اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی بھی کسی ملک کیساتھ جنگ کا آغاز نہیں کیا ہے لیکن اگر کسی بھی ملک، ایران کیساتھ جنگ کا آغاز کرے تو وہ یقینا اس جنگ کو خاتمہ دینے والا نہیں ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے بدھ کے روز سی این این نیوز چینل کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے ایرانی فضای حدود کی دراندازی کرنے والے امریکی جاسوس ڈروں کو مارگرانے کے حوالے سے کہا کہ ہم اپنی سزمین کا دفاع کرتے ہیں اور امریکی جاسوس ڈرون نے ایرانی فضائی حدود کی دراندازی کی اسی لئے ہم نے اسے مارگرایا کیونکہ وہ ایرانی حدود میں داخل نہ ہونے کی صورت میں بھی جاسوسی کر سکتا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی جاسوس ڈرون کی ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونا نہ صرف ملکی سالمیت بلکہ ہماری قومی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔
ظریف نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں یہ برداشت نہیں کریں گے کہ غیرملکی، 6 ہزار میلوں کے فاصلے سے دور ہمارے خطے میں آکر ہماری ملکی سالمیت اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیں۔
انہوں نے ایران اورامریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے وقوع کے حوالے سے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی بھی کسی ملک کیساتھ جنگ کا اغاز نہیں کیا ہے لیکن اگر کسی ملک ایران کیساتھ جنگ کا آغاز کرے تو وہ یقینا اس جنگ کو خاتمہ دینے والا نہیں ہوگا۔
ظریف نے ایرانی جنوبی علاقے قشم میں ایک بحری جہاز غائب ہونے کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی رپورٹ وصول نہیں کیا ہے لیکن شائع ہونے والی خبروں میں دیکھا ہے کہ اس جہاز کو مدد کی ضرورت تھی کی اور اسے مدد کی گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے "کیا ایران خلیج فارس میں کشیدگی پیدا کرنے کے درپے ہے؟" کے جواب میں کہا کہ ہم تو خود خلیج فارس میں موجود ہیں اور ہمارے خلیج فارس میں ایک لاکھ 500 میلوں سے زائد ساحلی لائنز ہیں اور آبنائے ہرمز بھی ایران کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے؛ یہ پانی ہماری زندگی کا لائن ہے اس لئے اس کے امن کی فراہمی ہمارے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تاریخ کے دوران ایران نے بدستوراس خطے اور ان پانیوں میں امن کو فراہم کیا ہے اور اب امریکہ، اس پانیوں میں دخل اندازی کرنے کے ذریعے ایران میں عدم استحکام پھیلانا چاہتا ہے حالانکہ وہ اس پانیوں کو کسی ملک کیلئے امن اور کسی دوسرے ملک کیلئے بدامن قرار نہیں دے سکتا۔
ظریف نے خلیج فارس میں ممکنہ اتفاقی تصادم کے حوالے سے کہا کہ اگر خلیج فارس جیسی چھوٹی سمندری حدود میں بہت زیادہ غیر ملکی بحری جہاز موجود ہو تو تصادم وقوع پذیر ہوگا۔
انہوں نے 1988 کے حادثے کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اسی سال میں امریکی بحری بیڑے نے 290 مسافروں پر مشتمل ایرانی مسافر بردار طیارے کو میزائل کا نشانہ بنا کر اسے مارگرایا۔
ظریف نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہر کسی قسم کے اتفاقی تصادم تباہی کا باعث بن سکتا ہے لہذا جنگوں کو رکنے کے حوالے سے سبوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ابھـی ایران کیخلاف ایک معاشی جنگ جاری ہے جس نے ایرانی عوام کو نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کیساتھ فوجی جنگ کا خواہاں نہیں لیکن انہوں نے ایران کیخلاف معاشی جنگ کا آغاز کیا ہے۔
ظریف نے کہا کہ معاشی جنگ کسی فخر کرنے والی بات نہیں کیونکہ فوجی کاروائی میں نہتے لوگوں اور عام شہریوں کو جزوی طور پر نقصاں پہنجایا جائے گا جبکہ معاشی جنگ میں وہ سب سے پہلے حملوں کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔
انہوں نے "کیون ایران آئل ٹینکروں کے تعاقب اور ڈرون کو مار گرانے کے ذریعے خطے میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتا ہے" کے جواب میں کہا کہ جہاں تک مجھے یاد وہ برطانیہ تھا جس نے جبل الٹر میں ایرانی آئل ٹینکر کو تحویل میں لے لیا اور اسی اقدام کے ذریعے سارے بین الاقوامی قوانین کے حقوق کی خلاف ورزی کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران میں برطانیہ کے رائل میرینز نے ایرانی سپر ٹینکر گریس 1 کو جبرالٹر کی بحری سرحد پر تحویل میں لے لیا تھا.برطانیہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایرانی ٹینکر کو خام تیل شام کو سپلائی کرنے کے خدشے کے پیش نظر تحویل میں لیا گیا ہے کیونکہ شام کو تیل کی سپلائی بشار الاسد حکومت پر یورپی یونین کی جانب سے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔
/129
18 جولائی 2019 - 04:31
News ID: 962207
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے خلیج فارس میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کو خطے میں عدم استحکام اور بدامنی پھیلانے کی باعث قرار دیتے ہوئے ہر کسی قسم کی ممکنہ جنگ کے حوالے سے وارننگ دے دی۔