کی عکاسی ہے۔

خون کی سرداری

 

تو ہے حاکم تری طاقت کا پتا ہے مجھ کو

مری قدرت سے مگر تو تو خبردار نہیں

موت سے مجھ کو ہر اک گام ڈرایا تو نے

پھر بھی چہرے پہ مرے خوف کے آثار نہیں

ظلم تو صبر سے ہر دور میں کھاتا ہے شکست

اس حقیقت کو سمجھنے پہ تو تیار نہیں

 

ایک دن ایسا مگر آئے گا میں جانتا ہوں

اپنی حالت پہ تو روئے گا ترس کھائے گا

چیخیں مظلوم کی کانوں میں تیرے گونجے گی

شور ماتم کا تجھے ہر گھڑی تڑپائے گا

جب حکومت کا تیرے سر سے نشہ اترے گا

تو بھی احساس کی سولی پہ لٹک جائے گا

موت تھی میرے لئے ایک سکوں کا ذریعہ

پر تجھے مر کے بھی کچھ چین نہیں آئے گا

 

ایسا لگتا ہے تجھے تھا ہی نہیں اندازہ

خون ایوان حکومت کے نگل سکتا ہے

تو نے گلیوں میں بہاتے ہوئے سوچا ہی نہیں

خون تو سر بھی ترا آ کے کچل سکتا ہے

 

خون مظلوم کا گرتے ہی زمیں کے رخ پر

آسماں تک کو سہولت سے گرا دیتا ہے

تو تو اک خاک کا پتلا ہے تری بات ہی کیا

خون رستے سے پہاڑوں کو ہٹا دیتا ہے

خون جب جھوم کے مقتل میں قدم رکھتا ہے

تیغ و خنجر کی حکومت کو مٹا دیتا ہے

بس یہی سوچ کے مظلوم کا دل شاد رہا

خون ظالم کو بڑی سخت سزا دیتا ہے

 

سر اٹھانا ہے تو سر دینا پڑے گا اک دن

خون نے درس سکھایا ہے یہ سرداروں کو

جسم کی قید سے ہوتے ہی رہا لمحوں میں

خون نے توڑ دیا جبر کی تلواروں کو

موت کا خوف بٹھاتا ہے دلوں میں ایسا

خون جینے نہیں دیتا ہے ستم گاروں کو

جب بپھرتا ہے کسی موج کی مانند ندیم

خون خاطر میں کہاں لاتا ہے سرکاروں کو




/129