اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ برطانیہ سے قبل لندن سےشائع ہونے والے اخبار نے لکھا ہےکہ واشنگٹن میں برطانوی سفیر نے تھریسا مئے کی اس تجویز سےوائٹ ہاؤس کو باخبر کردیا ہے اور ٹرمپ سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ اپنے دورہ برطانیہ میں لندن کا سفر کرنے سے گریز کریں۔
برطانوی سفیر نے یہ بھی کہا کہ تھریسا مئے اور ٹرمپ کی ملاقات کے لئے لندن سے پینسٹھ کلو میٹر دور واقع وزیراعظم کے ایک اور دفتر میں انجام پائے تو بہتر ہوگا۔ تھریسا مئے نے اپنے سفیر کے ذریعے ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ملکہ برطانیہ سے بکھینگم پیلیس میں ملاقات کرنے کے بجائے وینڈسر قلعے میں ملاقات کریں۔
برطانیہ کے دسیوں ہزار افراد نے اعلان کیا ہےکہ وہ ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاجی مظاہرے کریں گے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ نے بھی ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد الگ الگ موقف اپنایا ہے اور بیشتر ذرائع ابلاغ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانوی عوام ٹرمپ کے دورے سے خوش نہیں ہیں۔ ٹرمپ سے برطانوی عوام کی شدید ناراضگی کے باعث گذشتہ ایک سال کے دوران امریکی صدر کا دورہ برطانیہ تین بار ملتوی ہوچکا ہے۔ دوہزار سترہ میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف برطانوی شہریوں نے کئی بار لندن میں مظاہرے کئے ہیں جن میں زیادہ تر اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ٹرمپ کا دورہ برطانیہ منسوخ کیا جائے۔ رواں سال کے آغاز میں بھی ہزاروں برطانوی شہریوں نے ٹرمپ کے اقتدار کو ایک سال پورے ہونے کے موقع پر برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے باہر اجتماع کرکے ٹرمپ کے خلاف نعرے لگائے تھے۔
اس درمیان ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی ایک گھنٹے کے اندر اندر ہزاروں برطانوی شہریوں نے ٹرمپ مخالف کمپیئن میں شرکت کرکے لندن میں امریکی صدر کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کردیا ہے۔ جنگ مخالف اتحاد نے جو ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کا سب سے بڑا مخالف گروپ ہے کہا ہے کہ ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لئے بیس لاکھ سے زائدلوگ اپنی آمادگی کا اعلان کرچکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲