اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط کیے ہیں تاکہ سمت متعین ہو، ہم نے سرمایہ کاری کا ارادہ ظاہر کیا جسے پاکستان نے قبول کیا، اب تکنیکی اور مالیاتی شعبے کے ماہرین ان منصوبوں پر کام کریں گے اور عملی جامہ پہنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، دونوں ممالک میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی تعاون بھی موجود ہے اور گہرے فوجی تعلقات ہیں۔
عادل الجبیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کو ترقی کے اگلے درجے پر لے جانے کے لیے پرعزم ہیں، ہم پاکستان کو خیرات نہیں دے رہے بلکہ سرمایہ کاری کررہے ہیں جس میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے، اگر ہمیں پاکستان پر یقین نہ ہوتا تو کبھی سرمایہ کاری نہ کرتے، پاکستانی شہریوں نے سعودی عرب کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے، سعودی عرب میں 15 لاکھ سے زیادہ پاکستانی محنت کش کام کررہے ہیں جو امن پسند لوگ ہیں، ہم ان کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کیلئے کوئی مشکلات کھڑی نہیں کرنا چاہتے، وزیر خارجہ
افغان امن مذاکرات:
مسئلہ افغانستان سے متعلق سوال کے جواب میں سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے طالبان اور افغان حکومت میں امن معاہدہ کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، افغانستان میں استحکام سے پاکستان اور سعودی عرب سمیت پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔
پاک بھارت کشیدگی:
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ چاہتے ہیں، سعودی عرب کا موقف ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے مسائل اور تنازعات کو دوطرفہ انداز میں پرامن طور پر حل کریں۔
.....
/169