17 مارچ 2018 - 18:00
سعودی عرب ایک خاص شیعہ فرقے کا دفاع کیوں کرتا ہے؟/ ایرانی سفارتخانے پر حملہ بن سلمان کی حمایت سے انجام پایا

انگریزی فرقہ اہل سنت کے مقدسات کی توہین کرتا ہے، سنی برداران کو بھی جان لینا چاہئے کہ توہین کرنے والے اسی فرقے کے پیروکار ہیں اور کوئی بھی شیعہ کسی بھی فرقے کے مقدسات کی توہین کو جائز نہیں سمجھتا؛ جیسا کہ رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا۔ ہم بھی اعلان کرتے ہیں کہ جس فرقے کو لندن اور ریاض کی حمایت حاصل ہے، ہم نے بھی اس کو مسترد کر دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ کے مطابق، عالمی تقریب بین المذاہب اسمبلی کے ثقافتی نائب سربراہ اور وحدت مسلمین تحقیقاتی مرکز کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر نبویان نے شیرازی ـ انگریزی فرقے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

کچھ دن قبل شیرازی فرقے کے پیروکاروں نے لندن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے پر حملہ اور قبضہ کیا۔ یہ واقعہ لندن پولیس کی آنکھوں کے سامنے پیش آیا لیکن پولیس نے ان کو نہیں روکا اور لوگوں کو معلوم ہؤا کہ اس کے بعد والے دن آسٹریا میں ایرانی سفارتخانے پر حملہ کرنے والے شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا [جو وہابی ـ سلفی افکار کا حامل تھا] لیکن سوال یہ ہے کہ لندن میں شیرازی فرقے نے کیوں اتنی آسانی سے سفارتخانے پر حملہ کیا؟ [ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس بات کا کیا مطلب ہوسکتا ہے کہ ایک دن شیرازی فرقے کے پیروکار لندن میں ایرانی سفارتخانے پر حملہ کرتے ہیں اور دوسرے روز سعودی فرقے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ویانا میں ایرانی سفارتخانے کو نشانہ بناتا ہے؟]

چند نکات یہاں قابل توجہ ہیں:

1-  رہبر معظم کا یہ قول ثابت ہؤا کہ یہ لندنی شیعہ ہیں؛ لندن پولیس کی طرف سے اس فرقے کی حمایت، اس فرقے کو ایک بڑی عمارت کی عطائیگی، [اور صہیونیوں اور انگریزی نمائندوں کی طرف سے عمارت کی خریداری میں اس فرقے کی مدد و حمایت] وغیرہ سب اسی حقیقت کے ثبوت ہیں۔ برطانیہ کے لئے اس فرقے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلانے میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہے۔

2- اس فرقے کے حامیوں نے ایرانی پرچم کو نیچے اتارا جس سے معلوم ہؤا کہ یہ فرقہ اسلامی حکومت کا ہی نہیں بلکہ ایرانی قوم کا بھی دشمن ہے۔

3- سعودی ولیعہد بن سلمان لندن پہنچتا ہے تو سفارتخانے پر لندنی فرقے کا قبضہ ہے اور سفارتخانے پر قبضے کے واقعے کی آڑ میں سعودی ولیعہد اسلحہ خریدنے کے بڑے مفاہمت ناموں پر دستخط کرتا ہے؛ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرقے کے انگریزی حکومت کے علاوہ سعودیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

4- انگریزی فرقہ اہل سنت کے  مقدسات کی توہین کرتا ہے، سنی برداران کو بھی جان لینا چاہئے کہ توہین کرنے والے اسی فرقے کے پیروکار ہیں اور کوئی بھی شیعہ کسی بھی فرقے کے مقدسات کی توہین کو جائز نہیں سمجھتا؛ جیسا کہ رہبر معظم انقلاب نے اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا۔ ہم بھی اعلان کرتے ہیں کہ جس فرقے کو لندن اور ریاض کی حمایت حاصل ہے، جبکہ اس کو ہم نے مسترد کردیا ہے۔

5- یہ فرقہ دعوی کرتا ہے کہ گویا اہل بیت علیہم السلام کا دفاع کر رہا ہے! ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر تم سچ بولتے ہو تو بتاؤ کہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے حرم کے دفاع میں تمہارے کتنے افراد شہید ہوئے؟ تم کس کس محاذ میں موجود رہے؟ اسلام اور اہل بیت کے دشمنوں کے خلاف کس لڑائی میں شریک ہوئے؟ جب عراق میں داعش حرم اہل بیت کے قریب پہنچ گئی تم کہاں تھے؟

۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ تمہارے نعرے سب جھوٹے ہیں۔

ہمارا سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ جس سعودی عرب نے وہابیت کی بنیاد رکھی ہے اور شیعیان اہل بیت کی تکفیر کا ارتکاب کیا ہے، شیعوں اور سنیوں کے سر قلم کرتا ہے، تکفیری جماعتوں کی بنیاد رکھتا ہے اور ان کی حمایت کرتا ہے، وہ ایک خاص فرقے کی حمایت و دفاع کیوں کرتا ہے جبکہ یہ فرقہ بھی شیعہ کہلواتا ہے؟

شیعہ اور سنیوں کو جان لینا چاہئے کہ جو لوگ وحدت شکن موقف اپناتے ہیں، غلط نعرے لگاتے ہیں انہیں ایران کے اسلامی نظام اور مسلم عوام کی تائید حاصل نہیں ہے۔

یہ فرقہ جو سعودی عرب اور لندن کا حمایت یافتہ ہے اور اہل سنت نیز اہل تشیّع کے مقدسات کی توہین کرتا ہے، اسلام دشمن ہے۔ چنانچہ جو لوگ سعودی دولت پر پلتے ہیں ـ خواہ بیرون ملک خواہ اندرون ملک ـ خائن اور غدار ہیں۔

آخری نکتہ یہ ہے کہ:

دنیا کی مسلم قومیں جان لیں کہ تفرقہ اور انتشار کے داعی کفار کے کٹھ پتلی اور ایجنٹ ہیں اور رہبر معظم کے قول کے مطابق انگریزی شیعہ اور امریکی سنی، مسلمان نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲