3 جنوری 2019 - 15:20
شام میں داعشی کمانڈروں کے ٹھکانے پر عراقی فضائیہ کا حملہ، ۷ سرغنے ہلاک

عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے ایک کمانڈر قطری العبیدی نے اعلان کیا ہے کہ عراقی فضائیہ کے طیاروں نے مشرقی شام کے صوبے دیرالزور کے شہر البوکمال کے مضافاتی علاقے السوسہ میں داعش دہشت گردوں کے کمانڈروں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے ایک کمانڈر قطری العبیدی نے کہا ہے کہ شام میں داعشی کمانڈروں کے ٹھکانے پر کئے جانے والے حملے میں اس دہشت گرد گروہ کے سات سرغنے ہلاک ہو گئے۔عراقی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے پیر کے روز بھی شام کے السوسہ علاقے میں داعشی کمانڈروں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا تھا۔شام میں داعشی دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر عراق کی فضائیہ کے جنگی طیاروں کے یہ حملے دہشت گردی کے خلاف مہم کے تحت شام کے ساتھ عراق کے تعاون کی بنیا د پر انجام پا رہے ہیں۔شامی فوج اس وقت اپنے ملک کے اتحادیوں منجملہ عراق، ایران اور روس کے تعاون و مدد سے شام کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔دوسری جانب عراق کے صوبے الانبار کی سیکورٹی کمیٹی نے مغربی عراق میں امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت تیز ہونے کی خبر دی ہے۔ الانبار کی صوبائی کونسل کی سیکورٹی کمیٹی کے سربراہ نعیم الکعود نے کہا ہے کہ امریکی فوجی صوبے الانبار کے مختلف علاقوں میں تعینات ہو گئے ہیں۔انھوں نے عین الاسد فوجی اڈے میں امریکی فوجیوں کی تعداد سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجیوں کے سلسلے میں حکومت عراق پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔عراق کی مشترکہ فوجی آپریشن کمان کے ترجمان یحیی رسول نے بھی کہا ہے کہ شام سے باہر نکلنے والے امریکی فوجی پہلے عراقی کردستان کے علاقے اربیل پہنچتے ہیں اور وہاں سے پھر کہیں اور منتقل ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ عراق میں امریکی فوجی نقل و حرکت کا سلسلہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ عراق کو امریکی فوجیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے چھبیس دسمبر دو ہزار اٹھارہ کو اچانک اور غیر اعلانیہ طور پر مغربی عراق کا دورہ اور صوبے الانبار میں عین الاسد فوجی اڈے میں امریکی فوجیوں سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ٹرمپ کے اس بیان پر عراق کے مختلف گروہوں، جماعتوں، اہم شخصیات خاص طور سے عراقی اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲