28 جولائی 2019 - 11:25
ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں بتدریج کمی کا سلسلہ جاری رہے گا

قومی سلامتی اور خارجہ امور کے پارلیمانی کمیشن کے ترجمان سید حسین نقوی حسینی نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے تحفظ کی خاطر اس پر عملدرآمد کی سطح میں بتدریج کمی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ امور کے پارلیمانی کمیشن کے ترجمان سید حسین نقوی حسینی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یورپ میں ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کا لازمی عزم دکھائی نہیں دیتا اور اس نے اب تک اپنا ایک بھی عملی طور پر پورا نہیں کیا ہے۔

سید نقوی حسینی نے واضح کیا کہ جرمنی، برطانیہ اور فرانس پر مشتمل یورپی ٹرا‏ئیکانے مقررہ مہلت کے اندر اپنے وعدے پورے نہ کیے تو اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں مزید کمی کرنے میں ذرہ برابر بھی تامل سے کام نہیں لے گا۔

قومی سلامتی اور خارجہ امور کے پارلیمانی کمیشن کے ترجمان نے ایران کی جانب سے یورپی ٹرائیکا کو دی جانے والی ساٹھ روزہ مہلت کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سینٹری فیوج مشینوں کی تعداد میں اضافہ، آئی آر ٹو اور آئی آر ایم ٹو سینیٹری فیوج مشینوں کی تنصیب، یورینیم افزودہ کرنے والی سینٹری فیوج مشینوں کی تعداد میں اضافہ، یورینیم کی بیس فی صد تک افزودگی اور اراک کے بھاری پانی کی تقویت تیسرے مرحلے کے اقدامات میں شامل ہے۔

دوسری جانب ایران کے ایٹمی توانائی کے قومی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ اراک کے تحقیقاتی ایٹمی ری ایکٹر کو نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ری ڈیزائن کیا جائے گا اور اس منصوبے کے مختلف مراحل پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

آزاد ولایی پارلیمانی دھڑے کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر علی اکبر صالحی کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کی خاطر پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے اور ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنے ایٹمی پروگرام کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے جائیں۔

ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے ایک بار پھر ایران کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ ہم ایٹم بم نہیں بنانا چاہتے، اور امریکہ اور یورپ والے بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں البتہ وہ یہ بھی جانتے ہیں ہم ایٹم بم بنانے کی توانائی رکھتے ہیں لیکن ہم ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔

ایران کے ایٹمی توانائی کے قومی ادارے کے سربراہ نے واضح کیا کہ ایران بھی جرمنی اور جاپان کی طرح ایٹم بم ہرگز نہیں بنائے گا کیونکہ یہ ممالک ایٹم بم نہیں بناتے لیکن ایٹم بم بنانے کی توانائی رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے کہا کہ امریکیوں کی یہ سوچ غلط ہے کہ وہ ایران سے کہیں کہ تم ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نابالغ ہو۔

ڈاکٹر علی اکبرصالحی نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے مطابق، اراک کے تحقیقاتی ری ایکٹر کی ری ڈیزائننگ کا کام جاری ہے جبکہ ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کا سلسلہ بھی قدم بقدم آگے بڑھ رہا ہے۔




/129