6 اپریل 2019 - 19:58
کیا دو ہزار انیس کے انتخابات اکھنڈ بھارت کے خواب کی تعبیر میں ایک بڑا قدم ثابت ہونگے؟

۲۰۲۵ء میں پاکستان ہندوستان کا حصہ ہوگا یہ تو انتخابات کی بھٹی کی ایک غذا ہے اس قسم کی کئی باتیں گردش کر رہی ہیں جن کے ذریعہ اکثریت کو بر سر اقتدار پارٹی کی طرف رجھانا ہے کہ اگر تم نے اس با ر اپنا کام کر دیا تو ہم آگے سب دیکھ لیں گے ووٹ دینا تمہارا کام ہے دستور بدلنا ہمارا کام ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

بقلم ایس وویک سندر کمار

ہندوستان میں انتخابات کا تنور داغ ہے ،  محاذ بن رہے ہیں پارٹیاں تبدیل ہو رہی ہیں اور موقع پرست افراد  خیموں  کو بدل رہے ہیں ایسے میں عجیب و غریب خبریں بھی سننے کو مل رہی ہیں  ،کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ انتخابات ایسے ہوں گے کہ اگلے پچاس سال تک پھر انتخابات کی ضرورت ہی نہ رہے گی تو کوئی کہہ رہا ہے  آنے والے دنوں میں آپ جلد از جلد پاکستان میں فلیٹ بک کرا لیں کیونکہ ۲۰۲۵ تک پاکستان ہندوستان کا حصہ بن جائے گا   اور یہ ساری باتیں ڈھکے چھپے نہیں عل الاعلان کہی جا رہی ہیں چنانچہ ہندوستان کے معروف اخبار دی انڈین ایکسپریس کے نقل کے مطابق مطابق ہندو تنظیم آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینیئر پرچارک (مبلغ) اندریش کمار نے کہا ہے کہ سنہ ۲۰۲۵ کے بعد پاکستان بھارت کا حصہ بن جائے گا۔انھوں نے یہ بات گزشتہ دنوں قبل کشمیر کے مسئلے پر ایک تقریر کے دوران ہندوستان  کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی میں کی۔مجمع  سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘آپ لکھ لیجیے کہ آپ پانچ سات سال بعد کراچی، لاہور، راولپنڈی اور سیالکوٹ میں کہیں بھی مکان خریدیں گے اور آپ کو تجارت کا موقع حاصل ہوگا۔’

آرایس ایس کے نظریاتی پرچالک  اندریش کمار نے کہا کہ سنہ ’۴۷ سے پہلے پاکستان نہیں تھا۔ لوگ یہ کہتے ہیں (سنہ) ۴۵ کے پہلے وہ ہندوستان تھا۔ اور  (۲۰۲۵) کے بعد دوبارہ وہ ہندوستان ہونے والا ہے۔’انھوں نے مزید کہا: ‘حکومت ہند نے پہلی بار کشمیر پر سخت موقف اپنایا ہے۔ کیونکہ فوج پولٹیكل ول پاور (سیاسی عزم) پر عمل کرتی ہے لہذا ہم یہ خواب لیکر بیٹھے ہیں کہ لاہور جا کر بیٹھیں گے اور کیلاش مان سروور جانے کے لیے چین سے اجازت نہیں لینی پڑے گی۔ ڈھاکہ میں ہم نے اپنے ہاتھ کی حکومت بنائی ہے۔’انھوں نے یہ امید ظاہر کی کہ ‘اکھنڈ بھارت’ کا خواب جلد ہی پورا ہوگا[۱]۔

اکھنڈ بھارت کیا ہے ؟

اکھنڈ بھارت  ایک وسیع ہندوستان کا تصور ہے جس کے تحت  آر ایس ایس اور ہندوتوا نظریاتی تنظیمیوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ تقسیم سے قبل ہندوستان کو اپنی اصلی جگہ پر لایا جا سکے [۲]کویتا کرششن جیسے لوگ اس سلسلہ سے واضح کرتے آئے ہیں کہ ” آر ایس ایس اکھنڈ بھارت کے طور پر صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کو ہی نہیں بلکہ نیپال کو بھی دیکھتی ہے[۳]۔ وہ ان سارے ممالک کو اپنے وسیع تر ہندتوا کے پروجیکٹ کے حصے کے طور پر دیکھتی ہے[۴] اور مجموعی طور اسے ایک فاسشٹ ہندو راشٹر قائم کرنے کی راہ میں ایک قدم مانتی ہے۔

یہ ان کی توسیع پسندانہ خواہش ہے جس میں دوسرے ممالک پر ان کا قبضہ، دوسرے ممالک کے وجود کا خاتمہ اور ہندوں کی کی فتحیابی اور ہندو راج کا قیام ہے جس میں مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہوں گے ۔’

اندریش کمار کے بیان پر جب اردو کے سینیئر صحافی اور مسلم دنیا کے ایڈیٹر زین شمسی سے سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دینے کے بجائے یہ سوال پوچھ لیا کہ ‘جب پاکستان انڈیا کا حصہ ہونے والا ہے تو پھر آر ایس ایس والےہندوستان کے مسلمانوں کو ہمیشہ پاکستان کیوں بھیجنے پر تلے رہتے ہیں؟[۵]

یہ سوال اس پیرایہ میں بہت اہم ہے کہ ابھی کچھ ہی دن قبل گڑگاوں میں ہولی کے تیوہار  پر ایک مسلم خاندان کو لوگوں نے معمولی سی بات پر بری طرح زود کوب کرتے ہوئے یہی نعرے لگائے تھے کہ تم پاکستان جاو یہاں تمہارا کیا کام ہے ۔

۲۰۲۵ء میں پاکستان ہندوستان کا حصہ ہوگا یہ تو انتخابات کی بھٹی کی ایک غذا ہے  اس قسم کی کئی باتیں گردش کر رہی ہیں جن کے ذریعہ اکثریت کو بر سر اقتدار پارٹی کی طرف رجھانا ہے کہ اگر تم نے اس با ر اپنا کام کر دیا تو ہم آگے سب دیکھ لیں گے ووٹ دینا تمہارا کام ہے دستور بدلنا ہمارا کام ہے ، چنانچہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے منسلک ایم پی ساکچھی مہاراج  نے یہ پیشین گوئی بھی کر دی ہے کہ دو ہراز انیس کے بعد انتخابات ہی نہیں ہونگے ، چونکہ مودی کی سونامی کے بعد انتخابات کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ” مودی نام کی سونامی سے مجھے لگتا ہے کہ اس انتخابات کے بعد ۲۰۲۴ ء میں کوئی انتخابات نہیں ہوں گے [۶]

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، ساکشی مہاراج نے کہا، ‘ میں ایک سنیاسی ہوں اور جو بھی میرے دماغ میں آتا ہے وہ میں بول دیتا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ ان انتخابات کے بعد ۲۰۲۴ میں کوئی انتخاب نہیں ہوں‌گے۔ صرف ایک یہی انتخاب بچا ہے جو کہ ملک کے نام پر لڑا جائے‌گا۔ ‘انہوں نے کہا، ‘ ۲۰۱۴ میں مودی نام کی لہر تھی لیکن ۲۰۱۹ میں مودی نام کی سنامی ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت ان کو مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے سے نہیں روک سکتی ہے[۷]۔ ‘ساکشی مہاراج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملک میں بیداری آ رہی ہے اور آئندہ انتخاب اسی پر ہونے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ‘ پورے ملک میں بات  ہو رہی  ہے کہ ملک مودی کی وجہ سے ہے۔ یہ انتخاب پارٹی کا نہیں بلکہ ملک کا ہے۔ ملک میں پہلی بار بیداری آئی ہے۔ ‘

بی جے پی رکن پارلیمان کے بیان کے بعد دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا  نشانہ بنایا  ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ بی جے پی نے اپنا مقصد صاف کر دیا۔ میں تو پہلے سے ہی کہہ رہا ہوں کہ مودی اور امت شاہ کی جوڑی دوبارہ آ گئی تو وہ آئین بدل دیں‌گے اور انتخاب کروانا ہی بند کر دیں‌گے۔ ہٹلر نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ ‘ یاد رہے گزشتہ سال ستمبر میں بی جے پی صدر امت شاہ نے کہا تھا کہ ہم ۲۰۱۹ کا لوک سبھا انتخاب جیتنے جا رہے ہیں اور ۲۰۱۹ کا انتخاب جیتنے کے بعد اگلے ۵۰ سالوں تک کوئی بھی ہمیں ہٹا نہیں پائے‌گا۔ یہ بات ہم غرور میں نہیں بلکہ اپنے کام کی وجہ سے بول رہے ہیں۔[۸]” اب یہ تو وقت ہی بتائے کہ عوام کتنے بیدار ہیں اور کیا فیصلہ کرتے ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ دو ہزار انیس کے عام انتخابات جیسے جیسے نزدیک آ رہے ہیں  ایسے نعروں کو ایک نئی پالش کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے جن میں حکومت  اپنی ناکامیاں چھپا سکے اور کوئی سوال نہ کر سکے کہ تم نے ہمارے لئے کیا کیا ؟ کسانوں کے  مسائل اپنی جگہ ہیں ؟ غریبوں کو مہنگائی کا رونا ہے اور بے روزگار وں کی نظریں ذریعہ معاش پر ہیں کسانوں کی فصلیں سرکار کی جانب سے حمایت و امداد ی اسکیموں کو ترس رہی ہیں جبکہ بڑی بڑی کمپنیاں حکومت کی پالیسیوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے قرض معاف کرا چکی ہیں اب اس اکھنڈ بھارت کی تشہیر میں مشغول ہیں جس میں انکے خزانے تو بھر جائیں گے لیکن غریب بےچارہ بھوکا ہی رہے گا ، ایسے میں عوام کے اوپر ہے کہ وہ خوشحال بھارت کے نظریہ کو اپنا قیمتی ووٹ دیتے ہیں یا اکھنڈ بھارت کے کھوکھلےنعروں کو جنکا ایک بڑا کام حکومت کی ناکامیابیوں کو چھپا کر  اس پر سیدھے سادےعوام کے جذبات کا سرپوش  رکھنا اور اپنا الو سیدھا  کرنا ہے  ۔۔۔

 خیبر تجزیاتی ویب گاہ

حواشی :

[۲]  https://www.bbc.com/urdu/regional-47601006

[۲]  ۔ https://indianexpress.com/article/explained/rss-akhand-bharat/

[۳]  ۔ اکھنڈ بھارت کے پس منظر کے لئے ملاحظہ  ہو : https://carnegieindia.org/2016/01/17/beyond-akhand-bharat-greater-india-and-global-south-asia-pub-62507

[۴]  ۔ https://timesofindia.indiatimes.com/blogs/toi-edit-page/dream-of-greater-india-forget-akhand-bharat-or-hindu-rashtra-bharat-mahasangh-of-like-minded-nations-is-a-more-feasible-goal/

[۵]  ۔https://www.bbc.com/urdu/regional-47601006

[۶]  https://economictimes.indiatimes.com

https://timesofindia.indiatimes.com/india/there-will-be-no-elections-after-modi-tsunami-in-2019-sakshi-maharaj/articleshow/68439916.cms

https://www.indiatoday.in/elections/lok-sabha-2019/story/bjp-mp-sakshi-maharaj-modi-tsunami-2024-elections-1479056-2019-03-15

https://www.telegraphindia.com/india/this-will-be-last-poll-sakshi-maharaj/cid/1686932

۔https://www.bbc.com/hindi/india-47593722

[۷]  ۔ इस चुनाव के बाद नहीं होगा ۲۰۲۴ में चुनाव : साक्षी महाराजhttps://www.uttarpradesh.org/uttar

[۸]  ۔ http://thewireurdu.com/56162/no-loksabha-election-in-2024-bjp-mp-sakshi-maharaj/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲