16 جنوری 2019 - 16:29
اغیار کو پاک ایران تعلقات میں رکاوٹیں ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے: پاکستانی وزیر خزانہ

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ نے پڑوسی ممالک بالخصوص ایران کیساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ پر دلچسبی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو پاک ایران تعلقات میں رکاوٹیں ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسدعمر" نے Burke انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ گیارہویں رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ اسلامی ایران پاکستان کی سب سے اہم مغربی پڑوسیوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے حکام سے ملاقات کرتے ہیں انھیں اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے حوالے سے اندرونی تجارت کی اہمیت سمیت بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی تجویز دیتے ہیں لیکن سب سے عجیب بات یہ ہے کہ کوئی بھی پاکستان کی اہم مغربی پڑوسی ایران کا ذکر نہیں کرتا ہے۔
انہوں نے دنیا میں دوہری معیار کا رویہ اپنانے میں کمی آنے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تجارتی تعلقات میں بہت رکاوٹیں حائل ہیں جبکہ ہم، ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کے بجائے مشرقی پڑوسیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی تجویز کے مخالف ہیں۔
پاکستانی وزیر خزانہ نے 13 جنوری کو بھی کہا تھا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص ایران، افغانستان اور سعودی عرب کے ساتھ طویل المدتی سٹریٹجک تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی اور مذہبی اشتراک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاک ایران تجارتی حجم 1.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جسے موثر اقدامات کے ذریعے مزید بڑھایا جاسکتا ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲