اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، سنہ ۱۹۸۹ع میں سوڈان میں اسلامی محاذ نجات کی حکومتی قائم ہوئی تو ایران کے ساتھ بھی اور فلسطین کی جہادی تنظیموں کے ساتھ بھی اس نے مستحکم تعلقات استوار کئے اور حماس اور اسلامی جہاد کی میزبانی کی اور اس کو اس اسلامی اور شرافتمندانہ موقف کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام کو مشکلات کا سامنا تھا لیکن وہ عمر البشیر کی حمایت کررہے تھے جس کا سبب یہ تھا کہ عمر البشیر فلسطینی مملکت کے حامی تھے۔
لیکن تقریبا پانچ سال قبل سوڈان نے اپنی اصولی پالیسیوں کو بدل ڈالا۔ ۲۵ سال تک ایران اور اسلامی مزاحمتی تحریک کا ساتھ دینے کے بعد سوڈانی پالیسی میں تبدیلی اس قدر غیر متوقعہ تھی کہ دنیائے عرب میں بہت سوں کی حیرت کا باعث بنی۔ یہ تبدیلی ابتداء میں اسلامی جمہوریہ ایران کی نسبت سوڈان کی خارجہ پالیسی میں نمایاں ہوئی اور وہ یوں کہ سوڈانی حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی قونصل کو خارطوم سے نکال باہر کیا۔
گو کہ سوڈان کے اس اقدام کو ابتداء میں ایک سفارتی تزویر سمجھا گیا لیکن ایک سال بعد اس نے یمن کے خلاف بنی سعود کی جارحیت میں، سعودیوں کی حمایت کی اور مِنٰی میں ۵۰۰ ایرانی حجاج سمیت ۸۰۰۰ حجاج کرام کے قتل کے بعد، تہران میں سعودی سفارتخانے پر حملہ ہوا تو سوڈان نے اسلامی جمہوریہ کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات سعودیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کی غرض سے مکمل طور پر منقطع کئے، جس سے معلوم ہوا کہ ایران کے سلسلے میں سوڈان کی پالیسی کی تبدیلی نہ صرف تزویری حکمت عملی کا حصہ نہ تھا بلکہ اس نے علاقائی صورت حال کے حوالے سے اپنی نگاہ تک کو بدل ڈالا ہے۔
لگتا نہیں ہے کہ سوڈان کی خارجہ پالیسی کا اسے کچھ زیادہ فائدہ ملے گا بلکہ مبصرین اس تبدیلی کو بہت خطرناک سمجھتے ہیں اور یہاں تک بھی خبریں ملی ہیں کہ سوڈان یہودی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لئے پر تول رہا ہے اور اگر یہ صحیح ہے تو یہ سوڈانی خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں کا عروج ہوگا۔ جب یہ ساری روئداد سوڈان کی سرکاری خبر ایجنسی کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک نے یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے اقدامات کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے اور اس کے لئے قدم بہ قدم منصوبہ سازی کررہا ہے۔ یہ سفارتی تگ و دو سوڈانی حکومت کی بنیادی تبدیلیوں کے دائرے میں آتی ہیں اور فطری امر ہے کہ اس کے پس پردہ عمر البشیر کے ذاتی رجحانات اور خواہشات حکمفرما ہیں؛ لیکن کیوں؟
ان تبدیلیوں کے دلائل بیان کرتے ہوئے، کہا جاسکتا ہے کہ سوڈان کی خارجہ پالیسی کی تبدیلی میں اس کی اندرونی مشکلات و مسائل کا کردار فیصلہ کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معیشت، سلامتی اور سیاسی شعبوں میں سوڈان کے اندرونی بحرانوں نے اسکی زد پذیری (Vulnerability) میں زبردست اضافہ کیا ہے اور سوڈان کے راہنما اپنی کچھ ضروریات پوری کرنے اور بعض خطرات ٹالنے کی بنا پر اپنی پالیسی بدل دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بنی سعود کی قربت حاصل کرکے اور یہودی ریاست کے لئے اپنے اندر نرم گوشہ دکھا کر بیرونی مالی اور معاشی امداد حاصل کریں اور کچھ اندرونی مسائل کو حل کریں۔
سوڈان کی زدپذیری کا ابتدائی اور بہت اہم سبب یہ ہے کہ اس کا جنوبی حصہ اس سے الگ ہوچکا ہے اور اس ملک کی ۷۵ فیصد تیل کی آمدنی جنوبی سوڈان منتقل ہوچکی ہے جس کے بموجب اسے معاشی بحران اور عوام کی وسیع ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ لہٰذا سوڈان کے رویوں میں تبدیلی کا ایک محرک مالی امداد کا حصول اور معاشی بحران کے حل کا انتظام تھا۔
علاوہ ازیں، سوڈان کے اندرونی سطح پر امن و سلامتی کو لاحق خطرات میں ایک اہم خطرہ “کردوفان” اور “نیل آبی” جیسے علاقوں میں قومی اور قبائلی تناؤ کی صورت میں نمودار ہوا ہے جس نے مرکزی حکومت کو خطرات سے دوچار کیا ہے، جنوبی سرحدی تنازعات کے ساتھ بعض دیگر سرحدی مسائل نے بھی اس ملک پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
یہ وہ خطرات ہیں جنہوں نے سوڈانیوں کو اپنی اصولی پالیسیوں سے پسپا ہو کر سازباز پر مبنی نئی پالیسیاں اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ سوڈان نے اس مقصد کے حصول کے لئے اپنے فوجی دستے بنی سعود اور بنی نہیان کی حمایت کے لئے یمن روانہ کئے ہیں جہاں یہودی ریاست، مصر، امریکہ، برطانیہ اور فرانس بھی بنی سعود کے اتحاد کا ساتھ دے رہے ہیں اور یوں وہ انفعالی محاذ کا حصہ بن کر اور یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے امکان کو اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے نمایاں کرکے اپنے مسائل حل کرنے کی سعی کی ہے۔ اب سوڈان کو توقع ہے کہ عمر البشیر کے خلاف عالمی عدالتوں کے فیصلے بھی ناکارہ ہوجائیں اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے پیٹرو ڈالروں سے بھی خارطوم کے خزانے کی طرف رخ کریں، سیاسی مسائل بھی حل ہوں اور معیشت کو بھی سہارا ملے!
خارطوم کی انتظامیہ کو محسوس ہورہا ہے کہ گویا اس کے ہاتھ اس کی نئی پالیسیوں اور بنی سعود کا ساتھ دینے اور اور یہودی ریاست کے آگے انفعالیت کے واسطے سے، امریکہ کے دامن تک پہنچے ہوئے ہیں اور اسے امید ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر اس کے سیاسی اور معاشی مسائل حل ہوجائیں گے۔ اس وقت سوڈانی حکومت اور امریکی حکام کے درمیان مسلسل خفیہ اور اعلانیہ رابطے بحال ہوچکے ہیں اور سفارتی تعلقات کی بحالی کے لئے ابتدائی اقدامات ہورہے ہیں جس کے بعد سوڈانیوں کو امریکی پابندیوں کے خاتمے کی بھی امید ہے گوکہ امریکیوں نے سفارتی تعلقات کی بحالی کو بظاہر خارطوم ـ تل ابیب کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام سے مشروط کردیا ہے۔
اندرونی مسائل کے حل کی یہ ناکام کوششیں در حقیقت سوڈان کے تاحیات صدر عمر البشیر کی بقاء کے لئے ہوئی ہیں لیکن لگا ہے کہ یہ اقدامات ان کی بقاء میں معاون ثابت نہیں ہونگے۔ کیونکہ امریکہ بنی سعود کے ساتھ ہمآہنگ ہے اور ان دونوں نے عمر البشیر کی حکومت کے خلاف کچھ ایسی پالیسیاں اپنا رکھی ہیں جس کا نتیجہ کچھ ہی برسوں میں البشیر کو نظر آہی جائے گا۔
امریکہ نے طویل عرصے سے یہودی ریاست کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے سوڈان پر مسلسل دباؤ جاری رکھا اور در حقیقت “لاٹھی اور گاجر” کی پرانی پالیسی پر کاربند رہا۔ اس نے سوڈان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا، سوڈان کو شدید ترین معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اور ہیگ کی عالمی عدالت سے عمر البشیر کو “مطلوب مجرم” کے عنوان سے متعارف کروایا اور یوں اس نے سوڈان کے خلاف لاٹھی والی پالیسی کا نفاذ کیا اور سعودی عرب نے امریکہ کے علاقائی حلیف کے طور پر مالی امداد کا جھانسہ دے کر اسے اپنے دامن میں بٹھاکر ایران سے دور کردیا۔
سوڈان کو بہرحال معلوم ہے کہ بنی سعود کی حکومت عالمی اور علاقائی سطح پر کوئی خودمختار کھلاڑی نہیں ہے چنانچہ وہ بھی سعودیوں کے ذریعے کچھ دوسرے سہاروں کے درپے ہے جو بنی سعود سے زيادہ طاقتور اور زيادہ قابل اعتماد ہوں۔ حالانکہ امریکہ سمیت مغربی ممالک اور ان کے علاقائی حلیفوں کو وہ دن بہت اچھی طرح یاد ہیں جب عمر البشیر ایک طویل عرصے تک فلسطین کے حامی تھے اور وہ ان کی اُن دیدہ دانستہ پالیسیوں کو نہیں بھولیں گے، جبکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کی نئی پالیسیاں ان کی بےتحاشا مجبوریوں کا ثمرہ ہیں؛ چنانچہ عمر البشیر جو فلسطین اور ایران کے ساتھ مل کر مغرب اور اس کے حلیفوں کی دسترس سے خارج ہوچکے تھے، کو بھی مغرب کے انتقام کا منتظر ہونا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ سنہ ۲۰۰۳ میں لیبیا کے سابق صدر کرنل معمر القذافی نے مغرب مخالف پالیسیاں ترک کردیں، اپنے ایٹمی اثاثے بحری جہازوں میں بھر کر امریکہ کے سپرد کئے، لیکن جب ۲۰۱۱ میں لیبیا میں عوامی تحریک کا آغاز ہوا تو مغرب نے نہ صرف انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ انہیں ایک ناقابل اعتماد ساتھ سمجھ کر منظر سے ہٹا دیا اور قذافی کی داستان، تاریخ کے اوراق کا حصہ بن گئی؛ یہاں بھی اگرچہ عمر البشیر اپنی پالیسیوں میں ۱۸۰ درجے تک تبدیلیاں لا چکے ہیں، لیکن مغرب کی طرف رجحان اور بنی سعود کا ساتھ، البشیر کے لئے مختصر سی مدت تک بقاء کی سند ہوسکتا ہے؛ اور جس طرح سعودی حکومت نے قذافی کے زوال میں مغرب کا ساتھ دیا ایک مناسب موقع تلاش کرکے عمر البشیر کے زوال میں بھی مغرب کا ہاتھ بٹائے گی؛ کیونکہ مغرب اپنے ناقابل اعتماد ساتھیوں کو منظر سے ہٹانے کے لئے کوئی موقع ضائع نہیں کیا کرتا؛ ایک تلخ تجربہ جو عمر البشیر نے افریقی پڑوسی ملک لیبیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا مگر “وَإِذَا ذُكِّرُوا لَا يَذْكُرُونَ؛ اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اثر نہیں لیتے۔ (الصافات، ۱۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲