14 اکتوبر 2018 - 13:31
ضمنی انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

مختلف حلقوں کے 1727 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی کی جن نشستوں پر آج پولنگ ہوئی ان میں این اے 35 بنوں، این اے 56 اٹک ، این اے 53 اسلام آباد، این اے 60 راولپنڈی، این اے 63 راولپنڈی، این اے 103 فیصل آباد، این اے 65 چکوال، این اے 69 گجرات، این اے 124، این اے 131 لاہور، این اے 243 کراچی شامل ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ ملک بھر میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ ملک کے 35 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔ قومی اسمبلی کے 11 اور صوبائی اسمبلی کے 24 حلقوں میں 370 امیدوار کے درمیان مقابلہ ہوا جس کے لیے 95 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تھے۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 8، سندھ، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں ایک ایک نشست پر الیکشنز ہوئے جب کہ پنجاب اسمبلی کی 11، خیبر پختونخوا کی 9، سندھ کی 2 اور بلوچستان کی بھی 2 نشستوں پر ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ ہوئی۔ 92 لاکھ 83 ہزار 74 ووٹرز کو حق رائے دہی کی سہولت دینے کے لیے ساڑھے 7 ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے۔ مختلف حلقوں کے 1727 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی کی جن نشستوں پر آج پولنگ ہوئی ان میں این اے 35 بنوں، این اے 56 اٹک ، این اے 53 اسلام آباد، این اے 60 راولپنڈی، این اے 63 راولپنڈی، این اے 103 فیصل آباد، این اے 65 چکوال، این اے 69 گجرات، این اے 124، این اے 131 لاہور، این اے 243 کراچی شامل ہیں۔

پنجاب میں پی پی 3 اٹک، پی پی 27 جہلم، پی پی 103 فیصل آباد، پی پی 118 ٹوبہ ٹیک سنگھ، پی پی 164، 165 لاہور، پی پی 201 ساہیوال، پی پی 222 ملتان، پی پی 261 رحیم یار خان، پی پی 272 مظفر گڑھ، پی پی 292 ڈی جی خان پر الیکشن ہوئے۔ سندھ میں پی ایس 30 خیرپور اور پی ایس 87 ملیر کراچی جبکہ بلوچستان میں پی بی 35 مستونگ اور پی بی 40 خضدار میں ضمنی انتخاب ہوا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستوں پی کے 3 اور پی کے 7 سوات، پی کے 44 صوابی، پی کے 53 مردان، پی کے 61 اور 64 نوشہرہ، پی کے 78 پشاور، پی کے 97 اور 99 ڈی آئی خان میں رائے شماری ہوئی۔ اس ضمنی انتخاب میں ملکی تاریخ میں پہلی بار انٹرنیٹ ووٹنگ ہوئی۔ 35 حلقوں کے 7364 سمندرپار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ کے تحت اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت تھی جن میں سے 5881 نے ووٹ کاسٹ کیا۔ ضمنی انتخابات میں 40 ہزار سے زائد پاک فوج کے جوان نے فرائض سرانجام دیے جب کہ ایک لاکھ سے زائد پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوجی جوان بھی پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات رہے۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر وزارت توانائی نے پولنگ کے دوران متعلقہ حلقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں کی۔ الیکشن کمیشن نے سکیورٹی اسٹاف کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا تھا، جس کے مطابق سکیورٹی اسٹاف پریذائیڈنگ آفیسر اور آر اوز کے ماتحت تھے تاہم سکیورٹی حکام بیلٹ پیپرز کی گنتی میں مداخلت نہیں کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169