26 ستمبر 2019 - 11:43
ہرمزپیس پلان کے تحت ایران علاقے کے ملکوں کے ساتھ تعاون کے لئے تیار

وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اعلان کیا ہے اسلامی جمہوریہ ایران خلیج فارس میں قیام امن کے لئے اقوام متحدہ اور خطے کے تمام ملکوں کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے ۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ہرمزامن فارمولہ کے تناظر میں علاقائی تنظیموں کے ساتھ اقوام کےتعاون کے زیر عنوان منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں ، خلیج فارس میں امن و سلامتی کے قیام کے لئے صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی کے پیش کردہ ، ہرمز پیس پلان کی تشریح کرتے ہوئے ، خطے کے سبھی ملکوں کو اس پلان میں تعاون کی دعوت دی ۔انھوں نے کہا کہ یک جہتی کا فروغ ، باہمی افہام و تفہیم ، پر امن دوستانہ روابط ، علاقائی ملکوں کے درمیان تعاون ، ایک دوسرے کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کا احترام ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مہم ، توانائی اور انرجی کی سلامتی کو یقینی بنانا، آزادانہ جہاز رانی اور تیل کی سپلائی کا جاری رہنا ، ہرمز پیس پلان کے اہداف میں شامل ہے ۔یاد رہے کہ اسلامی جہموریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ کی شام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل میں ایران کے موقف کی تشریح کرتے ہوئے ، ہرمز پیس پلان اور امید الائنس کے نام سے علاقے میں امن و سلامتی کا فارمولا پیش کیا۔انھوں نے اپنے پیس پلان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں امن و استحکام اور سلامتی کے تحفظ کی اپنی تاریخی ذمہ داری کے پیش نظر ، ان تمام ملکوں کو جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے حالات اور تغیرات سے متاثر ہوسکتے ہیں، ہرمز پیس پلان اور امید الائنس میں شمولیت کی دعوت دیتا ہے ۔ہرمز پیس پلان یا امید الائنس کے اہداف و اصول ، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں دائمی امن و آشتی کے قیام کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں ۔ یہ پلان دراصل آبنائے ہرمز سے تیل کی آزادانہ سپلائی جاری رہنے اور آزادانہ جہازرانی نیز توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ایران کی اصولی پالیسی کی تکمیل کرتا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کا یہ پیس پلان علاقے کے حقائق کی بنیاد پر تیارکیا گیا ہے اور خلیج فارس کے ملکوں کا عزم اس علاقے میں محکم امن و سلامتی کے قیام پر منتج ہوسکتا ہے۔صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے پڑوسی ملکوں کی سلامتی اور خودمختاری کو اپنی سلامتی اور خود مختاری سمجھتا ہے ۔ انھوں نے اسی کے ساتھ اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بیرونی طاقتوں کی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا اور اپنی سلامتی نیز ارضی سالمیت کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کا دندان شکن جواب دے گا۔،

.......

/169