اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک اعلی سعودی اہلکار نے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایسی باتیں کہی ہیں جو سرکاری سعودی موقف سے متصادم ہیں۔
اس اہلکار نے کہا: 15 رکنی ٹیم، انٹلیجنس ادارے کے نائب سربراہ احمد العسیری کی ہدایت پر جمال خاشقجی کو ریاض لوٹانے کی غرض سے استنبول گئی تھی لیکن ٹیم کے اراکین نے اپنے اختیارات سے آگے بڑھ کر انہیں اغوا کی دھمکی دی اور پھر ان کا گلا گھونٹ دیا۔ اور پھر ٹیم کا ایک رکن خاشقجی کا لباس اور گھڑی پہن کر اور ان کی عینک لگا کر قونصلیٹ کے پچھلے دروازے سے باہر چلا گیا تاکہ بعد میں دعوی کیا جاسکے کہ قاشقجی قونصلیٹ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ [لیکن شاید سی سی فوٹیج سسٹم واقعی ناکارہ تھا کیونکہ سعودی اپنے بہانوں کے لئے کوئی دستاویز نہیں پیش کرسکے]۔
ترک حکام نے دعوی کیا ہے کہ خاشقجی کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا تھا لیکن اس سعودی اہلکار نے کہا کہ ان کی لاش ایک بچھونے میں لپیٹ کر ایک مقامی ملازم کے سپرد کیا گیا تا کہ اس کو تلف کردے۔
کل کے اعترافی بیان میں سعودی اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ خاشقجی ٹیم کے اراکین سے لڑ پڑے اور لڑتے ہوئے مارے گئے لیکن اس اہلکار نے کہا کہ ان کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا۔
رائٹرز سے بات چیت کرنے والے سعودی اہلکار نے بھی اسی موقف کی تصدیق کی ہے۔
ادھر ترک حکام نے کہا ہے کہ خاشقجی، قونصلیٹ میں داخل ہوتے ہوئے جراست میں لئے گئے، تشدد کا نشانہ بنائے گئے، اور پھر انہیں زہر کے ذریعے مارا گیا اور ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے۔ سعودی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی تحقیقات سے لاش کا ٹکڑے ٹکڑے دیا جانا، ثابت نہیں ہوتا۔
اس اہلکار نے کچھ خفیہ سعودی سرکاری دستاویزات کھا کر رائٹرز کو بتایا کہ سعودی حکومت اپنے مخالفین کو لوٹانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس شخص نے 15 رکنی ٹیرر اسکواڈ کے بعض اعترافات بھی رائٹرز کو پیش کئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ اسکواڈ العسیری کے ماتحت کام کرتا تھا۔
سعودی اہلکار نے کہا ہے کہ "ایسا ہدایت نامہ حکومت کی طرف سے جاری ہوا ہے جس کے مطابق اعلی حکام کو بتائے بغیر ملک سے نکلنے والے ناراض افراد کی واپسی کے لئے اقدام کیا جاسکتا ہے!!!"۔
اس اہلکار نے انٹیلیجنس کے نائب سربراہ احمد العسیری اور دربار شاہی کے مشیر اعلی سعود القحطانی کو خاشقجی کے قتل کا ملزم ٹہرایا اور کہا کہ طے یہ تھا کہ انہیں ایک خفیہ مکان میں رکھا جائے اور اگر واپسی کے لئے تیار نہ ہوں تو انہیں رہا کیا جائے لیکن اسکواڈ نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور۔۔۔
اس اہلکار کے کہنے کے مطابق، اسکواڈ کے رکن ماہر مطرب نے قونصل جنرل کے دفتر میں خاشقجی سے کہا کہ ریاض واپس آجائیں لیکن انھوں نے انکار کیا اور کہا کہ کوئی قونصلیٹ کے باہر ان کا انتظار کررہا ہے اور اگر وہ ایک گھنٹے میں باہر نہ جائیں تو وہ ترک حکام کو مطلع کرے گا۔
خاشقجی کی منگیتر "خدیجہ چنگیز" کا کہنا ہے کہ "خاشقجی نے اپنا موبائل سیٹ میرے سپرد کیا اور کہا کہ اگر میں باہر نہ آیا تو ترکی کے نائب صدر کو فون کرکے بتا دو"۔
رائٹرز کے مطابق، خاشقجی نے سعودی اسکواڈ اراکین سے کہا تھا کہ "تم سفارتی قواعد کو پامال کررہے ہو، کیا تم مجھے اغوا کرنا چاہتے ہو؟" اور مطرب نے اپنے بقول انہیں ڈرانے کے لئے کہا کہ "ہاں ہم تمہیں بےہوش کرکے اغوا کرنا چاہتے ہیں"۔
اس سعودی اہلکار نے عجائب و غرائب اگلنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا: "خاشقجی نے چیخنا چلانا شروع کیا تو اسکواڈ اراکین نے انہیں خاموش کرانے کے لئے ان کا گلا دبایا جس کے نتیجے میں وہ مرگئے حالانکہ وہ انہیں قتل نہیں کرنا چاہتے تھے"؛۔
سعودی اہلکار نے کہا کہ اسکواڈ نے بعدازاں خاشقجی کی لاش کو ایک بچھونے میں لپیٹ کر تلف کرنے کی غرض سے قونصلیٹ کے ایک مقامی ملازم کے سپرد کیا گیا۔ اور اب سعودی جکومت بھی ان کی لاش کو تلاش کررہی ہے!!
سعودی اہلکار نے کہا: ٹیرر اسکواڈ کے اراکین نے غلط بیانی سے کام لے کر کہا تھا کہ "خاشقجی نے جب ترک حکومت کی طرف سے کاروائی کی خبر دی تو انھوں نے انہیں رہا کردیا"؛ اسی بنا پر اسکواڈ کے 15 اراکین اور قونصلیٹ کے تین ملازمین گرفتار کئے گئے ہیں اور ان سے تفتیش ہورہی ہے۔
دریں اثناء، متعدد ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی ہے کہ ٹیرر اسکواڈ کے 15 اراکین نے استنبول سے کئی مرتبہ ولیعہد بن سلمان کے دفتر سے کئی مرتبہ رابطے کئے ہیں۔ قحطانی اور مطرب بھی بن سلمان کے خاص دوستوں میں شامل ہیں۔ اور واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ یہ افراد بن سلمان کے حکم کے بغیر کوئی بھی اقدام نہیں کرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲