6 جنوری 2019 - 17:38
ڈونلڈ ٹرمپ: سچ کہوں تو ایرانی شام میں کچھ بھی کرسکتے ہیں

اب تک ٹرمپ کے شام سے پسپائی کے اعلان نے یہودی ریاست اور امریکہ کے مقتدر حلقوں کو حیرت زدہ کر دیا تھا اور اب ٹرمپ نے یہ کہہ کر ـ کہ ایران شام میں کچھ بھی کرسکتا ہے ـ یہودی ـ صہیونی حلقوں کو غضبناک کردیا ہے، اور یہودی ریاست کے حکام ٹرمپ پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ شام میں کیا کچھ ہوسکتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، امریکی خبررساں اداروں نے رپورٹ دی ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے چند ہفتے قبل ایران کو موضوع بنا کر شام کے سلسلے میں ایک مسودہ تیار کیا تھا لیکن ٹرمپ اس پر دستخط کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے روز جمعہ ۴ جنوری سنہ ۲۰۱۹ع‍ کو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی کہ بولٹن اور پامپیو نے گذشتہ سال موسم خزان میں اپنے منصوبے کی رونمائی بھی کر دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ شام میں اپنی فوجی موجودگی کو وسعت دے اور ایران کا مقابلہ کرے۔ پامپیو نے اس منصوبے کے کچھ نکات دو ماہ قبل یوں بیان کیے: “داعش کی شکست کسی وقت ہماری حکمت عملی کا بنیادی مقصد تھی جو آج بھی ہماری پہلی ترجیح ہے، لیکن اب اس میں دو مزید اہداف کا اضافہ ہوا ہے: شام کی خانہ جنگی کا پرامن حل اور ایران اور اس کے حمایت یافتہ دستوں کو شام سے نکال باہر کرنا”۔
تاہم امریکی حکام نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ہے کہ ٹرمپ نے کبھی بھی شام میں ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی فوجی موجودگی کی توسیع سے اتفاق نہیں کیا۔ ایک امریکی اہلکار نے کہا: “یہ حکمت عملی ـ جس میں ایران کو بنیاد بنایا کیا تھا ـ کبھی بھی امریکی صدر کی منظوری اور انکا اعتماد حاصل نہیں کرسکی”۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ ٹرمپ ایران کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اپنے مشیروں کے نقطۂ نظر سے منفق ہیں لیکن ان کی توجہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر مرکوز ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے واضح کیا ہے کہ اس صورت حال سے واضح ہوا ہے کہ بولٹن اور پامپیو کی ایران مخالف پالیسی شکست سے دوچار ہوچکی ہے۔
جمعہ کے روز، ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں ایران کی کامیابی کو تسلیم کیا اور کہا: “میں نہیں چاہتا کہ امریکہ ابد تک شام میں رہے، شام صرف دھول ہے اور موت۔ “یہ حقیقت ہے کہ ایران اپنے فوجی دستے شام سے نکال رہا ہے”، لیکن سچ کہو تو حقیقت یہ ہے ایرانی جو بھی چاہیں شام میں انجام دے سکتے ہیں”۔
مسٹر ٹرمپ کے اس موقف کو یہودی ریاست کے ذرائع ابلاغ کے نہایت غضب آلود رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یدیعوت آحارونوت نے اس ریاست کے ایک اعلی اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے: “یہ افسوسناک امر ہے کہ ٹرمپ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ مجھے تو جھٹکا لگا ہے۔ ٹرمپ شام میں ایران کی مورچہ بندی نیز شام کی موجودہ صورت حال سے بےخبر ہیں”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲