اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰؑ کے یوم شہادت کی مناسبت سے انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے اہتمام سے وادی بھر میں خصوصی مجالس عزا کا انعقاد کیا گیا سب سے بڑی اجتما عات مرکزی امام باڑہ بڈگام اور قدیمی امام باڑہ حسن آباد سرینگر میں منعقد ہوئے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں عقیدت مندوں کے جمع غفیر سے خطاب کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام و المسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے امیر المومنین حضرت علیؑ کے مقام و منزلت اور سیرت و کردار کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی۔
آغا حسن نے کہا کہ مولا علیؑ رسول اکرم ؐ کے سیرت و کردار کے کامل نمونہ تھے علیؑ کعبۃ اللہ میں تولد ہوئے اور مہراب مسجد میں درجہ شہادت پر فائض ہوئے پیغمبر اکرم ؐ کی آغوش تربیت اور سرپرستی میں پروان چڑھے عالم بشریت میں سے کسی بھی فرد کو ایسی سعادت اور اعزاز حاصل نہیں ہو سکا اسلام کی ترویج اور تحفظ میں علیؑ کے غیر معمولی کردار اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک علیؑ کی عزمت و منزلت کے تنازر میں رسول اکرامؐ نے علی کی محبت کو ایمان اور علیؑ سے نفرت کو نفاق کی نشانی قرار دیا انھوں نے کہا کہ علیؑ زہد و تقویٰ،علم و عرفان،شجاعت و سخاوت،کشف و کرامات کے پیکر تھے نبی اکرمؐ کے بعد علی سے بڑ ھ کر کوئی بھی شخضیت بزرگ و برتر نہیں تاہم علیؑ کو خود جس پر فخر تھا وہ حضورؐ کی اطاعت و فرما برداری اور نصرت و ہمایت کا جذبہ و کردار و عمل تھا۔
آغا حسن نے کہا کہ مسلمانوں نے عترت کو چھوڑ کر آیات قرآنی کی خود ساختہ تفسیر و تاویل کی جسکے نتیجے میں گروہ خوارج معرض وجود میں آیا جس نے ال حکم اللہ کا نعرہ لگا کر خلیفتہ المسلمین حضرت امام علیؑ کے خون مقدس سے اپنے نجس ہاتھ رنگے اس طرح امت مسلمہ ایک ایسے رہبر و رہنما اور امام و عالم سے محروم ہوگئی جس کو نبیؐ نے باب العلم قرار دیا تھا انھوں نے کہا کہ اسلام و امت مسلمہ کی سربلندی اور دشمنان اسلام کی شر انگیزیوں سے نجات کا راستہ علیؑ کے سیرت و کردار کی پیروی میں مضمر ہے مسلمان اگر علیؑ کے سیرت و کردار کی پیروی کو اپنا شعار بنایں تو دنیا کی کوئی قوت انھیں سر نگون نیں کرسکتی جسکی زندہ مثال اسلامی جمہوریہ ایران ہے جسکو جھکانے کے لئے عالمی طاقتوں نے تمام ہربے بروئے کار لائے اس موقعہ پر اسلام جمہوریہ ایران کے معروف حافظ و قاری قرآن آقای جاویدی صرافان مشہد رضا نے تنظیم کے سلسلہ مجالس انس باقرآن کے جاری پروگرام کے تحت اپنے روح پرور لہجے میں شرکاے مجلس کو تلاوت قرآن سے محظوظ فرمایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲