اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، قابض اسرائیلی فوج کی مدد سے ۳۰ سال میں پہلی مرتبہ یہودی آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی کوشش کی ہے، جس پر وہاں موجود مسلمان نمازیوں نے احتجاج کیا تو اسرائیلی فوج نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ نے یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ پر یلغار اور قابض فوج اور پولیس کے ہاتھوں نمازیوں اور روزہ داروں پر وحشیانہ تشدد کو ریاستی دھشتگردی قرار دیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ قبلہ اول میں فلسطینی روزہ داروں کے خلاف صہیونی ریاست کے پرتشدد حربے عالم اسلام اور پوری مسلم امہ کے لیے ایک آزمائش ہیں۔
خیال رہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر اس مقدس مقام کی بے حرمتی کی جبکہ اس موقع پر فلسطینی روزہ داروں کو مسجد سے باہرنکال دیا گیا۔ یہودی کئی گھنٹے تک آزادانہ انداز میں قبلہ اول میں گھومتے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242