اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/آبی گزر لالچوک سرینگر سے برآمد ہونے والے تاریخی جلوس عاشورا پر حکومتی قدغن کو نظر انداز کرتے ہوئے اور شہر سرینگر کی شدید ناکہ بندیوں کے بیچوں بیچ انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے سینکڑوں کارکنوں نے مولانا آزاد روڑ پر اچانک نمودار ہوکر جلوس عاشورا برآمد کیا۔ انجمن شرعی شیعیان کے سینکڑوں کارکنوں نے حجۃ الاسلام آغا سید احمد الموسوی الصفوی کی سربراہی میں جلوس عاشورا برآمد کیا ۔ موقعہ پر موجود فورسز کی بھاری جمعیت نے جلوس کو منتشر کرنے کیلئے جلوس پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں کئی عزادار زخمی ہوئے۔ آغا سید احمد الموسوی الصفوی سمیت درجنوں عزاداروں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں مقید کیا گیا۔ اس دوران انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سیئر حریت رہنما حجۃا لاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بڈگام میں عظیم الشان جلوس عاشورا سے خطاب کرتے ہوئے لالچوک سرینگر میں عزاداروں پر پولیس تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ آغا حسن نے کہا کہ لالچوک سرینگر میں برآمد ہونے والے 8 اور 10 محرم کے تاریخی جلوس ہائے عاشورا وادی میں نہ صرف ملی اتحاد بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور رواداری کی علامتیں تصور کی جاتی ہیں۔ ان جلوسوں پر بلاجواز قدغن بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ مذکورہ تاریخی جلوس ہائے عزا پر 3 دہائیوں سے متواتر قدغن سے کشمیر میں بھارتی سیلولرازم اور جمہوریت کی اصل حقیقت عیاں ہورہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲