17 جنوری 2019 - 15:43
 شام میں داخلے کے لئے سرحدی علاقوں میں عراقی فورسز چوکس/ امریکی داعش کے لئے جاسوسی کررہے ہیں!

عراقی فوج اور قومی پولیس کے دستے نیز رضا کار فورسز "الحشد الشعبی" شام میں داعش کے ٹھکانوں کے خلاف مشترکہ کاروائی کے لئے سرحدوں علاقوں میں پہنچ کر الٹی گنتی کا انتظار کررہی ہیں / امریکی داعش کے لئے جاسوسی میں مصروف ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لبنانی ویب گاہ "اذاعۃ النور" نے ایک عراقی عسکری ذریعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ 30000 عراقی فوجی شام کی سرحد پر جمع ہوئے ہیں تا کہ داعش کے باقیات کا صفایا کرنے کے لئے شام میں داخل ہوجائیں۔
انھوں نے کہا کہ ہماری فورسز شامی فورسز سے جاملنے اور کاروائی کے آغاز کے وقت کا انتظار کررہی ہیں۔ اس عراقی ذریعے نے کہا ہے کہ کاروائی میں الحشد الشعبی کی شرکت کے بارے میں آخری فیصلہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے لیکن توقع ہے کہ یہ رضاکار فورسز بھی افواج کا ساتھ دیں گی۔ یہ کاروائی بہت جلد شروع ہونے والی ہے اور دمشق اور بغداد میں اعلی سطحی ہمآہنگی پائی جاتی ہے جبکہ روسی فضائیہ بھی اس کاروائی میں حصہ لے گی۔
امریکی فوجی سرحدی علاقوں میں داعش کے لئے جاسوسی کررہے ہیں!
ادھر صوبہ الانبار میں واقع مغربی محاذ میں الحشد الشعبی کے کمانڈر "قاسم مصلح" نے مذکورہ کاروائی میں اپنے ماتحت دستوں کی شرکت کے بارے میں کہا ہے کہ ہم داعش کے باقیات کے خلاف کاروائی میں حصہ لینے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔  
انھوں لبنانی خبررساں ٹی وی چینل "المیادین" سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: یہاں امریکی فوجی بھی موجود ہیں جو عراق اور شام کی سرحد پر داعش کے خلاف کاروائی کی آڑ میں، داعش کے لئے جاسوسی کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی دقیق سیکورٹی معلومات اکٹھی کرکے داعش کو پہنچا رہے ہیں اور یوں عراقی افواج پر حملے کے لئے داعش کو مدد بہم پہنچا رہے ہیں۔
انھوں نے اس امریکی اقدام کو عراق کی قومی حاکمیت اور ارضی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا: امریکی فوجی عراق اور شام کی مشترکہ سرحد پر معلومات جمع کررہے ہیں اور حتی کہ عراقی پولیس اور فوج کے جوانوں اور افسروں سے معمول کے خلاف سوالات پوچھ رہے ہیں جیسے: سرحد پر کاروائی کے لئے مقررہ مقامات، گولہ مقدار کی نوعیت اور مقدار، محاذ پر حاضر نفری کی تعداد وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو معلومات امریکیوں کو مطلوب ہیں وہ بہت زیادہ خطرناک ہیں اور داعش کے آگے عراقی فورسز کو غیر محفوظ اور زد پذیر کردیتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ داعش پر غلبہ پانے کے لئے بغداد اور دمشق کے درمیان اعلی سطحی ہمآہنگی پائی جاتی ہے اور الحشد کے دستے بھی شام میں داخل ہونے کے لئے تیار ہیں۔
انھوں نے کہا: ہم نے ابھی تک کہیں بھی امریکی فوجیوں کو شام کی سرحدوں سے پسپا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور یہی نہیں بلکہ امریکہ شام میں اپنے دستوں کو مزید کمک پہنچا رہا ہے؛ یہاں تک کہ امریکی طیارے عراق سے اڑ کر شام چلے جاتے ہیں اور داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں اترتے ہیں۔
انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خفیہ دورہ عراق اور عین الاسد نامی ہوائی اڈے میں ان کی موجودگی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: امریکہ صدر کا یہ اقدام ہمارے ملک پر امریکہ کے باضابطہ قبضہ سمجھا جاتا ہے اور ہم الحشد الشعبی میں، اپنے ملک کی سلامتی کسی بھی بیرونی طاقت کے ہاتھ میں نہیں جانے دیں گے۔
http://fna.ir/bqvclf

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰