اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیلی کینسٹ کے انتہا پسند رکن “بتسلئیل اسموٹریچ” نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا ہے: اصولی طور پر غزہ کے ۷۰۰ افراد کے قتل کے بعد جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے یعنی ہر راکٹ کے بدلے میں ایک فلسطینی تاکہ حماس کئی سالوں تک حملہ کی فکر نہ کر سکے۔
صہیونی ریاست کی دائیں بازو پارٹی کے رکن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فلسطینی گروہوں نے دو دنوں میں ۷۰۰ راکٹ اسرائیل پر داغے ہیں۔
یہ بیانات ایسے حال میں سامنے آئے ہیں جب جرمنی میں امریکی سفیر اسرائیل کے دورے پر ہیں اور انہوں نے حالات کے پرسکون ہونے کی تاکید کرنے کے ضمن میں اپنے ٹویٹر پر لکھا کہ مقبوضہ فلسطین کے لوگ غزہ کی جانب سے ۶ سو سے زائد راکٹ داغے جانے کی وجہ سے سخت غم و غصہ کی حالت میں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲