1 ستمبر 2018 - 17:49
عبرانی اخبار کا انکشاف؛ برما اور اسرائیل کے درمیان مہلک ہتھیاروں کا معاہدہ

اراکان میں روہنگیا نسل کے مسلمانوں کی نسل کشی کے کھلے ثبوت اور عالمی اداروں کی طرف سے میانمار کی حکومت پر کڑی تنقید بھی برما اور اسرائیل کے درمیان مہلک اسلحہ کی خریدو فروخت نہیں روک سکی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیلی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ روہنگیا میں مسلمانوں کی مجرمانہ نسل کشی کے الزامات اور فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے ہاتھوں قتل عام کے الزامات کے باوجود میانمار اور اسرائیل کے درمیان ’ڈرٹی ویپنز‘ [انتہائی مہلک] ہتھیاروں کی خریدو فروخت کا معاہدہ ہوا ہے۔

اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ میانمار کی مغربی مسلم اکثریت ریاست اراکان میں مسلمانوں کی مذہبی عصبیت کی بنیاد پر ہونے والی نسل کشی میں اسرائیلی اسلحہ استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔

اخباری رپورٹ میں اقوام متحدہ کے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیقات کے حوالے سے قائم کردہ اقوام متحدہ کے تحقیقات کمیشن کا حوالہ دیا ہے جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ میانمار میں وحشیانہ قتل عام، منظم انداز میں اجتماعی عصمت ریزی، شیرخوار بچوں کو بدترین ظلم اور سفاکیت کا نشانہ بنانے، جبری گم شدگی اور مسلمانوں سے غیرانسانی سلوک کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ اراکان میں روہنگیا نسل کے مسلمانوں کی نسل کشی کے کھلے ثبوت اور عالمی اداروں کی طرف سے میانمار کی حکومت پر کڑی تنقید بھی برما اور اسرائیل کے درمیان مہلک اسلحہ کی خریدو فروخت نہیں روک سکی۔

ستمبر ۲۰۱۵ء کو میانمار کے آرمی چیف مین انوگ ھلائنگ نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اعلیٰ صہیونی عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی تھی۔ واپسی سے قبل انہوں نے کروڑوں ڈالر مالیت کے اسلحہ کی خریداری کے معاہدوں کا اعلان کیا۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے میانمار کو اسلحہ کی فروخت کا کبھی دعویٰ نہیں کیا اور اسے صیغہ راز میں رکھا گیا مگر میڈیا میں میانمار کو فروخت کئے گئے اسلحہ کی فروخت کی رپورٹس اور تصاویر سے دونوں ملکوں کے درمیان مہلک ہتھیاروں کی خرید و فروخت کا بھانڈہ پھوٹ جاتا ہے۔

میانمار میں نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے اسرائیلی اسلحہ کے استعمال کا پہلی بار انکشاف سنہ ۲۰۱۵ء کو اسرائیل کے انسانی حقوق کے ایک کارکن ’ایٹائی میک‘ نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا میں جاری جنگی جرائم میں اسرائیل کا بھی ہاتھ ہے کیونکہ برما کی فوج وہاں پر جنگی جرائم میں اسرائیل سے خریدہ اسلحہ استعمال کررہی ہے۔ سنہ ۲۰۱۷ء کو اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں میانمار کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی عائد کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲