اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، یہودی ریاست کے اخبار “ہاآرتص” نے اپنی یادداشت میں سابق اسرائیل وزیر توانائی “گونین سیگو” کی ایران کے لئے جاسوسی کے مسئلے کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ایران کے محکمۂ سراغرسانی کی بڑی کامیابی ہے۔
ہاآرتص کی یادداشت کے اہم نکات:
– یہودی ریاست کے ایک سابق وزیر و رکن پارلیمان کی بھرتی ایران کے لئے اہم حصولیابی ہے؛ وہ ایسی معلومات ایران کو فراہم کرسکتا تھا جو ایرانی انٹرنیٹ کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتے تھے۔
– یہودی ریاست کے سیاسی ـ تجارتی روابط بہت پیچیدہ ہیں اور کابینہ میں سراغرساں ایجنسیاں بہت زیادہ اثر و نفوذ رکھتی ہیں چنانچہ سابق وزیر اسرائیل کی توانائی کی صنعت کے سلسلے میں بہت اہم معلومات سے واقف تھا جن سے دشمن استفادہ کرسکتا ہے۔
– سیگو نے یہودی ریاست کے سلامتی، عسکری اور سفارتی شعبوں میں ایران کے لئے متعدد افراد بھرتی کرنے کی بھی کوشش کی لہذا کہا جاسکتا ہے کہ ایران اور حزب اللہ مل کر یا الگ الگ، عرب ممالک کی بہ نسبت، اس ریاست کے خلاف زیادہ پیچیدہ اقدامات کررہے ہیں۔
– سیگو اور اس کے ساتھی جتنا نقصان یہودی ریاست کو پہنچا سکتے تھے، ان نقصانات سے کہیں زيادہ تھا جو اس سے پہلے بعض مغربی شہری اس ریاست کی عملداری میں ایران اور حزب اللہ کے لئے جاسوسی کرنے یا فوجی تنصیبات کی تصویریں اتارنے کے الزام میں گرفتار ہوجایا کرتے تھے۔
– یہودی ریاست کی جاسوسی ایجنسیوں سے غفلت ہوئی ہے اور معلوم نہيں ہے کہ سیگو کس طرح چھ سال تک مسلسل اپنا کام رکھے ہوئے تھا اور کیا کیا معلومات ایران کو فراہم کرچکا ہے۔ نیز یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اسے کس طرح گرفتار کرکے ریاست میں لایا گیا ہے؟
– ہم فرض کرتے ہیں کہ سیگو کے سلسلے میں دی گئی معلومات صحیح ہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے سراغرسان اداروں نے کس حد تک اپنی کوششیں یہودی ریاست پر مرکوز کی ہوئی ہیں۔ سائبر اسپیس پر اس ریاست کی عسکری معلومات کے حصول کے لئے ایران اور حزب اللہ کی کوششوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے لیکن وہ جاسوسی کے روایتی طور طریقوں اور انسانی عناصر کے ذریعے معلومات جمع کرنے سے بھی غافل نہيں رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ۱۸ جون ۲۰۱۸ کو صہیونیوں نے ابلاغی خاموشی کے احکامات اٹھا لئے اور یہودی ریاست کے ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا کہ سابق صہیونی وزیر و رکن پارلیمان گونین سیگو کو ایران کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
یہودی ریاست کے داخلی سلامتی کے ادارے “شاباک” نے ایک بیان میں دعوی کیا کہ ۶۲ سالہ سیگو ایران سے وابستہ عناصر کے ساتھ تعلقات اور یہودی ریاست کے فوجی اور غیر فوجی ڈھانچوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور جاسوسی کا ملزم ہے۔
یہودی ریاست کے حکام اور ذرائع ابلاغ نے اس سلسلے میں ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا لیکن مشترکہ نکتہ یہ تھا کہ ان سب نے سیگو کی مذمت کی۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، گونین سیگو نائیجریا کے دارالحکومت ابوجا میں ڈاکٹر کی حیثیت سے مقیم تھا اور نائیجریا، ایران اور یہودی ریاست کے سفارتی ذرائع سے رابطے میں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲