اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ یوم عاشورا کے موقعہ پر انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے اہتمام سے وادی بھر میں جلوس ہائے عاشورا برآمد کئے گئے۔ عاشورا کا سب سے بڑا جلوس تنظیم کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں جامعہ باب العلم میر گنڈ بڈگام سے برآمد ہوکر مرکزی امام باڑہ بڈگام میں اختتام پذیر ہوا۔نماز گاہِ عاشورا بہشت زہراؑ پارک میں دسیوں ہزار عزاداروں نے آغا سید حسن الموسوی کی پیشوائی میں نماز جمعہ ادا کی۔ اس موقعہ پر آغا حسن نہ معرکہ کربلا کے اسباب و علات بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام عالیمقام کا مقدس قیام اسلامِ ناب کے دائمی تحفظ کیلئے ناگزیر تھاکیونکہ ایک فاسق اور بدکردار حکمران خلافت اسلامیہ کے منصب پر مسلط ہوچکا تھا جو حکومتی سطح پر قرآن و سنت کا تمسخر اڑاتا اور جبروتشدد کے بل پر مسلمانوں سے بیت کا تقاضا کررہا تھا۔ ایسی صورتحال میں جب حکومت کے خوف و دہشت سے ملت اسلامیہ پر سکوت چھایا تھا ۔حاکم وقت کی انتہائی اسلام اور شریعت دشمن پالیسیوں کو ٹوکنے کیلئے حالات ایک عظیم قربانی کا تقاضا کررہے تھے۔ اس موقعہ پر آغاحسن نے ریاست جموں و کشمیر میں جاری بھارتی جبروبربریت اور مداخلت فی الدین کے حربوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عاشور کے دن جامع مسجد سرینگر کو مقفل کرنے کی حکومتی کاروائی کو بھارتی سیکولرزم اور جمہوریت کے دعووں کی اصل حقیقت سے تعبیر کیا ۔ عاشورا کا دوسرا بڑا جلوس عاشورا امام باڑہ بوٹہ کدل گلشن باغ سے برآمد ہوکر خانقاہ میر شمس الدین اراکیؒ جڈی بل سرینگر میں اختتام پذیر ہوا جس کی سربراہی آغا سید منتظر الموسوی نے کی۔ جن دیگر مقامات پر تنظیم کے اہتمام سے جلوس ہائے عاشوار برآمد کئے گئے ان میں ضلع بڈگام کے گوجرہ، چھاترگام، یارستھرو، سایہامہ، بابا پورہ ماگام، وتہ ماگام بیروہ، اچھہ ہامہ کھاگ، چائرہ، غوطی پورہ، تالہ پورہ، بوگہ چھل، جہامہ ، اتنہ، سونہ پاہ، حیات پورہ، دندوسہ بٹہ چک، اسکندرپورہ، بٹہ پورہ، یائل راولپورہ، سٹھسو کلان، سنزی پورہ، کینہ ہامہ، شالنہ، ہردووامنہ بیروہ ، ضلع سرینگر کے گنڈ حسی بٹ،ضلع بانڈی پورہ کے گامدو، اندرکوٹ، اندکھلو، اوڑینہ، نوگام پائین، گنڈ نوگام، بڈی پورہ، چھانہ محلہ نوگام، ضلع بارہمولہ کے ملہ پورہ دسلی پورہ، سونم، کانل، یال، کھنہ پٹھ، زاڈی محلہ، اوچھلی پورہ، دیورہ، نورکھاہ قاضی پورہ، شاہدراہ کمل کوٹ اوڑی، دھنی سیداں ، چھولاں کلساں، ضلع پلوامہ کے وکھرون، پنیر جاگیر ترال،ضلع اننت ناگ کے چھترگل وغیرہ شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲